.

اسرائیل نے ترکی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل دنیا کا ایسا ملک ہے جو تکبر اور غرور اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہے۔ اس کے اِس تکبر اور غرور کے پیچھے متحدہ امریکہ کا ہاتھ بڑا نمایاں ہے جس نے ہمیشہ ہی اسرائیل کی حمایت اور پشت پناہی کی ہے۔ اس پشت پناہی اور شہہ زوری کی وجہ سے اسرائیل نے فلسطین کے عوام کاجینا دوبھر کر رکھا ہے اور اس کو اِس ظلم سے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ امیر عرب ممالک کو غریب فلسطینیوں کی ذرہ بھر بھی کوئی پروا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس معاملے میں امریکہ کی کوئی ناراضی مول لینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے جب غزہ کی ناکہ بندی کی تو کسی بھی عرب ملک سے کوئی آواز بلند نہ ہوئی اور اگر کوئی ملک اس موقع پر فلسطینیوں کی مدد کو دوڑا تو وہ صرف اور صرف ترکی ہی تھا۔ حکومت ِ ترکی کے ساتھ ساتھ ترکی کی مختلف سول سوسائٹیز نے آگے بڑھ کر اپنے فلسطینی بھائیوں کے دکھ کا مداوا کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔

ترکی کی چند ایک سول سوسائٹیز نے چند ایک مغربی ممالک کی سول سوسائٹیزکے تعاون سے فلسطینیوں کو خوارک ، ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت بہم پہنچانے کے لئیفریڈم فلوٹیلا کے ذریعے اپنے سفر کا استنبول سے آغاز کیا اور اس فریڈم فلوٹیلا کی منزل مقصود غزہ تھی لیکن اسرائیلی کمانڈوز نے اس قافلے کو غزہ پہنچنے سے قبل ہی کھلے سمندر میں بین الاقوامی پانیوں میں آگے بڑھنے سے روکنے کیلئیایک بہت بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا۔ فریڈم فلوٹیلا میں شامل ماوی مرمرہ نامی فری بوٹ جس پر نہتے ترک اور غیر ملکی باشندے سوار تھے پر رات کی تاریکی میں حملہ کرتے ہوئے نو ترک باشندوں کو گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے نو نہتے ترک باشندوں کی ہلاکت پر ترکی نے اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اور اسرائیل سے فوری طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت طلب کرنے، شہدا کے ورثہ کوہرجانہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کی ناکہ بندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اسرائیل کی جانب سے ترکی کے ان مطالبات کو مسترد کئے جانے پر ترکی نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا اور اس کیس کو عالمی عدالت لے جانے سے آگاہ کر دیا۔ ترکی نے اس دوران اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو سفیر کی سطح سے کم کرتے ہوئے تھرڈ سیکرٹری کے سطح تک کر لئے اور اپنے سفیر کو اسرائیل سے واپس بلانے کے ساتھ ساتھ ایک ہفتے کے اندر اندر اسرائیل کے سفیر کو ترکی سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اقوام متحدہ کے پالمر تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے تیارکردہ رپورٹ کو جان بوجھ کر فاش کئے جانے پر ترکی نے اس پر اپنے شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے تمام معاہدوں کو منجمد کرنے کیساتھ ساتھ نیٹو اور اسرائیل کی فوجی مشترکہ مشقوں کیخلاف ویٹو استعمال کرتے ہوئے ان فوجی مشقوں میں اسرائیل کی شمولیت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ نیٹو کی تاریخ میں پہلی بار کسی رکن نے فوجی مشقوں کے خلاف ویٹو کا استعمال کیا تھا۔ اس سے قبل نیٹو کا کوئی بھی رکن اسرائیل کے خلاف اس قسم کا کوئی قدم اٹھانے کی جرأت نہیں کر سکا تھا۔ اسی دوران ترکی اسرائیل پر اپنے دباوٴ میں مسلسل اضافہ کرتا چلا گیا حالانکہ اسرائیل نے کئی بار ترکی کو مذاکرات کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن ترکی نے اپنی تینوں شرائط منوانے تک کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کردیا اور اپنے موقف پر ڈتا رہا۔ اگرچہ متحدہ امریکہ نے کئی بار ترکی اور اسرائیل کے درمیان فریڈم فلوٹیلا کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن ترکی کے سخت موقف کی وجہ سے متحدہ امریکہ ترکی کو اسرائیل کے ساتھ میز پر بٹھانے میں ناکام رہا۔

