.

حالتِ انکار

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملکی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے دو متضاد آراء دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ایک طرف تو آزاد ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ملک میں ادائیگیوں کے توازن کے خسارے سے نبردآزما ہونے کیلئے فوری راست اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ حکومت کے معاشی منتظمین کا کہنا ہے کہ فی الحال معیشت کو مستقبل قریب میں کسی معاشی بحران کا سامنا نہیں اور وہ کارسرکار کو ایسے ہی چلا سکتے ہیں۔ حکومت کے اس موقف سے پتہ چلتا ہے کہ کیونکر حکومت اپنے آخری ایام اقتدار میں قبل از انتخابات کی شاہ خرچیوں پر مامور رہی، یہ اقدام قومی سرمائے کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ایسے وقت میں مختصر مدت کیلئے وزیر خزانہ بننے والے سلیم مانڈوی والا نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال پُرسکون حالت میں ہے اور ادائیگیوں کا کوئی بحران موجود نہیں، وزیر خزانہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ ملکی معیشت بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اگر وزیر خزانہ نے بجٹ کا تزویری پرچہ پڑھنے کی زحمت کی ہوتی تو موصوف اتنے مطمئن نہ ہوتے اور انہیں یہ بھیعلم ہوتا کہ مذکورہ دستاویز پاکستان کی نازک معیشت کے حوالے سے بین کررہی ہے کہ ملک کا بنیادی طور پر قلیل مدتی خطرہ زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنا ہے۔ وزیر خزانہ کا یہ دعویٰ کے حکومت ملکی معاشی حالت کو بہتر انداز میں خیرباد کہہ رہی ہے اور بھی زیادہ بدنیتی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ اسی قسم کی دعوے گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی کئے تھے جن میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر کا ایسے کسی بحران کا سامنا نہیں جس کے حل کیلئے ہمیں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئی اور تذویریں بھی موجود ہیں تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کی آراء میں ایک چیز قدرے مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے ملک میں فوری طور پر کم از کم رواں مالی سال کے آخر تک زرمبادلہ کے حوالے سے کوئی بحران پیدا ہونے کا خدشہ نہیں۔ جب زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوتی ہیتو عوام میں سنسنی پھیل جاتی ہے اور اعتماد میں کمی واقع ہوتی ہے لہٰذا لوگ روپے کے عوض ڈالر خریدنا شروع کردیتے ہیں۔ اس صورتحال میں روپے کی قدر کو کم ہونے سے بچانے کیلئے اسٹیٹ بینک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر استعمال میں لانے پڑتے ہیں۔ 1990ء میں کئی مواقع پر پاکستان اپنی بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میں ناکامی پر آئی ایم ایف سے رجوع کرتا رہا ہے۔ کیا مانڈوی والا صاحب اس تاریخ سے واقف نہیں ہیں جو کہتے ہیں کہ پاکستان تاریخ میں کبھی ایسی صورتحال سے نہیں گزرا جس میں اس کو اپنی بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہو؟ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہوکر گزشتہ ہفتے 7.8/ارب ڈالر پر آگئے ہیں، بیرونی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، ایسے حالات میں یہ یقین دہانی نہیں کرائی جاسکتی کے ملک بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے بحران کا شکار نہیں ہوگا۔ رواں مالی بیرونی ادائیگیوں کے باعث جون تک زرمبادلہ کے ذخائر6/ارب ڈالر کی سطح تک آجائیں گے۔اگلے سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 6.2/ارب ڈالر کی ادائیگی درکار ہوگی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر پہلے ہی اس سطح سے نیچے گر گئے ہوں گے، بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے درمیان خلا کو پُر کرنے کیلئے سرمائے کی ضرورت ہوگی۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسی صورتحال ٹھیک کس وقت ہوگی لیکن کوئی ذمہ دار حکومت اس کا انتظار نہیں کرے گی۔ اس وقت معیشت کو بچانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ سیاسی مفاد کیلئے کسی معاشی بحران کو جان بوجھ کر پنپنے دینا کسی بھی حکومت کی بدترین معاشی انتظامیہ کی مثال ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیر خزانہ کو انتخابات تک ترسیلات زر میں 20/ارب ڈالر تک کا اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے جس سے روپے کی شرح مبادلہ پر دباوٴ کم ہو گا۔ بجٹ کی خطرناک صورتحال کا احاطہ کرنے کیلئے حکومت نے اپنے آخری دنوں میں اپنی شاہ خرچیوں کو روکنے کی زحمت نہ کی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقتصادی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والی ملک کی معاشی تاریخ میں پہلی مرتبہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی پندرہ دنوں میں چار میٹنگیں ہوئیں۔ ان اجلاسوں میں کئی فیصلے ہوئے تاہم کچھ قابل اعتراض فیصلے حاضر خدمت ہیں۔

