.

کیا محمد مرسی واقعی آمر ہے؟

اسد احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
محمد حسنین ہیکل مصر کے نہایت معروف صحافی ہیں، انھیں مصری اپنا والٹر لیپ مان کہتے ہیں جو امریکا کے بزرگ صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ مصری صدرجمال عبدالناصر اور انورسادات کے کافی قریب رہے ، جب انور سادات سے کسی معاملے پر اختلاف ہوا تو جیل کی ہوا بھی کھائی۔میڈیا اور مغرب کے تعلق پرمحمد حسنین ہیکل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ مغرب میڈیا پر اس قدر کامل دسترس رکھتا ہے کہ وہ جب چاہے تیسری دنیا کے کسی بھی رہنما کو سارے جہاں میں بدنام کرنے کی مہم چلا کر پنجرے میں بند پرندے کی طرح بے بس کردے ۔

ہم نے ذرایع ابلاغ کی اس قوت کا عملی مظاہرہ سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف بھی دیکھا جب انھیں نہ صرف ایک نہایت سفاک شخص اورآمر مطلق کے روپ میں پیش کیا گیا بلکہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا پروپیگنڈہ کرکے حملے کا اسٹیج بھی تیار کیا گیا ۔ حالیہ دنوں میں مصری صدر محمد مرسی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا تمام تر مرکز ہیں ۔اسرائیل نے غزہ میں 150 افراد بلاجواز قتل کیوں کیے ؟ بشارالاسد شام میں کیا ستم میں ڈھا رہا ہے؟اور امریکا میں ہر کچھ عرصے بعد فائرنگ کے واقعے میں درجنوں افراد کیوں اورکن عوامل کے سبب قتل کردیے جاتے ہیں؟اس سب سے قطع نظر اس وقت صرف مصری تاریخ میں پہلی بار عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونیوالے صدر محمد مرسی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نشانے پرہیں اور انھیں حسنی مبارک سے بھی بڑے آمر کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے ۔

مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے صرف ایک واقعے کا ذکر ضروری ہے ۔ یہ واقعہ نئے آئین پر ریفرنڈم سے قبل 30نومبر بروز جمعتہ المبارک کو پیش آیا، محمد مرسی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے قاہرہ کی مسجد شربتلی تشریف لے گئے۔مسجد کے خطیب نے خلاف معمول خطبے کے دوران صدر مرسی کی جانب سے جاری کیے گئے آئینی اعلامیے کا ذکر کیا جس پر مسجد میں موجود چند افراد نے، جن کی تعداد دس سے بھی کم تھی، اعتراض کیا۔خطبہ جمعہ کے دوران خطیب کو ٹوکنا ایک نامناسب فعل سمجھا جاتا ہے لہٰذا دیگر نمازیوں نے مداخلت کرکے معاملے کو رفع دفع کر دیا۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مصری صدرخود آگے بڑھے اور نمازیوں کو اپنے موقف سے آگاہ کیا ۔انھوں نے معترض افراد کو اپنے پاس بلایا اور انھیں نہ صرف صدارتی حکم نامے کی نوعیت کے بارے میں بتایا بلکہ واضح کیا کہ وہ عدالتوں کی آزادای کے پوری طرح قائل ہیں اور نئے آئینی مسودے پر عوامی ریفرنڈم کے بعد وہ ان اختیارات سے دستبردار ہو جائیں گے (مرسی ان اختیارات سے ریفرنڈم سے قبل ہی دستبردار ہو گئے تھے)۔

