.

عشق ممنوع کی ہیروئن بیٹل کی بھٹکتی ہوئی روح

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
”عشق ممنوع“ ترکی کا ایک سوپ ڈرامہ ہے جو عرب ممالک کے بعد پاکستان میں اردو میں ”ڈب“ کرکے دکھایا گیا چند ہفتے قبل اس کی آخری قسط چلی یہ ڈرامہ عوام میں سپرہٹ گیا اور اس نے گھر گھر میں ”کھڑکی توڑ “ رش لیا۔ ”عشق ممنوع “ کی ہیروئن بیٹل اپنے شوہر عدنان کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے اس کے بھتیجے بہلول کے ساتھ عشق پیچا لڑاتی ہے۔ بیٹل کی ماں فردوس بھی ایک بے وفا عورت ہے اس نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ اسی طرح بے وفائی کی تھی اب وہ ایک اور مالدار شخص کو پھانسنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے ۔ بہرحال ایک وقت آتا ہے کہ بہلول راہ راست پر آ جاتا ہے اور اپنے چچا عدنان کی بیٹی نہال کی محبت میں گرفتار ہو کر اس سے منگنی کر لیتا ہے اور شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بیٹل سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوتا وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ بہلول اس سے محبت نہیں کرتا، صرف یہی نہیں بلکہ ماں بیٹی دونوں بہلول اور نہال کی شادی رکوانے کیلئے سازشوں کا جال بچھانے لگتی ہیں۔ مجھے ان تمام مناظر میں بیٹل کی بے بسی اور خود فریبی پر ترس آنے لگتا ہے جن میں شکست خواب کے باوجود وہ بہلول کو بار بار کہتی ہے کہ ”تم مجھ سے محبت کرتے ہو تم مجھے اپنی زندگی سے کبھی نہیں نکال سکوگے !“ اور اس کے جواب میں بہلول ہر بار کہتا ہے ”بیٹل ، میں تم سے نہیں، نہال سے محبت کرتا ہوں “ مگر وہ کہتی ہے ”تم جھوٹ کہتے ہو، تم نہال سے نہیں مجھ سے محبت کرتے ہو “ اس خود فریبی کا نتیجہ بالاخر بیٹل کی خودکشی کی صورت میں سامنے آتا ہے تاہم وہ اپنے ساتھ بہلول اور نہال دونوں کو لے ڈوبتی ہے کیونکہ راز افشا ہونے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں !

مجھے لگتا ہے اس ڈرامے کی کہانی صرف بیٹل کی نہیں ہم سب کی کہانی ہے ہم سب کے اندر بیٹل کی روح بھٹک رہی ہے ہم میں سے کون ہے جو خودفریبی میں مبتلا نہیں ! باقیوں کو چھوڑیں خود مجھے اپنے بارے میں یقین ہے کہ میں پاکستان کا مقبول ترین شاعر ہوں، یہ فیض ، ندیم، نیئر، ظفر، جون، فراز کیا بیچتے ہیں آپ سروے کرا کے دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگ ان سے نہیں مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔ لیکن جب ان شاعروں کے تذکرے میں میرا کہیں نام نہیں آتا تو میں اسے نقادوں کی بددیانتی تصور کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ بلند آواز میں کہنے لگتا ہوں ”لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں، میں سب سے بڑا شاعر ہوں “ یہی معاملہ ٹی وی کے اینکر پرسنز کا بھی ہے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ اس کے پروگرام کی ریٹنگ سب سے زیادہ ہے اور جس طرح بیٹل، بہلول کی زبان سے نہال کی محبت کا احوال سننا برداشت نہیں کرتی اسی طرح میرے یہ اینکر دوست بھی کسی دوسرے اینکر کے بارے میں کلمہ خیر سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کے کسی ساتھی پر قاتلانہ حملہ ہو جائے تو ان کی اکثریت محفلوں میں اس کا جواز تلاش کرنے لگتی ہے ۔ بیٹل کی روح زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرداں نظر آتی ہے ایک اداکار دوسرے اداکار کو خود سے بہتر نہیں سمجھتا ۔ایک ڈاکٹر کسی دوسرے ڈاکٹر کی برتری ماننے کے لئے تیار نہیں ایک انجینئر، ایک مصور، ایک گلوکار ، ایک موسیقارغرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں یہ ”بیٹل “ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ” تم مجھ سے محبت کرتے ہو، تم مجھ سے محبت کرتے ہو “ حتیٰ کہ علمائے کرام بھی اپنے ہم عصروں میں سے کسی کو بھی خود سے بڑا عالم ماننے کے لئے تیار نظر نہیں آتے یہ ان کی ”بیٹل “ کی مجبوری ہے ۔

