.

جان کیری اور پاکستانی الیکشن؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی سے اردن میں ملاقات کی اور پاکستان نہ آسکنے کا ابتدائی موقف یہ سامنے آیا کہ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کے باعث وزیر خارجہ اسلام آباد کا دورہ نہیں کریں گے لیکن منطقی سوال اٹھنے کا امکان تھا کہ جان کیری تو اسلام آباد اور پاکستان کے سیاستدانوں اور ماحول سے بہت اچھی طرح واقف بھی ہیں اور اسلام آباد میں سیکورٹی کی صورتحال توکابل کی سیکورٹی صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر ہے لہٰذا کابل کے دورے، صدر کرزئی سے ملاقات و مذاکرات اور مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد پڑوس میں اسلام آباد نہ آنے کا جواز سیکورٹی وجوہات حقیقی جواز نہیں ہے لہٰذا جلد ہی حقیقی وجہ بیان کردی گئی کہ پاکستان میں انتخابات کے ماحول اور معاملات کے باعث امریکی وزیر خارجہ پاکستان نہیں گئے تاکہ کسی کی حمایت یا جانبداری کے الزامات نہ لگ جائیں۔ یہ وجہ ایک اچھا امریکی جواز ہے ورنہ جان کیری پاکستان کے ہر قابل ذکر سیاستدان سے بخوبی اور ذاتی طور پر واقف ہیں کہ انہیں رابطوں اور گفتگو میں قطعاً کوئی دقت نہیں ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ درست کیا ہے اور یہ پاکستان اورامریکی مفاد کے مطابق ہے خصوصاً جب اردن کی سرزمین پر کیانی، کیری ملاقات سے وہ مقاصد اور معاملات زیر بحث آگئے جواسلام آباد میں آنے کی صورت میں زیر بحث آنا تھے جہاں اس وقت تمام سیاستدان اور بیورو کریسی انتخابی بخار میں مبتلا ہے۔ ظاہر ہے 2014ء میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہونا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کی سبکدوشی کے اثرات سے بھی نمٹنا ہے اور پاکستان امریکی فوجی انخلاء کیلئے ایک اہم راستہ بھی ہوگا نیز پاکستانی انتخابات کے نتائج اور اثرات امریکی انخلاء کیلئے بھی بڑے اہم ہے لہٰذا خطے میں امریکہ کی بدلتی ترجیحات، نئے انتظامات، فوجی او علاقائی حکمت عملی اپنی جگہ لیکن فی الوقت طالبان سے مذاکرات سے لیکر فوجی انخلاء اور دیگر اہم معاملات میں پاکستان کا رول امریکہ کی لازمی ضرورت اور مفاد میں ہے لہٰذا اردن میں کیانی، کیری ملاقات سے وہ تمام معاملات زیر بحث آگئے جو اسلام آباد میں جان کیری کی آمد سے زیر بحث آتے۔ ویسے بھی ڈپلومیسی میں موقف اور پیغام کا موثر ہونا گارڈ آف آنر، پُرتکلف عشائیہ اور ”ہینڈ شیک“ کی روایتی تصاویر سے کہیں زیادہ اہم اور مفید گردانا جاتا ہے لہٰذا امریکی وزیر خارجہ کا اسلام آباد نہ آنا وقت اور ماحول کے لحاظ سے ایک مفید فیصلہ ہے مگر پاکستان کے انتخابات، نتائج اور اثرات امریکہ کیلئے فی الوقت بہت اہم ہیں لہٰذا کیانی، کیری ملاقات میں پاکستانی الیکشن کا ذکر یقینی طور پرآیا ہے۔ امریکی دلچسپی کا ایک مظہر امریکی تھنک ٹینک، سینٹر فاراسٹرٹیجک اسٹڈیز انٹرنیشنل (csi) کی پانچ سوالات وجوابات کی شکل میں لکھی گئی ایک رپورٹ ہے جسے ادارے کی ایک فیلو صادقہ حمید نے لکھا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اگلی حکومت خطے میں امریکی مفادات کی حفاظت کیلئے انتہائی اہم ہوگی کیونکہ امریکی 2014ء میں افغانستان سے انخلاء کیلئے ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے لہٰذا اگلی حکومت مختلف پارٹیوں کا رول اور شراکت کے اثرات اہم ہوں گے اور اس نئی حکومت کو کرپشن، انرجی، سیکورٹی اور معاشی مشکلات سے نمٹنے کے داخلی محاذ پر بھی کام کرنا ہو گا۔رپورٹ میں پاکستان میں پچھلے انتخابات میں ووٹروں کی عدم دلچسپی اور صرف 44 فیصد تک کا ”ٹرن آؤٹ“ گنواتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر ووٹروں کا رجحان یہی رہا تو ایک غیر نمائندہ اور ناقابل قبول حکومت کے وجود میں آنے کا خطرہ بھی ہے۔ دہشت گردی، تشدد وغیرہ کو بھی پولنگ اسٹیشنوں سے ووٹروں کے دور رہنے کا ایک سبب قرار دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ طالبان اور گرمی کا موسم بھی ووٹروں کی کم تعداد میں ووٹ دینے کا سبب گردانا ہے جبکہ عمران خاں اور موجودہ حکومت سے عوام کی بیزاری کو ووٹروں کے جوش و خروش میں اضافہ کا سبب مانا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کے اعلانات اور اصلاحی رویہ کو بھی مثبت بیان کیا گیا ہے۔

