.

مصر کا اسلامی انقلاب خطرات کا شکار

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے التحریر اسکوائر کو دنیا میں اُس وقت شہرت حاصل ہوئی جب یہ اسکوائر صدر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران مصر میں آنے والے انقلاب کا مرکز بنا، لاکھوں مظاہرین نے دن رات یہاں ڈیرے ڈال کر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا اور ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے، آخرکار اِن کی جدوجہد رنگ لائی اور ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو عوامی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد فوج نے عارضی طور پر اقتدار سنبھال کر انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔2011ء میں ہونے والے انتخابات میں انقلاب میں پیش پیش اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی جس نے ایوان میں تقریباً 50 فیصد نشستیں حاصل کیں لیکن فوج اس تذبذب کا شکار رہی کہ آیا وہ ملک کی باگ ڈور ایک اسلام پسند جماعت کے حوالے کرے یا نہیں مگر عوامی دباؤ کے آگے فوج کو مجبوراً اقتدار فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار محمد مرسی کو سونپنا پڑا اور اس طرح یکم جولائی 2012ء کو محمد مرسی نے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس سے ملک میں پہلی بار حقیقی جمہوریت کا آغاز ہوا۔ مرسی حکومت کو شروع دن سے ہی ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے دور کی فوج اور عدلیہ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں مشکل اور ناپسندیدہ فیصلے کرنا پڑے۔ مصری صدر کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے فوجی طاقت کے دباؤ میں آنے کے بجائے حلف اٹھانے کے ایک ماہ بعد ہی ڈکٹیٹر حسنی مبارک دور کے مسلح فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کو برطرف کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ واضح ہو کہ حسین طنطاوی حسنی مبارک کو اقتدار سے باہر کئے جانے کے بعد قائم کی گئی عبوری حکومت کے سربراہ تھے۔ فوجی سربراہ کی برطرفی کے بعد صدر مرسی کا دوسرا اقدام ڈکٹیٹر حکومت کے اٹارنی جنرل کو فارغ کرنا تھا۔ ان کے بقول ملک کی عدلیہ ڈکٹیٹر دور کے ایسے ججز پر مشتمل ہے جو اسلامی حکومت کی مخالف ہے اور حکومتی فیصلوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”انقلاب اور انقلابیوں کا مطالبہ ہے کہ حسنی مبارک کے دور کی تمام باقیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے“۔ صدر کے ان جرأت مندانہ اقدامات کو عوامی سطح پر سراہا گیا۔

ابھی جمہوری حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ صدر محمد مرسی کے اپنے اختیارات کو توسیع دینے کے حکم نامے اور نئے آئینی مسودے پر 15 دسمبر کو ریفرنڈم کرانے کے اعلان نے مصر کو نئے بحران سے دوچار کردیا جس کے بعد صدر مرسی کو حزب اختلاف کی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی مخالفت میں نہ ختم ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کا مرکز بھی التحریر اسکوائر تھا۔ حکومت مخالفین جن کی اکثریت لبرل، سیکولر اور غیر مسلم مصریوں پر مشتمل ہے کا موقف ہے کہ صدر مرسی کا اختیارات میں اضافے کا حکم نامہ اور مصر کے نئے آئینی مسودے پر ریفرنڈم کا اعلان مصری عوام کے سیاسی اور مذہبی آزادی کے خلاف اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے منافی ہے تاہم مصری صدر کا کہنا ہے کہ وہ ان اقدامات سے انقلاب کو تحفظ دے رہے ہیں۔ دوسری طرف صدر مرسی کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ ”مصر اسلامی ملک ہے، یہ کبھی سیکولر یا لبرل نہیں ہوگا“۔ واضح ہو کہ صدر مرسی کی حمایت اور مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اب تک 7/افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ملک کی بگڑتی صورتحال پر فوج بھی تشویش کا شکار ہے اور اس نے صدر مرسی کے نئے اختیارات اور ریفرنڈم کے تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج مصر کو تاریک سرنگ میں جانے سے روکنے کیلئے مداخلت کرے گی۔ بالآخر مصری صدر کوعدلیہ کی مزاحمت، فوج کے انتباہ اور اپوزیشن کی جانب سے شدید دباؤ کے باعث اپنے اختیارات میں اضافے کا حکم نامہ کالعدم قرار دینا پڑا تاہم انہوں نے مصر کے نئے آئینی مسودے پر ریفرنڈم کو برقرار رکھا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی کا میں اُس وقت سے مداح ہوں جب مجھے میرے عمرے کی ادائیگی کے بعد مکہ مکرمہ میں کئی عشروں سے مقیم میرے قریبی دوست سمیع اعوان نے اُن سے منسوب ایک واقعہ سنایا۔ مکہ مکرمہ میں رمضان المبارک کی27 ویں شب کو ہونے والے او آئی سی کے خصوصی اجلاس جس میں اسلامی ممالک کے تمام سربراہان مدعو تھے میں شرکت کیلئے صدر مرسی جب مصر سے روانہ ہونے لگے تو ان کی اہلیہ اور بچوں نے صدارتی طیارے میں ان کے ساتھ جانے اور عمرے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن صدر نے انہیں یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ”یہ سرکاری طیارہ ہے جسے وہ اپنی فیملی کیلئے استعمال نہیں کرسکتے، اگر وہ عمرے پر جانا چاہتے ہیں تو زیادہ بہتر ہے کہ معمول کی پرواز سے مکہ مکرمہ جائیں اور عام آدمیوں کی طرح عمرہ کریں“۔ جس کے بعد صدر مرسی کی فیملی معمول کی پرواز سے مکہ مکرمہ پہنچی اور بغیر کسی پروٹوکول کے عمرے کی سعادت حاصل کی۔

