.

پاک انڈیا نئی و یزا پالیسی

محمد شعیب عادل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
14 دسمبر کودہلی میں پاک بھارت وزرائے داخلہ نے ایک تقریب میں نئی ویزا پالیسی کا افتتاح کر دیا۔اس سے پہلے آٹھ ستمبر کو اسلام آباد میں پاک بھارت وزراء خارجہ کے درمیان ایک نئی ویزا پالیسی کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔نئی ویزا پالیسی کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔اس سے دونوں ممالک کے عوام کا نہ صرف آپس میں رابطہ بڑھے گا بلکہ کاروبار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ نئی ویزا پالیسی کی اہم خصوصیات یہ ہیں کہ پندرہ جنوری سے پینسٹھ سال سے زائد عمر کے افراد کو واہگہ بارڈر پر ہی ویز ا مل جائے گا ۔ کاروباری حضرات جن کا کم ازکم ٹرن اوور تیس لاکھ روپے ہے وہ سال میں چار دفعہ وزٹ کر سکیں گے، طالب علم بھی ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کر سکیں گے اور سب سے بڑھ کر دونوں ملکوں میں سیاحتی ویزہ شروع کیا گیا ہے۔ اس پر عمل درآمد پندرہ مارچ سے شروع ہوگا۔ سیاحتی ویزہ ٹور آپریٹرز کے ذریعے ملے گا جیسے کہ ہمارے ہاں تھائی لینڈ ، ملائشیا، تاشقند کے لیے ٹور کمپنیاں ٹور ارینج کرتی ہیں۔ اب پاکستانی اور بھارتی شہری ایک دوسرے کے ملکوں کے سیاحتی مقامات کی سیر بھی کر سکیں گے۔اس ویزا پالیسی میں صحافیوں کو کوئی سہولت نہیں دی گئی حالانکہ پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم سیفما کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے صحافیوں کو ملانے کے لیے کام کر رہی ہے مگر اس کی سفارشات کو قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔

نئی ویزا پالیسی پر فوری طور پر فیس بک پر جو ردعمل آیا اس کے مطابق انڈین عوام پاکستان میں ہڑپہ، ٹیکسلا اور موہنجو ڈارو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد تاج محل دیکھنا چاہتی ہے۔ سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں پاکستان ابھی بہت پیچھے ہے۔ پاکستان کی ترجیحات میں سیاحت شاید کبھی سرفہرست نہیں رہی۔نائن الیون سے پہلے تک تو غیر ملکی سیاح پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیاحت کے لیے آتے رہے ہیں مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ نے رہی سہی سیاحت ہی ختم کر دی۔ سیاحت کے فروغ میں ریلوے کا بنیادی کردارہے مگر اس کی حالت انتہائی دگرگوں ہو چکی ہے۔سیاحت واحد شعبہ ہے جس میں حکومت بھاری رقم خرچ کیے بغیرنجی شعبے کے ذریعے اس کو ترقی دے کراربوں روپے سالانہ کما سکتی ہے۔ ضیاء الحق کے سیاہ دور کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھارت سے تعلقات بہترکرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ مگر مہم جو طاقتوں کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام ہوتی رہیں۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے جب اپنے پہلے دور میں راجیو گاندھی کو اسلام آباد بلایا تو ان کے خلاف ایک پراپیگنڈہ مہم شروع کر دی گئی تھی ۔ مہم جودانشوروں نے ہمیں بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے تو کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بس ڈپلومیسی کے ذریعے بہت اہم پیشرفت کی تھی مگر کارگل نے تمام محنت پر پانی پھیر دیا۔ پھرجنرل مشرف کے دور میں دونوں ملکوں کے درمیان پاک بھارت تعلقات میں بہت زیادہ پیش رفت ہوئی تھی جو عدلیہ بحالی کی تحریک کی نذر ہو گئی۔آصف علی زرداری نے صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی افغانستان اور بھارت کو دوست قرار دیا مگر کابل اور ممبئی حملوں نے ان کی تمام کاوشوں پر پانی پھیر دیا۔ اسے المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر دفعہ پاکستان کو تعلقات کی بحالی کا آغاز نئے سرے سے کرنا پڑتا ہے۔

