.

ٹوری کو پاکستانی ووٹوں کی ضرورت پڑ گئی

آصف ڈار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو راتوں رات یہ خواب نہیں آگیا کہ ان کی پارٹی کے لئے برٹش پاکستانیوں اور مسلمانوں سمیت نسلی اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ نیز یہ کہ ٹوری پارٹی کو نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ لوگوں کو آئندہ انتخابات میں آگے لانا اور پارٹی میں شامل کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم کی یہ سوچ 2010ء کے انتخابات میں ٹوری پارٹی کی ”ناکامی“ کی وجوہات جاننے کے بعد قائم ہوئی ہے اور اب ٹوری پارٹی کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ ایشیائی و سیاہ فام ووٹ حاصل کئے بغیر آئندہ انتخابات میں اس کی کامیابی ممکن نہیں ہو سکتی۔ 2010ء کے انتخابات کے بعد اگرچہ ٹوری پارٹی لبرل ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی مگر اس کو اس کا شدت سے احساس ہے کہ اگر اس نے نسلی اقلیتوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے ہوتے تو وہ کم از کم ان 20سے زیادہ مارجنل سیٹوں پر ضرور کامیابی حاصل کر لیتی جو ان 100لیبر سیٹوں میں شامل تھیں جن کو 2010ء کے انتخابات میں ٹوری نے مارجنل جانتے ہوئے ہدف بنایا تھا ان کو حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ ان میں سے 20مارجنل سیٹوں کے ووٹرز میں 15فیصد نسلی اقلیتی ووٹر ہیں اور ان سیٹوں پر ٹوری پارٹی لیبر سے بہت کم ووٹوں سے ہار گئی تھے۔ ٹوری پارٹی کے رہنما اور تھنک ٹینک ان 15فیصد ووٹوں کو اب انتہائی اہم سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر یہ 20سیٹس ٹوری کو مل جاتیں تو نہ صرف وہ انتخابات میں مکمل کامیابی حاصل کرلیتی بلکہ اس کو لبرل ڈیموکریٹس کے ساتھ اقتدار میں شراکت کا صدمہ بھی برداشت نہ کرنا پڑتا۔

ماضی میں ٹوری پارٹی روایتی طور پر سفید فام ووٹروں پر ہی اکتفا کرتی چلی آئی ہے اور اس نے 1997ء کے انتخابات سے قبل نسلی اقلیتوں کے انتخابات میں حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔ ان انتخابات نے لیبر پارٹی کی کلین سوئپ نے کنزرویٹو رہنماوٴں کی آنکھیں کھول دیں جس کے بعد اس پارٹی کا رحجان نسلی اقلیتوں کی جانب بھی ہونے لگا اور اس نے نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کو انتخابات میں اپنا امیدوار بھی بنایا مگر دوسری جانب اس کی مقامی پارٹیاں اور بعض مرکزی لیڈر بھی اس بات کے لئے تیار نہیں تھے کہ نسلی اقلیتوں کو پارلیمنٹ کے اندر لایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹوری پارٹی نے ایسٹ سرے میں اپنا پہلا سیاہ فام پارلیمانی امیدوار نامزد کیا تو مقامی پارٹی کے سفید فام کرتا دھرتا رہنماوٴں نے پارٹی کا اجلاس بلا کر اس امیدوار کی انتخابی مہم چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ جب ڈیوڈ کیمرون نے سلور شیڈو وزیر اعظم بیرونس سعیدہ وارثی کو شیڈو کمیونٹیز سیکرٹری بنایا تو ٹوری پارٹی میں اعلی سطح پر اس کی شدید مخالفت کی گئی۔