1۔ چینی کی درآمد پر 3/ارب روپے کی سالانہ زر تلافی سے قومی خزانے پر بوجھ پڑے گا اور سیاسی فائدہ شوگر مافیا کو ہوگا۔

2- دیہی علاقوں کے ووٹ کے حصول کیلئے زرعی ٹیوب ویلوں پر بجلی کے نرخوں میں کمی سے معیشت کو سالانہ 16سے20/ارب روپے کی ضرب لگے گی۔ توانائی کے شعبے میں ادائیگیوں میں کمی کا بحران بھی پیدا ہوگا کیونکہ ٹیوب ویل مالکان دوسرے لوگوں یا صنعتوں کو بجلی کی فراہمی کرنا شروع کر دیں گے۔

3-(انتخابات میں کامیابی یا سیاسی طور پر متحرک اسکیموں کو فنڈز کی فراہمی کیلئے 10/ارب روپے (پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پی ایس ڈی پی) کی مد میں دیئے گئے، بدترین اقتصادی صورتحال کے موقع پر جبکہ (پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پی ایس ڈی پی) کو لگام ڈالی جاتی، حکومت نے اس کے برخلاف کیا۔ (4توانائی کے شعبے کی ماہانہ سبسڈی کا حجم 20/ارب روپے ہے جبکہ گزشتہ ماہ اس شعبے کو48.5 /ارب روپے دیئے گئے تاہم اس ایڈوانس ادائیگی کی کوئی وضاحت نہیں کیگئی۔ توانائی کے شعبے کی موجودہ ادائیگیوں کو پورا کرنے کیلئے 200/ارب روپے کا ایک امانتی اکاوٴنٹ کھولا جارہا ہے۔ (5پی آئی اے کیلئے 100/ارب روپے کا بیل آوٴٹ پیکیج جس میں تباہی کا شکار قومی ائیر لائن کیلئے قابل اعتماد ساخیاتی اصلاحات کا بھی کچھ نہیں پتہ، ایسے مصرف کیلئے یہ رقم کہاں سے آئے گی؟6 (واپڈا کیلئے 50کروڑ روپے کا قرض بیرون ملک کی لوکل شاخ سے انتہائی زیادہ شرح سود پر لیا جارہا ہے، جب ملک میں کم شرح سود پر اس کا متبادل موجود ہے تو ایسا کیونکر کیا جارہا ہے۔( 7 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک مرتبہ پھر غیر معمولی اضافے سے بجٹ پر سالانہ سات سے آٹھ ارب روپے کی ضرب لگے گی۔ پچھلے پانچ سالوں میں پہلے ہی تنخواہوں میں120فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ اگر صوبے بھی اس روش کو اپنائیں گے تو پھر بجٹ کے تخمینوں میں اضافہ ہوگا۔ اگر مالی خسارے کو قرضوں کے ذریعے ہی پورا کیا جاتا رہا تو پھر اندورنی قرضوں کے حجم میں ہوشربا اضافہ ہوگا اور افراط زر میں بھی اضافہ یقنی ہے۔ وزیر خزانہ مانڈوی والا کے دعووٴں کے برخلاف ملک کی ابتر معاشی صورتحال یہی ہے کو پیپلزپارٹی کی حکومت کو آئندہ آنے والی حکومت کو دینی ہے۔ بیرونی ادائیگیوں کے پیش نظر اقتصادی صورتحال میں اب یہی انتظار باقی ہے کہ کس وقت زرمبادلہ میں کمی کا بحران ملک کو اپنی گرفت میں لیتا ہے، تاوقتیکہ اس کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.