ان افراد کے تحفظات دور کرنے کے بعد صدر مرسی اور مسجد میں موجود نمازی حضرات وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن اس کا کیا کیجیے کہ جب محمد مرسی مسجد میں کھڑے ہوکر چند افراد کے تحفظات دور کر رہے تھے تو بین الاقوامی ذرایع ابلاغ یہ خبر نشر کر رہا تھا کہ مصر ی اپوزیشن کے ارکان نے محمد مرسی کا مسجد میں محاصرہ میںکرلیا ، محمد مرسی مسجد میںقید ہوکر رہ گئے اور مصری صدر کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے ۔سوال یہ ہے کہ محمد مرسی ایسا کون ساگناہ کربیٹھے ہیں کہ انھیں ایک ولن اور ڈکٹیٹر کے روپ میں پیش کیا جار ہا ہے اور کیا محمد مرسی واقعی مصر کے نئے حسنی مبارک ہیں جیساکہ رپورٹ کیا جارہا ہے ؟ مصر ی صدر کے خلاف سراپا احتجاج لوگ کون ہیں ؟کیا وہی لوگ جن کے ووٹوں سے محمد مرسی صدر منتخب ہوئے تھے یاپھر مبارک کی باقیات؟ اوریہ کہ مرسی نے عدالت کو دستور ساز اسمبلی توڑنے کے اختیار سے کیوں محروم کیا تھا؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا۔ 30 سال سے صدارتی محل پر قابض حسنی مبارک جب زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوئے تو اختیارات فوج کونسل کے پاس آ گئے۔

پارلیمانی انتخابات ہوئے تو 70 فیصد اسلام پسند ارکان اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہے ۔ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا کے انتخابات میں بھی اسلام پسند وں نے اکثریت حاصل کی ۔عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے نئے آئین کی تشکیل کے لیے 100 ارکان پر مشتمل دستورساز اسمبلی تشکیل دی۔ پارلیمانی انتخابات میں کامیابی اور دستور ساز اسمبلی کی تشکیل کے بعد آخری مرحلہ صدارتی انتخابات کا تھا۔ صدارتی انتخابات کے لیے اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے سینئیر رہنما خیرت الشاطر اور احتیاطاً محمد مرسی کے کاغذات بھی جمع کرائے ۔الیکشن کمیشن نے خیرت الشاطر جو کہ اخوان کی پہلی پسند تھے کو نااہل قرار دے دیا، یوں مرسی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے امیدوار ٹھہرے۔ سلفی جماعت النور پارٹی کے صدارتی امیدوار کو بھی نااہل قرار دے دیا گیا، اس کے برعکس حسنی مبارک کے سابق وزیر اعظم احمد شفیق اور سابق وزریر خارجہ امر موسیٰ کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ۔

صدارتی انتخابات کے لیے امیدواروں نے مہم شروع کی تو حسنی مبارک کے من پسند ججوں پر مشتمل عدلیہ نے نومنتخب مصری پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا بلاجواز حکم نامہ جاری کردیا اورملٹری کونسل نے صدارتی انتخابات سے محض چند روز قبل پارلیمنٹ تحلیل کرکے مصری عوام کو حیران و پریشان چھوڑدیا۔یوں پہلے خیرت الشاطر اور النور پارٹی کے امیدوار کی بلاجواز نا اہلی، پھر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے عدالتی فیصلے اور اس پر فوجی کونسل کی جانب سے عملدرآمد کے باوجود اسلام پسند قیادت نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور صدارتی انتخاب کے لیے اپنی مہم جاری رکھی۔ محمد مرسی نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے باوجود اپنی نزدیکی مسجد میں نماز کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا، ان کی اہلیہ نے خاتون اول کا لقب اختیار کرنے سے انکار کردیا۔ مصری صدر نے جب ایک حکم نامے کے ذریعے فوج کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی کا اعلان کیا تو پورے مصر میں ان کے فیصلے کا زبردست خیر مقدم کیا گیا اور اسے انقلاب کی تکمیل کی جانب بڑی پیشرفت قرار دیا گیا۔محمد مرسی بیرونی محاذ سے فارغ ہوئے تو انھیں ایک بار پھر داخلی سطح پر چیلنجز کاسامنا تھا۔مبارک دور کا مقرر کردہ پراسیکیوٹر جنرل مبارک کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں لے جانے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا ، دوسری جانب عوام کا مطالبہ تھا کہ وہ انقلاب دشمن افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں ۔