اس دوران مارگریٹ تھیچر سنیٹر فار فریڈم کے ڈاکٹر نائل گارڈنر نے ٹوری ویب سائیٹ پر لکھا تھا کہ اس وقت برطانیہ اور امریکہ اسلامی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ایک مسلمان کو کمیونٹیز کی شیڈو سیکرٹری بنانے سے دنیا میں غلط تاثر جائے گا۔ کیونکہ بیرونس سعیدہ وارثی برطانیہ کے اندر دہشت گردی کی پالیسی پر تنقید بھی کر چکی ہیں۔ بعدازاں جب لبر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ٹوری پارٹی نے حکومت بنائی تو ڈیوڈ کیمرون نے نسلی اقلیتوں خصوصاً پاکستان اور مسلمان ووٹرز میں ٹوری پارٹی کو مقبول کرنے کے لئے نہ صرف بیرونس سعیدہ وارثی کو کیبنٹ منسٹر بنایا بلکہ ٹوری پارٹی کی چیئرمین بنا کر ان سڑیل رہنماوٴں کے سینے پرمونگ دل دی جنہوں نے انہیں شیڈو کابینہ میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اس تقرری پر بھی ڈیوڈ کیمرون کو پارٹی کے اندر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ البتہ اب ایسا لگتا ہے کہ لارڈ ایش کرافٹ کی رپورٹ سامنے آنے اور بعض اہم ٹوری رہنماوٴں کی جانب سے نسلی اقلیتوں کی اہمیت کو تسلیم کرنے کے بعد ٹوری پارٹی کی اعلی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملک کی 13فیصد آبادی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں اب نسلی اقلیتوں کی تعداد 13فیصد ہو چکی ہے۔ اور ان میں مسلمان 5فیصد ہیں۔ چنانچہ اب ٹوری پارٹی کو ان پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دوسرے مسلمانوں کے ووٹوں کی بھی ضرورت پڑ گئی ہے جو روایتی طور پر لیبر پارٹی کی طرف جھکاوٴ رکھتے ہیں۔ اور عراق جنگ میں ناراضگی کے باوجود جن کی دو تہائی سے زیادہ اکثریت نے 2010ء کے انتخابات میں لیبر کو بھی ووٹ دیئے جبکہ ساری نسلی اقلیتوں میں سے صرف 16فیصد نے ٹوری پارٹی کو ووٹ دیئے۔

برطانوی مسلمانوں اور دوسری امیگرنٹس کمیونٹیز کا رحجان لیبر پارٹی کی جانب اس لئے رہا ہے کہ اس پارٹی نے ہمیشہ نسلی اقلیتوں کے امیگریشن کے مسائل کو حل کیاہے۔ جہاں ٹوری نے اقتدار میں آکر امیگریشن پالیسیوں کو سخت کیا وہیں لیبر نے اقتدار میں آنے کے بعد وہ پالیسیاں ختم کیں اور امیگرنٹس کو ریلیف دیا۔ تارکین وطن کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ٹوری پارٹی ان کے لئے زیادہ قریب نہیں ہے اور وہ امیگریشن کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ نسلی اقلیتوں اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان ایک عرصے تک اعتماد کی کمی رہی ہے تاہم اب گزشتہ دس پندرہ برس کے دوران نسلی اقلیتوں کا رحجان اس پارٹی کی جانب بھی ہوا ہے۔ خاص طور پر ہندو، سکھ اور یہودی کمیونٹیز کے زیادہ لوگ اس پارٹی کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ اس پارٹی نے ایک طویل عرصہ بعد اپنی پالیسی میں اس قدر لچک پیدا کرلی ہے جبکہ 2010ء کے انتخابات میں اس کے نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تعداد 11ہوگئی ہے جن میں دو پاکستانی بھی ہیں جبکہ برطانوی پارلیمنٹ میں موجود نسلی اقلیت کے کل 27ارکان میں 5پاکستانیوں سمیت لیبر پارٹی کے 16ارکان ہیں۔

وزیر اعظم کیمرون کی جانب سے نسلی اقلیتوں کے لئے اپنی پارٹی کے دروازے کھولنا اور پارٹی کو یہ حکم دینا کہ زیادہ سے زیادہ نسلی اقلیتی امیدواروں کو انتخابات میں لڑایا جانا خوش آئند ہے۔ اس سے دونوں بڑی پارٹیوں کے اندر اقلیتوں کی بھرپور نمائندگہ ہو جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ برطانیہ کے 5فیصد مسلمان خود کو مین سٹریم پارٹیوں میں شامل کریں یہ حقیقت ہے کہ عراق جنگ کے معاملے پر مسلمانوں کی بڑی تعداد کا لیبر پارٹی سے دل کھٹا ہو گیا تھا مگریہ بھی حقیقت ہے کہ ٹوری نے بھی اس جنگ کی حمایت کی تھی۔ برطانوی مسلمانوں کو عالمی حالات کے مطابق نہیں بلکہ اپنے حالات کے تحت اس ملک کی سیاست کرنا ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.