سچ پوچھیں تو مجھے اب ”محبت “ کے لفظ سے کچھ الرجی سی ہونے لگی ہے، ہم سب لوگ صرف اور صرف اپنی محبت میں گرفتار ہیں، ایک رومانوی ”کپل “ بھی ایک دوسرے سے زیادہ تر یہی پوچھتا نظر آتا ہے ”تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو “ اگر زبان سے نہ بھی کہے تو بھی جہاں وہ کسی سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے دراصل وہاں سے بھی اپنے لئے محبت تلا ش کر ر ہا ہوتا ہے ”عشق ممنوع “میں بیٹل ، بہلول سے بہت کم کہتی ہے کہ ”میں تم سے محبت کرتی ہوں “ وہ اگر کہتی ہے تو یہ کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو “ ہمارے حاکموں کی نفسیات بھی یہی ہے ہمارے تمام آمر اور جمہوری حکمران ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ عوام ان سے محبت کرتے ہیں اس کی تازہ ترین مثال پی پی پی کی موجودہ حکومت اورجنرل (ر)پرویز مشرف ہیں۔ یہ دونوں ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ عوام ان سے بیزار ہیں، ہوتے رہیں مگر وہ یہی کہتے نظر آئیں گے ”تمہیں مجھ سے محبت ہے ، تمہیں مجھ سے محبت ہے “اور اگر سچ پوچھیں تو کچھ یہی احوال سیاسی جماعتوں کا بھی ہے یہ جماعت خود کو پاکستان کی مقبول ترین جماعت سمجھتی ہے تاہم اس خودفریبی میں سب سے زیادہ تحریک انصاف مبتلا ہے ۔ لاہور کے شاندار جلسے کے بعد بظاہر یہی لگتا تھا کہ تحریک انصاف عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے لیکن جب اس کے تضادات سامنے آنا شروع ہوئے تو لوگ پیچھے ہٹتے چلے گئے ، ہونا تو یہ چاہئے کہ تحریک کی قیادت اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا جائزہ لے اور سوچے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ مگر یار لوگ اسے خود فریبی سے نکلنے ہی نہیں دیتے ۔ چنانچہ یہ جماعت ابھی تک ”مجھے تم سے محبت ہے ، مجھے تم سے محبت ہے “ کی گردان سننے کے لئے بے تاب نظر آتی ہے اور اگر کوئی انہیں خوابوں کی بجائے حقیقت کی دنیا میں آنے کے لئے کہے تو ان کے بقول وہ ”بکاؤ مال“ ہے ورنہ وہ اس جماعت سے اختلاف کیوں کرتا ہے ؟

ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ ہم بیٹل کے انجام سے عبرت پکڑیں کیونکہ خود فریبی بالاخر خود کشی کی طرف لے جاتی ہے ۔

اے این پی … بہادروں کی جماعت اے این پی کے سینئر رہنما بشیر احمد بلور کو ایک خودکش دھماکے میں شہید کر دیا گیا ہے اس سے پہلے اے این پی کے ایک اور اہم رہنما میاں افتخار حسین کے جواں سال صاحبزادے کو شہید کر دیا گیا تھا ۔اے این پی کے پانچ میں سے زیادہ کارکن بھی شہادت کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، ہلاکتوں کا یہ سلسلہ اگرچہ پورے پاکستان میں جاری ہے لیکن اے این پی کی لیڈر شپ کا یہ اعزاز ہے کہ وہ ایک شہادت کے بعد دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے یا گھر میں مقید رہنے کی بجائے سینہ تان کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اے این پی کی قیادت حقیقی خطرے کے باوجود عوام کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے ، میں ایک ہزار ایک اختلافات کے باوجود بہادروں کی اس جماعت کو سلام کرتا ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.