آخر کار یکم مارچ2013ء کو متحدہ امریکہ کے نئے وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ ترکی کے دوران نئے سرے سے اس معاملے کو ایجنڈے پر لایا گیا اور متحدہ امریکہ کی جانب سے تیارکردہ ٹیکسٹ پر طویل بات چیت کا سلسلہ جاری رہا لیکن ان کے اس دورے کے دوران ٹیکسٹ کو حتمی شکل نہ دی جاسکی تاہم جان کیری نے واپس متحدہ امریکہ جا کر صدر بارک اوباما سے ٹیکسٹ کے بارے میں بات چیت کی اور الفاظ کے چناؤکا خصوصی خیال رکھتے ہوئے صدر کے ساتھ مل کر اسے حتمی شکل دی۔ ترکی نے متحدہ امریکہ پر واضح کررکھا تھا کہ جب تک اسرائیل انگریزی لفظ" Apology" یا پھر عبرانی لفظ " Itznatlut" استعمال نہیں کرتا ترکی اسرائیل کی معذرت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
علاوہ ازیں جب تک ماوی مرمرہ فری بوٹ میں اسرائیلی کمانڈوز کی گولیوں کا نشانہ بننے والے شہداء کے ورثہ کو ہرجانہ ادا نہیں کردیا جاتا اور غزہ کی ناکہ بندی کو ختم نہیں کر دیا جاتا ترکی اسرائیل کے ساتھ میز پر نہیں بیٹھے گا۔ متحدہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اس دوران ایک ہفتے میں چھ بار ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اولو کو ٹیلی فون کرتے ہوئے حتمی منظوری حاصل کی اور اسے امریکہ کے صدر بارک اوباما کے اسرائیل کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل پوری صورتحال سے آگاہ کردیا۔

متحدہ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے اپنے دورہ اسرائیل کے پہلے روز ہی اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو سے اس موضوع پر بات چیت کی اور اسرائیل کو اس بات سے خبردار کردیا کہ یہ اسرائیل کیلئے ترکی کے ساتھ تعلقات کو نارمل سطح پر لانے کے لئے آخری موقع ہے اور اگر اسرائیل نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو وہ علاقے میں تنہا رہ جائے گا۔ دو روز تک صدر اوباما نے اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اپنے دورے کے آخری روز وہ اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے اورآخر کار تیارکردہ فارمولے کے تحت صدر اوباما نے اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کی موجودگی میں ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوان کو ٹیلی فون کرتے ہوئے صورتحال سے آگاہ کیا اور اپنے ساتھ ہی موجود اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کو ٹیلی فون تھما دیا۔ اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو وزیراعظم ایردوان سے کہہ رہے تھے: " فریڈم فلوٹیلا واقعے میں نو ترک باشندوں کی ہلاکت اور 56/افراد کے زخمی ہونے پر ہمیں گہرا دکھ ہے۔ اسرائیل کی جانب سے کئے جانے والے فوجی آپریشن میں کئی ایک غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ میں ترک عوام سے اس واقعے کی وجہ سے معذرت ((Apologyکا طلب گار ہوں۔ علاوہ ازیں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے ورثہ کو ہرجانہ ادا کرنے کیلئے تیار ہیں اور غزہ میں سویلین مقاصد کیلئے اشیاء کی آمدو رفت کی اجازت دیدی گئی ہے اور جب تک علاقے میں حالات پرسکون رہیں گے اس پر اطلاق جاری رہیگا"۔ اسرائیلی وزیراعظم نے تاریخ میں پہلی بار کسی مسلم ملک کے وزیراعظم سے معذرت طلب کی تھی۔ ترکی کے وزیراعظم نے اسرائیلی وزیراعظم کی اس معذرت کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ان شرائط کو پورا کرنے کے وعدوں پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔

اسرائیل کی جانب سے ترکی سے معذرت طلب کئے جانے پر عرب ممالک میں خاص طور پر فلسطین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اب وزیراعظم ایردوان نے ماہ اپریل میں غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کا دورہ کرتے ہوئے اسرائیل کی ناکہ بندی کے عملدرآمد کا موقع پر ہی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عرب میڈیا نے اسرائیل کی جانب سے معذرت طلب کئے جانے کو وزیراعظم ایردوان کی بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور کہا کہ جو کام عرب رہنما نہیں کرسکے وہ ایک مسلم ترک رہنما نے کر دکھایا ہے اور اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے فلسطینیوں کے دل جیت لئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.