ادھر، دستور ساز اسمبلی اب نئے آئین کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھی ۔ایسے میں مبارک دور کے بھرتی کردہ ججوں پر مشتمل عدالت اس اپیل پر غورکررہی تھی کہ دستور ساز اسمبلی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کی بساط تو عدلیہ پہلے ہی سمیٹ چکی تھی اب اس کی نظریں دستو رساز اسمبلی پر تھی مگر مصری صدر نے عوامی توقعات اور امیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے نہ صرف پراسیکیوٹر جنرل کو برطرف کردیا بلکہ بروقت ایک اعلامیہ جاری کیا جس کی رو سے عدالت کو دستور ساز اسمبلی کو غیر قانونی قرار دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ اس اعلامیے کا مقصد اختیارات اپنے ہاتھ میںاکٹھا کرنا نہیں بلکہ مبار ک دور کی باقیات کے شر سے ملک و قوم کو محفوظ رکھتے ہوئے دستور سازاسمبلی کو یہ موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ ملک کو نیا آئین دے سکے ۔

یہی وجہ ہے کہ جہا ں انقلاب دوست عناصر نے مصری صدر کے فیصلے پرکسی قسم کی حیرت کا اظہار نہیں کیا وہیں انقلاب دشمن، مبارک کے حامی اور نام نہاد سول سوسائٹی فوری طور پر مصر ی صدر کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے ۔حقیقت حال یہ ہے کہ، مصری عوام واقف ہیںکہ صدر کے اقدامات کا مقصد انقلاب کی حفاظت ہے اور اس کا عملی مظاہرہ نئے آئینی مسودے پر ریفرنڈم کے پہلے مرحلے کے نتائج سے بخوبی کیا جا سکتا ہے جس میں تقریباً 57 فیصد ووٹ آئین کے حق میں اور 43 فیصد ووٹ مخالف میں ڈالے گئے ہیں، حالانکہ اپوزیشن نے بڑے پیمانے پر اس ریفرنڈ م کے خلاف مہم چلائی تھی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ No کے آپشن پر ووٹ دیں ۔محمد مرسی کے خلاف مہم میں تین شخصیات پیش پیش ہیں۔ محمد البرادعی، امر موسیٰ اور صباحی۔ مصری عوام کی اکثریت ان تینوں کے ماضی سے واقف ہیں ۔البرادعی نے آئی اے ای اے کے سربراہ کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر جو منفی کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اسی لیے جب حسنی مبارک کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد موصوف نے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہیں تو انھیں سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

امر موسیٰ طویل عرصے تک حسنی مبارک کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور صدارتی انتخابات میں انھیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر اب یہ بھی مصری صدر کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔تیسرا نام حمدین صباحی کا ہے، یہ جمال عبدالناصر کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں ،حسنی مبارک کے خلاف انھوں نے کافی جدوجہد کی اور صدارتی انتخابات میں تیسری نمبر پر رہے۔ امر موسیٰ اور محمد البرادعی کے مقابلے میں عوام میں ان کی مقبولیت نسبتاً زیادہ ہے اور اب یہ تینوں شخصیات مصر میں اسلام پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ایک پلیٹ فارم نیشنل سالویشن فرنٹ پر اکٹھی ہوگئی ہیں ۔بعض مبصرین مصر میںعوام کے نظریات کی بنیاد پر تقسیم کی بات کر رہے ہیں مگر ہمار ا کہنا صرف اتنا ہے کہ جب اسلام پسند جماعتیں اب مسلم دنیا میں جمہوری عمل کا حصہ بننے لگی ہیں تو پھر فیصلہ عوام پر چھوڑدیا جائے ،اگر عوام انھیں مسترد کرتے ہیں توان کی مرضی اور اگر منتخب کرتے ہیں تو اس عوامی فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ مصر میں بھی اگر عوام کی اکثریتی رائے کے احترام کے بجائے عدلیہ اور فوج کی مدد سے من مانے فیصلے لینے کی کوشش کی گئی تو اس کے بھی بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.