.

اقوام عالم میں عزت و احترام کا مقام؟

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے ا ور ہونا بھی چاہئے کہ اسرائیل کے جاسوسی کے ادارے”موساد“ میں خدمات سرانجام دینے والے ایک عراقی یہودی جو شوا ہوریش نے اپنی یادوں کی کتاب میں اسرائیل کے بانی صدر ڈیوڈ بن گوریاں کا یہ قول نقل کیا ہے کہ”اگر اسرائیل کی ریاست قوموں کی عالمی برادری میں عزت و احترام کامقام حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی طوائفیں اور اپنے چور میدان عمل میں ا تارنے پڑیں گے“ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ طوائفوں اور چوروں کا میدان عمل کون سا ہوتا ہے لیکن اگر طوائفوں اور چوروں کو ان کے وسیع معنوں میں لیا جائے تو طوائفوں کا میدان عمل محض گانے بجانے ،رقص و سرور اور جسم فروشی تک ہی محدود نہیں رہے گا اور چوروں کا میدان عمل بھی محض چوری چکاری ،راہزنی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے احاطے میں ہی نہیں رہے گا بہت دور دور کے علاقوں میں پھیل جائے گا۔ انفرادی، اجتماعی اور قومی زندگی کے تمام شعبوں میں داخل ہو جائے گا بلکہ پوری ریاست اور سارے معاشرے کو اپنے قبضے میں لے لے گا۔ معیشت سے سیاست اور حکومت سے ریاست تک طوائف الملوکی پھیلائی جاسکتی ہے۔ بدنام طوائفوں کے مقابلے میں معزز اور واجب ا حترام طوائفیں بھی ہوتی ہیں ویسے ہی گھٹیا قسم کے کمینے چوروں کے علاوہ آنر ایبل چور بھی ہوتے ہیں۔ بعض چور عالمی شہرت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ عام طور پر چور وہ کہلاتا ہے جو پکڑا جائے مگر خاص قسم کے چور کبھی پکڑے نہیں جاتے کیونکہ وہ چور ی کرنے سے پہلے اپنے بچ نکلنے کا انتظام کر لیتے ہیں اور معاشرے میں ا ن کی اتنی زیادہ ع

زت ہوتی ہے کہ کوئی ان پر چوری کا شبہ نہیں کرسکتا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دولت کمانے والے سب لوگ چور ہوتے ہیں مگر ایک انگریزی محاورہ دنیا کی زبان میں موجود ہے کہ ہر”فار چون“ کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور ہوتا ہے۔ فارچون کے پیچھے جو بھی جرم ہوتا ہے وہ جرم نہیں خوش نصیبی کہلاتا ہے یا کچھ عرصے کے بعد جرم نہیں رہتا جیسے عہد حاضر میں رشوت، رشوت نہیں رہی”ارجنٹ فیس“ بن گئی ہے۔ ویسے ہی چوریاں کاروبار بن گئی ہیں اور جسم فروشی بعض معاشروں میں بنیادی انسانی حقوق کا حصہ بن چکی ہے جبکہ صہیونیت (انتہا پسند یہودیوں کے مسلک) میں جسم فروشی ملک اور قوم کی خدمت سب سے کارآمد حربے کے طور پر استعمال کی جاتی رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ جب اسرائیل کو وجود میں لانے کا فیصلہ کیا گیا اور دنیا بھر کے یہودیوں کو وہاں پہنچنے کا حکم دیا گیا تو عرب ملکوں نے اپنی سرزمین پر یہودیوں کے اترنے پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں چنانچہ یہودیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے تیراکی کے لباس میں سونا چھپا کر عرب ملکوں کے ساحلوں کو تیر کر عبور کریں گے ۔ اس فیصلے کے تحت بہت سارے یہودی عرب سرزمین تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں کے بھوکے اور غریب عربوں سے پراپرٹی خریدنے لگے۔ ان کی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں نے عرب ریگزاروں کے ہوسناک مردوں کی توجہ حاصل کی اور موشے دیان کی بیٹی کی یادوں کی کتاب کے مطابق اسرائیل کو وجود میں لانے کے لئے مرکزی کردار ادا کیا اور ڈیوڈ بن گوریاں کے بیان کردہ طریقہ سے اقوام عالم میں عزت و احترام کا مقام حاصل کیا۔

یہ اسرائیل کے اپنے چوروں کی کار گزاری ہے کہ وہ فلسطین کے نوے فیصد سے زیادہ علاقے پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور امریکی زیر اثر ادارہ اقوام متحدہ اس قبضے کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا کوئی قرارداد منظور نہیں کر سکتا ہے اور اگر منظور کربھی لے تو اس پر عملدرآمد نہیں کروا سکتا عملدرآمد سے انکار کرنے والوں کو توہین عدالت کا نوٹس بھی نہیں دے سکتا چنانچہ ڈیوڈ بن گوریاں کے اس بیان پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ”اسرائیل اگر عالمی برادری میں عزت و احترام کا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی طوائفیں اور اپنے چور میدان عمل میں اتارنے ہوں گے“۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.