.

قیامت ٹل گئی

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
میڈیا پر قیامت کی خبریں نشر ہو رہی تھیں۔21 دسمبر بروزجمعہ قیامت کو آنا تھا مگر جمعہ گزر گیا اور قیامت نہیں آئی۔ اس موضوع پر میری ایک سہیلی سے بات ہوئی تو اُس نے بڑی سادگی سے کہاکہ جمعہ کے روز میری ساس آئی تھی ۔۔۔ جب امریکہ جیسی سپر پاور غیر محفوظ ہو جائے، زمینی و قدرتی آفات و مصائب کا شکار ہو جائے، غربت اور بیروزگاری سے دوچار ہو جائے، امن و سکون سوالیہ نشان بن جائے، طاقتور حکومت بھی لاچار ہو جائے، تو سمجھ لو قیامت قریب ہے۔ لوگ دہشت گردی کو الزام دیتے ہیں جبکہ ہمیں تو ہر طرف قیامت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کسی کو قیامت کے قریب ہونے میں رتی بھر شبہ ہے تو وہ خودکش حملہ آوروں کی کھوپڑیاں دیکھ لے، دہشت گردوں کا انتقام دیکھ لے، بے گناہوں کے لاشے دیکھ لے، معصوم بچوں کا لہو دیکھ لے، بے حس حکمرانوں اور کرپٹ انسانوں کے شرمناک اعمال دیکھ لے، الغرض دنیا میں جس طرف دیکھو گے، قیامت کے ٹریلر دکھائی دیں گے۔ قیامت کی سب سے بڑی نشانی وقت کی تیز رفتاری ہے۔ کیلنڈر کی تاریخیں اور گھڑیوں کی سوئیاں جس تیزی کے ساتھ بدل رہی ہیں، چند سال پہلے تک یہ صورتحال نہ تھی۔ انسان وقت کی طرح گزر رہا ہے اور وقت پر لگا کر اُڑ رہا ہے۔ ہر کوئی جلدی میں ہے مگر کسی کو علم نہیں کہ اسے جانا کہاں ہے۔ ہر کوئی مسافر ہے مگر کسی کو پتہ نہیں کہ منزل کہاں ہے۔

ہزاروں برس قبل دنیا کی قدیم تہذیب ”مایا“ نے اپنے کیلنڈروں کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ21 دسمبر 2012ءکو دنیا ختم ہو جائے گی۔ اندازے لگانے والوں کا اندازہ کافی حد تک درست ثابت ہُوا۔ غیب کا علم خداکے پاس ہے مگر انسانی عقل بھی عطیہ خداوندی ہے۔ انسانی عقل نے کائنات کے خاتمے سے متعلق جو حساب کتاب لگائے، اس کے ٹریلر ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال امریکہ کا سینڈی طوفان ہے۔ قرآن اور احادیث مبارکہ میں قیامت کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ زمین بچے کے جھولے کی طرح جھولے گی، کبھی اوپر اور کبھی نیچے، یہاں تک کہ اس کے اوپر جو کچھ ہے، مکانات، درخت، پہاڑ، سب جڑ سے اکھڑ کر گر جائیں گے حتیٰ کہ زمین دریاﺅں اور سمندروں کا پانی بھی اُگلنا شروع کر دے گی۔ سونامی، قطرینہ، سینڈی سمندری طوفان، تباہ کن زلزلے، سیلاب، ہَوائیں، برفانی طوفان، بے موسمی موسلا دھار بارشیں، موسموں میں تغیّر اور وقت کی سبک رفتاری جیسی علامات قیامت کا ٹریلر پیش کرتی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مال و دولت کی فراوانی نہیں ہو جائے گی اور فراوانی بھی اس طرح کی ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰة نکالے گا لیکن اس کو لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک عرب کی سرزمین باغ و بہار اور نہر والی نہیں بن جائے گی (مسلم) ۔

معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو قیامت ابھی دور دکھائی دیتی ہے مگر اعمال کو دیکھا جائے تو قیامت سر پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے پہلے کہ قیامت کی علامات، نشانیاں، ٹریلر مزید قوت پکڑ جائیں، انسان کو اپنی عاقبت کی فکر کر لینی چاہئے۔ ”دنیا کی زندگی تو ایک کھیل تماشہ ہے، حقیقت میں آخرت کا ہی مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو نقصان سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے؟ (الانعام) زندگی ایک کھیل تماشہ سے مراد یہ نہیں اس زندگی کو صرف لطف اندوز ہونے والی چیز سمجھا جائے اور اس کو سنجیدہ نہ لیا جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار دنیا کی طرف واپس ہو جائے۔ یہ سب کھیل جو دنیا کی چند روزہ زندگی میں کھیلے جا رہے ہیں، موت کی گھڑی آتے ہی ختم ہو جائیں گے اور ایک لمحے میں انسان اس دنیا سے اُس دنیا میں پہنچ جائے گا جہاں سب کچھ حقیقت ہو گا اور مستقل ٹھکانا ہو گا اور جہاں انسان کو اس کی اصل صورت دکھائی جائے گی کہ وہ کیا ہے اور کیا بنتا تھا۔ یہ دنیا محض تماش بینی کے لئے نہیں بنائی گئی بلکہ اس میں پیش آنے والے واقعات، سانحات اور آفات قیامت کے ٹریلر پیش کرتے ہیں تاکہ تم اصل قیامت کے تصور کو محسوس کر سکو مگر افسوس تم تو بہرے اور گونگے ہو چکے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں، وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں“ (الانعام)۔ آنکھیں کھول کر دیکھو، تمہارے اطراف نشانیاں ہی نشانیاں ہیں۔ قیامت کی حتمی تاریخ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اس نے اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا علم عطا نہیں کیا البتہ قیامت کی نشانیاں بتا دی گئیں۔ قیامت آنے سے پہلے اس کے ٹریلز زمینی و قدرتی آفات کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔21 دسمبر 2012 کا دن بھی خیریت سے گزر گیا۔ انسان کی پیشگوئی پر خوفزدہ انسان آج بہت خوش ہے کہ قیامت کی گھڑی ٹل گئی۔ لیکن میری سہیلی نے بتایا کہ اس کی ساس اگلے ہفتے پھر آ رہی ہے اور اس بار وہ ایک مہینہ قیام کرے گی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.