امریکی دلچسپی کو پاکستانی الیکشن سے پیوستہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرالیکشن میں فراڈ اور دھاندلی کے نتائج مرتب کرنے کی کوشش کی گئی اور غیر نمائندہ حکومت تشکیل پائی تو یہ امریکہ کیلئے بڑی پریشانی اور فرسٹریشن کا باعث ہوگا اور امریکی فوج کا پُرامن انخلاء ہونے میں دشواری پیش آئے گی۔ پاکستان میں مخلوط حکومت فیصلوں میں دشواریاں پیدا کرتی ہے لہٰذا ان انتخابات کے نتیجے میں اگر مخلوط حکومت بنی تو بھی امریکہ اور پاکستان کی پارٹنر شپ کیلئے دشواریاں پیدا ہوں گی۔ اس امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پی پی پی، اے این پی، ایم کیو ایم، جے یو آئی اور سندھی جماعتوں سمیت سب کا تجزیہ اور امکانی الائنس وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی ہے اور فوج کی جانب سے کسی مرحلہ پر مداخلت کے امکانات کو مسترد کیا ہے تاہم افواہوں کا حوالہ ضرور دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج کی جانب سے مداخلت نہ کرنا بھی امریکہ کے مفاد کا تقاضا ہے۔

قارئین کرام اس امریکی رپورٹ سے پاکستانی انتخابات میں امریکہ کی گہری دلچسپی اور اہم مفادات کی ترجمانی واضح ہے اور انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی پارٹیوں میں سے کوئی بھی ایک ایسی پارٹی نہیں جو امریکی مفادات کیلئے چیلنج یا رکاوٹ بن سکتی ہو امریکہ کے خلاف نعرے بلند کرکے عوام کی توجہ لینا ایک الگ انتخابی اور سیاسی معاملہ ہے مگر فی الوقت ملک کی کوئی بھی اہم پارٹی ممکنہ انتخابی نتائج کے اعتبار سے کوئی خطرہ نہیں اور حقائق کا تقاضا بھی یہی ہے لہٰذا پرویز مشرف اور طاہر القادری کی واپسی سے لے کر بلاول بھٹو زرداری کی سرپرستی میں انتخابی مہم، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، متحدہ قومی موومنٹ، جے یو آئی سمیت اس معاملے میں سبھی کے انداز مختلف مگر موقف ایک ہی ہے۔ جان کیری کے پاکستانی نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

میرے گزشتہ کالم کے بارے میں متعدد قارئین نے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں۔ ان میں ایم کیو ایم امریکہ کے سربراہ عبادالرحمٰن، کینیڈا سے عمیر احمد، بوسٹن سے پروفیسر محمود احمد اور سعودی عرب سے عبدالمجید حفیظ کے تبصرے بھی شامل ہیں۔ عباد الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے گزشتہ انتخابات میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کو اسمبلیوں کے ٹکٹ جاری کئے تھے۔ رضا ہارون (برطانیہ) ندیم احسن (کینیڈا) صلاح الدین (مڈل ایسٹ) اور امریکہ سے فرحت خان، طیب حسین اور عبدالمعید کو ٹکٹ دیئے گئے لہٰذایہ بات درست نہیں کہ پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹی کو اوورسیز پاکستانیوں سے دلچسپی نہیں ہے صرف بیانات دیئے جاتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق مذکورہ حضرات ایم کیو ایم کے پرانے کا رکن ہیں جو بوجوہ بیرون ملک آگئے تھے اور پارٹی کی خدمت میں مصروف تھے۔ آخر عام اووسیز پاکستانیوں کا حمایتی کون ہے؟ عبادالرحمٰن نے اپنے پیغام اور فون پر متعدد اچھی تجاویز اور ایم کیو ایم کے بیرون ملک اقدامات کی تفصیل بھی احسن اندازمیں بتائی ہے جبکہ عمیر احمد کا کہنا ہے کہ غیر ممالک میں آباد بھارتی دہری شہریت کے بغیر ہی بھارت کی لابنگ کس قدر کرتے ہیں لہٰذا دہری شہریت کے بجائے سنگل شہریت بہتر طریقہ ہے۔ عبدالمجید حفیظ انٹرنیٹ کے ذریعہ بیرون ملک سے ووٹنگ کو انتہائی آسان قرار دیتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.