جنرل مشرف کے دور میں پاک بھارت تعلقات میں اہم پیش رفت کشمیر میں پانچ مقامات پر سرحد کھولنا تھا جس سے دونوں اطراف کے رہنے والے کشمیری خاندان ایک دوسرے سے مل سکتے تھے بلکہ ان مقامات سے تجارت بھی شروع کی گئی۔ مگر مہم جو قوتوں کی طرف سے پروسیجرکے نام پر بہت سی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ عوام کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ہی یہاں کاروباری سرگرمیاں ہیں۔ اسی طرح سارک کانفرنس2004 میں یہ طے پایا تھا کہ پاکستان عوام کی سہولت کے لیے ممبئی اور حیدرآباد جبکہ بھارت لاہور اور کراچی میں بھی ویزا آفس کھولے گا مگر پاکستان کو ممبئی اور حیدرآباد میں ویزا آفس کے لیے جگہ نہ مل سکی لہٰذا یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

پاکستان آج جس معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے اس کے ذمہ دار ہمارے ڈکٹیٹرز اور ان کی

مہم جوئی پر مبنی پالیسیاں ہیں جن کی بدولت معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے۔ تعلیم و صحت سمیت ترقیاتی منصوبوں کی بجائے ریاستی وسائل ایٹم بم، میزائل اور ٹینکوں پر ضائع کر دیئے گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج 65 سال گذرنے کے بعد 40فیصد سے زائد عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد یا تو غربت کی وجہ سے ہلاک ہو رہی ہے یا وہ خودکش حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ریاستی وسائل دفاعی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

دوسری طرف بھارت ترقی کے کئی مراحل طے کرتا ہوا ہم سے تقریباً کئی سال آگے نکل چکا ہے اور ہم بدستور تاریک دور میں رہ رہے ہیں ۔بھارت کی ترجیحات اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ۔ثقافتی لحاظ سے بھارت تو پہلے ہی ترقی یافتہ تھا ۔ ہم مانیں یا نہ مانیں اس وقت ہم ثقافتی لحاظ سے بھارت کی نقل کرنے پر مجبور ہیں ۔ آج تو دائیں بازو کے اخبار اور ان کے دانشور جو بھارتی فلموں کو پاکستانی ثقافت پر حملہ قرار دیتے تھے آج بالی ووڈ کی سرگرمیاں شائع کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت نے صحت اورتعلیم کے شعبوں میں بھی حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ بھارت کی ترقی اور اس کی کامیابی کا راز اس کے جمہوری نظام میں پوشید ہ ہے، پارلیمنٹ بالاد ست ہے اور وہی پالیسیاں بناتی ہے۔ مسلسل جمہوری عمل کی وجہ سے اداروں کی تشکیل ہو چکی ہے جو بھارت کی سماجی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں جمہوری عمل کے تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان 1947 کی سطح پر کھڑاہے۔بھارت 1996 میں پاکستان کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے چکا ہے لیکن ہم تو تجارت کی بجائے پوری دنیا پر حکومت کا خواب دیکھ رہے تھے اور افغانستان میں دفاعی گہرائی ڈھونڈ رہے تھے۔

لیکن اب خطے کے بدلتے حالات نے پاکستان کو بھارت سے تجارت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا لیکن عملاً اسے یہ درجہ دے چکا ہے ۔ پاکستان نے تجارت کے لیے منفی لسٹ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب دونوں ممالک کے درمیان کوئی چھ ہزار آئٹمز کی تجارت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف بھارت نے اپنے صنعت کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی اجازت بھی دے دی ہے۔بھارت نے چند ماہ پہلے واہگہ بارڈر پر تجارت کے لیے انٹیگرییڈچیک پوسٹ بھی بنائی ہے ۔بھارت جو پچھلے بیس سالوں میں ایک طاقتور معاشی ملک کے طور پر ابھرا ہے نے حالیہ سالوں میں افغانستان میں چین کے ساتھ مل کراربوں ڈالر کی سرکایہ کاری کی ہے، اس وقت بھارت اور چین اس خطے میں سب سے بڑے کاروباری پارٹنر ہیں اور وہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرچکے ہیں۔ پاکستان کے نقطہ نظر میں تبدیلی کی بڑی وجہ چین کے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بھی ہیں۔ دونوں ملک افغانستان میں اہم کردار ادا کرنے جارہے ہیں۔ لہٰذا اب پاکستان کے پاس دوستی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ گیا۔ ہمیں واہگہ بارڈر کے ذریعے نہ صرف بھارت سے تجارت کرنا ہو گی بلکہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی بھی دینی ہوگی ۔ ہم خود تو کچھ کر نہیں سکتے راہداری اورسیاحت کے ذریعے ہی آمدن میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.