.

ون پاؤنڈ فش

وجاہت علی عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قسمت بڑی عجیب چیزہوتی ہے،آپ کی برسوں کی پلاننگ کو منٹوں میں الٹ پلٹ کر رکھ دیتی ہے،کبھی اچھا اور کبھی برا بدلاؤ لے کر یہ قسمت آپ کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر خود کو بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

کنیٹی کٹ کے کسی علاقے میں جہاں کرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لوگ اپنے معصوم بچوں کو اسکول چھوڑ کر جاتے ہیں اور کچھ ہی لمحوں میں ایک گن مین کے اسکول میں فائرنگ کرنے سے سیکڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل جاتی ہیں اورقصور صرف قسمت کا ہوتا ہے۔

قسمت جہاں کئی لوگوں کی زندگی میں برے موڑ لاتی ہے وہیں کچھ لوگوں کے لیے راتوں رات کامیابی، شہرت، پیسہ سب کچھ لے آتی ہے جیساکہ ایک سائوتھ کورین سنگر PSY کے ساتھ ہوا۔ دنیا میں روزہزاروں گانے سیکڑوں زبانوں میں ریلیز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی بہت بڑا انٹرنیشنل اسٹار نہ ہو دنیا بھر میں اس کے گانے مقبول ہونے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن PSY کی اچھی قسمت کی وجہ سے انھوں نے کورین زبان میں ’’گینگ نم‘‘ اسٹائل نامی گانا گایا اور اچھی قسمت کی وجہ سے ان کا یہ گانا راتوں رات یوٹیوب پر مقبول ہوگیا۔

PSYاکثر و بیشتر امریکا کے خلاف باتیں کرتے آئے ہیں یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوجیوں کو ’’سلومُوت ‘‘ آنا چاہیے تاکہ وہ بہت تکلیف سے مریں اس کے باوجود PSY امریکا میں راتوں رات مشہور ہوگئے۔ ایک عجیب وغریب گانا جس میں ایک ادھیڑ عمر آدمی ناچ ناچ کر کورین زبان میں سیاسی مسئلوں پر بات کر رہا ہے کیوں اور کیسے دنیا کا مقبول ترین گانا بن گیا؟ اس کا جواب صرف ’’قسمت‘‘ ہے۔

قسمت کو لے کر اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اچھی قسمت صرف ان لوگوں کے نصیب میں ہوتی ہے جو زندگی میں ملنے والے موقعے کے لیے تیار رہتے ہیں اور موقع ملنے پر اس کا پورا فائدہ اٹھالیتے ہیں۔

لوگ شاید یہ بھی بحث کریں کہ PSY کے گینگ نم اسٹائل گانے کو ہم راتوں رات کی شہرت نہیں کہہ سکتے کیونکہ پچھلے آٹھ سال سے وہ گانا گا ہی رہے ہیں اور ان کی میوزک ویڈیوز کم سے کم نارتھ کوریا میں مشہور بھی تھیں یعنی کلاس میں فرسٹ آیا بچہ صرف قسمت سے نہیں محنت سے اول آتا ہے اور اسی لیے PSY اپنی محنت سے آگے آئے ہیں اور قسمت محنت کے بعد آتی ہے۔

آپ کو کئی مثالیں ایسی ملیں گی جہاں کامیابی کا پورا سہرا قسمت کو دیا جاسکتا ہے، عاطف اسلم، علی ظفر، علی عظمت ان سب گلوکاروں کے نام آپ نے سنے ہوں گے، پاکستان کے Singing Sensation جو دنیا بھر میں مشہور ہیں، لیکن آج انٹرنیشنل لیول پر جو شخص پاکستانی پاپ میوزک کے حوالے سے سب سے زیادہ خبریں بنارہا ہے اس کا نام ہے شاہد نذیر۔۔۔۔۔۔یقینا آپ کا سوال ہوگا یہ کون ہیں؟

شاہد نذیر ایک اکتیس سالہ پاکستانی ہیں جو کچھ عرصہ قبل اسٹوڈنٹ ویزا پر لندن گئے ہیں، تعلیم مہنگی ہونے کی وجہ سے شاہد نے 2012 مارچ سے کلاسیں نہیں لیں لیکن اپنا گھر چلانے کے لیے انھوں نے لندن کی ایک فش مارکیٹ میں کام کرنا شروع کردیا۔ پاکستان میں آپ نے یقیناً سبزی فروٹ والوں کو یا پھر فش والوں کو اپنا سامان بیچنے کے لیے گلی گلی گاگا کر گاہکوں کو بلاتے دیکھا ہوگا۔ شاہد جوکہ ایک مارکیٹ میں فش کے اسٹال پر کھڑے ہوتے، اسی پاکستانی انداز میں گاگا کر اپنے کسٹمرز کو بلاتے، شاہد کے گانے کے بول تھے ’’ون پاؤنڈ فش‘‘ جو انھوں نے خود ہی بنایا تھا جس میں وہ اپنی مچھلی کی تعریف کرتے، سڑک سے گزرنے والوں کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔

شاہد نذیر ایسٹ لندن کی اس فش مارکیٹ کے اسٹار بن گئے، لوگ ان کے ساتھ آ آکر تصویریں کھنچواتے اور اسی طرح ایک دن مارکیٹ میں آئے شخص نے ان کے گانے کی ویڈیو بناکر یو ٹیوب پر ڈال دی۔ شاہد کی ’’ون پاؤنڈ فش مین‘‘ نامی ویڈیو پر ایک مہینے میں دو ملین وزیٹرز یوٹیوب پر آئے اور شاہد دنیا بھر میں مشہور ہوگئے۔ اس سب کا سہرا شاہد کی محنت کو نہیں قسمت کو جاتا ہے جو ان کے ساتھ تھی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی شہرت کے بعد جب شاہد نذیر انگلینڈ کے مشہور شو ’’ایکس فیکٹر‘‘ پر آڈیشن دینے گئے تو وہاں ججوں نے انھیں ریجکٹ کردیا جب کہ ہال میں بیٹھی پبلک شاہد کو دیکھ کر ایسے شور مچا رہی تھی جیسے بہت بڑا اسٹار آگیا ہو۔ اس کے باوجود ججوں نے ان کا انتخاب شو میں نہیں کیا، لیکن قسمت کا یہ موڑ بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ مسترد کیے جانے کی وجہ سے ان کا کسی ٹی وی چینل سے کوئی معاہدہ نہیں تھا، کچھ ہی دن بعد مشہور کمپنی ’’وارنرز ریکارڈز‘‘ نے انھیں پورا البم بنانے کا معاہدہ دے دیا۔

ایکس فیکٹر کے ججز نے شاہد نذیر سے معذرت کی اور کہا کہ ہمارے فیصلے میں غلطی ہوگئی، آپ کو شو میں چانس ملنا چاہیے تھا، لیکن جس کی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہو اسے کسی امریکن آئیڈیل یا ایکس فیکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پچھلے ہفتے شاہد نذیر کے پہلے گانے یعنی ’’ون پاؤنڈ فش‘‘ کی آفیشل ویڈیو ریلیز کی گئی جس میں وہ کئی خواتین کے ساتھ ایک انٹرنیشنل اسٹار کی طرح لندن کے مختلف علاقوں میں گانا گاتے نظر آرہے ہیں۔

دنیا بھر میں آج اس ویڈیو کا چرچا ہے ’’ون پاؤنڈ فش مین‘‘ انٹرنیٹ پر سرچ کرکے دیکھیں تو سی این این، بی بی سی سے لے کر سیکڑوں بیرون ملک نیٹ ورک شاہد نذیر اور ’’ون پاؤنڈ فش‘‘ گانے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔

شاہد کو اب ایک اور چیلنج کا سامنا ہے وہ یہ کہ وہ اسٹوڈنٹ ویزہ پر انگلینڈ میں کیسے جاب کررہے تھے؟ ہوسکتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی شاہد کو انگلینڈ سے ڈی پورٹ کردیا جائے، یہ قسمت کا موڑ ان کے لیے کیسا ثابت ہوگا یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا، لیکن جو بات پہلے ہی پتہ لگ چکی ہے وہ یہ کہ دلی کا ایک عام سا لڑکا بغیر سفارش اور پیسے کے ممبئی کے بولی ووڈ کا بادشاہ شاہ رخ خان بن سکتا ہے اور حالات سے تنگ شخص انجان شہر میں مچھلی بیچتے ہوئے بھی دنیا بھر میں Sensation بن سکتا ہے۔ اس لیے اگلی بار قسمت اگر کسی چیز میں آپ کا ساتھ نہ دے تو یاد رکھیے گا ہوسکتا ہے یہ زندگی کے کسی اگلے موڑ پر آپ کے لیے بہت سی خوشیاں اور کامیابیاں لے کر آپ کا انتظار کر رہی ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریش
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.