15 دسمبر کو مصر میں ہونے والے ریفرنڈم میں اگر عوام کی اکثریت کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا تو اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرکے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرسکتی ہے جس کے بعد فوج جو پہلے ہی مداخلت کا عندیہ دے چکی ہے کو اقتدار پر قابض ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ صدر مرسی کو ترکی کی مثال سامنے رکھنا چاہئے جہاں اسلام پسند جماعت جسٹس پارٹی جب برسراقتدار آئی تو اسے فوج کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ایک موقع ایسا بھی آیا جب وزیراعظم رجب طیب اردگان کی اہلیہ جو ہمیشہ سر پر اسکارف اوڑھے رکھتی ہیں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ترکی کی خاتون اول اسکارف نہیں اوڑھ سکتی مگر رجب طیب اردگان نے حکومت مخالفین سے الجھنے کے بجائے ملکی معیشت کی بہتری پر توجہ دی اور مخالفین کی اس سوچ کی نفی کی کہ اسلام پسند جماعتیں ملک کو ترقی کی طرف گامزن نہیں کرسکتیں، جس کے بعد ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ان کی جماعت گزشتہ انتخابات میں زیادہ اکثریت سے کامیاب ہوکر دوبارہ برسراقتدار آئی اور فوج کو اقتدار پر قابض ہونے کا موقع ہاتھ نہ آنے دیا۔

انقلاب کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی، مصر کا انقلاب بھی دنیا میں آنے والے دوسرے انقلابات سے مختلف نہیں۔ 2 سال قبل آنے والے اس انقلاب نے بہت جلد ایک ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو اقتدار سے باہر کرکے اپنا ایک مقصد تو ضرور حاصل کرلیا مگر ملک کی اکثریت کو ایک جمہوری طرز حکومت نہ مل سکی جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔90 ملین کی آبادی رکھنے والا ملک مصر جس کی15 فیصد آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے کی موجودہ صورتحال کو دنیا خصوصاً اسلامی ممالک میں تشویش کی نظر سے دیکھا جارہا ہے، ایسا لگتا ہے مصری قوم 2 حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے، ایک طرف حکومت کے حامی ہیں جن کا موقف ہے کہ مصر اسلامی ملک ہے جو کبھی سیکولر یا لبرل نہیں ہوگا جبکہ دوسری طرف حکومت مخالفین ہیں جو ملک کو ایک سیکولر اور لبرل ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ مصری فوج کی اکثریت بھی سیکولر اور لبرل سوچ رکھنے والوں پر مشتمل ہے۔

مصر میں آنے والا انقلاب بہت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا ہے۔ مصر میں تنازعات کی پالیسی پورے عرب Spring کو متاثر کرسکتی ہے اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا ہے کہ ان ممالک میں ڈکٹیٹر ہی ملک کو بہتر انداز میں چلاسکتے ہیں اور اسلامی جماعتوں میں ملک کو بہتر انداز میں چلانے کی صلاحیت نہیں۔ صدر مرسی کو چاہئے کہ وہ اختیارات کے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور ترکی کی مثال کو سامنے رکھ کر ملکی معیشت مضبوط بنانے پر توجہ دیں تاکہ اسکے ثمرات عوام تک پہنچیں جس کے بعد ان کی جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور فوج اور عدلیہ کو عوامی جذبات کا احترام کرنا پڑیگا۔صدر محمد مرسی اگر مصر کو ایک حقیقی جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں تو انہیں آزاد عدلیہ کا احترام اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بھی کرنا ہوگا جس کے بغیر انقلاب اور جمہوریت کا تصور بے معنی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.