.

ایٹمی اثاثہ جات: ردعمل 8 سیکنڈ میں

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کچھ بھی کرلے مگر امریکہ اور امریکہ کی شہ کی وجہ سے اُس کے حواری انڈیا و اسرائیل پاکستان کے خلاف سازشوں سے باز نہیں آتے، وہ پاکستان کو اندرونی طور سے کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں تاکہ پاکستان کو اس ایٹمی قوت سے محروم کردے جو اس نے اپنی محنت و کاوشوں سے حاصل کی اور اگرچہ یہ جملہ احساس کمتری کا مظہر نہ ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ انڈیا نے ہمیں دیوار سے لگایا تو ہمیں ایٹمی طاقت بننا پڑا۔ اب امریکی ہمیں سخت دباوٴ کا شکار کررہے ہیں۔ اس لئے پاکستان ایک ایسا ملک قرار پایا ہے جس کو سب سے زیادہ ڈرایا دھمکایا جاتا ہے تاہم پاکستان نے امریکہ کے اِس ناجائز دباوٴ سے جس میں اس نے پاکستان کے خلاف توہین آمیز انداز میں جارحانہ اقدامات کئے، ریمنڈڈیوس کا واقعہ، 2 مئی2011ء کا ایبٹ آباد اور سلالہ کا 26 ستمبر2011ء کا حملہ اُس کی بین جارحیت کا ثبوت ہیں۔ خفیہ کارروائی اس کے علاوہ ہیں جو پاکستان کے خلاف جاری ہیں، لسانی اور مسلک کی بنیاد پر وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ اس میں کئی یورپی، ایشیائی اور افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے خلاف اس قدر متعصبانہ اور یکطرفہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے کہ امریکہ انڈیا کو ایٹمی طاقت ماننے کے مراحل طے کر رہا ہے۔

صدر بارک حسین اوباما نے اپنے نومبر2011ء کے دورہ انڈیا کے موقع پر باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈیا کی ایٹمی سپلائی گروپ (NSG) واسینار انتظام (Wassenaar Arrangement) اور آسٹریلوی گرو AG میں بتدریج ممبر شپ کے مواقع فراہم کرتا چلا جائے گا۔ اس میں میزائل ٹکنالوجی کنٹرول گروپ (MTCR) بھی شامل ہے۔ یہ ایک بہت امتیازی سلوک ہے جو امریکہ اور مغرب ہمارے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں جو پاکستان کے لئے ناقابل قبول ہے اور یہ وہی عمل ہے کہ جو انڈیا نے ہمارے ساتھ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہوئی تو ایٹمی دھماکہ کردیا جس نے ہمیں ایٹمی قوت بننے پر مجبور کیا اور امریکہ کا ایسا ہی عمل ہمیں اپنا الگ سے گروپ بنانے کے لئے اکسا رہا ہے۔ جب ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو سپلائی گروپ بھی علیحدہ کرسکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ ہمارے تین جہتی اور تین مرحلی کوشش کررہا ہے کہ پہلے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرے پھر اس کے ایٹمی اثاثہ جات کو غیرمحفوظ قرار دے اور پھر پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کو اقوام متحدہ کے زیرنگرانی دینے کا عمل شروع کرائے۔ جس پر ہم یہ کہیں گے کہ ہم اپنی سلامتی و بقا کے لئے کسی بھی حد تک چلے جائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ جدید ترین ہتھیاروں سے آراستہ ہے وہ موسم میں تغیر لا سکتا ہے وہ ہرالیکٹرونک متحرک شے کو جامد کرسکتا ہے تاکہ اپنے آپ کو عالمی جغادری بنائے رکھے مگر ہر ملک چھوٹا ہو یابڑا اگر مشکل میں ڈالنے پر آئے تو ایسا کرسکتا ہے۔ جیسا شمالی کوریا اور ایران نے امریکہ کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ ہم نے امریکہ کو سہولت فراہم کی ہے کہ وہ واحد سپر طاقت بن جائے مگر ہمارے ساتھ یہ امتیازی سلوک امریکی اذہان کا دیوالیہ پن ہی کہا جائے گا کہ وہ ایسے ملک کے ساتھ پنگا لے رہا جو اس کا اتحادی رہا ہے مگر امریکہ پھر بھی باز نہیں آیا تو ہم اپنے دفاع کے لئے جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے۔

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے مشیر الستایئر کیمبل اس بات کے راوی ہیں اور جو اس بات کو احاطہ تحریر میں بھی لے آئے کہ گیارہ ستمبر2001ء کے واقعے کے بعد ٹونی بلیئر کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آئے تو اُن کے ساتھ دو فائیو اسٹار جنرل بیٹھ گئے اور انہوں نے اُن سے واضح طور پر کہا کہ اگر انڈیا نے اُن کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی تو ہمیں صرف 8 سیکنڈ لگیں گے کہ ہم ایٹمی میزائل چلا دیں گے۔ کیبل نے اس ملاقات کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ اُن جنرلوں نے دانت پیستے ہوئے کہا کہ یہ بات انڈیا کو بتا دی جائے اور ہمیں آسان ہدف نہ سمجھیں اور انڈیا جس روش پر جارہا ہے وہ ایٹمی جنگ پر منتج ہوگا اور ہم کسی ایسے خطرے کی صورت میں پہلے حملے کرنے میں ذرا سی جھجک سے کام نہیں لیں گے اور وہ بھی 8 سیکنڈز میں۔ کیمبل نے اُن جنرلوں کو جھوٹا قرار دیا مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ پاکستان کو کمزور نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اُسے مجبور کیا جائے اور اگر اُسے دیوار سے لگا دیا گیا تو پاکستان دُنیا کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دے گا۔ امریکہ پاکستان کو نظرانداز اور انڈیا کو پروان چڑھا رہا ہے جس کی وجہ صرف پاکستان کا مسلمان ملک ہونا ہے۔ ابھی صرف ایک مسلمان ملک ایٹمی قوت ہے مگر کم از کم دو اور مسلم ممالک ایٹمی قوت بننے جارہے ہیں جنہیں امریکہ نہیں روک سکے گا۔ یہ ٹیکنالوجی اتنی عام ہوگئی ہے جو ملک بھی چاہے حاصل کرسکتا ہے، صرف مصمم ارادے کی ضرورت ہے۔ اس لئے یہ خطرناک ہوگا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ وہ کھیل جاری رکھے جو اس وقت وہ کھیل رہا ہے۔ یہ کسی کے لئے بھی اچھا نہیں ہے۔ ہیروشیما، ناگاساکی پر بم گرانے، عراق اور افغانستان اور دُنیا کے ہر خطے میں معدنی دولت کے حصول کے لئے خون بہانے والے ملک کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کسی ایسے ملک سے صرف نظر نہ کرے جو اپنی آزادی کے لئے کسی بھی قیمت کو ادا کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

افغانستان کا تجربہ امریکہ کے سامنے ہے وہاں کیوں ناکام ہوا کہ امریکہ نے پاکستان کی بجائے انڈیا کو اپنا ساتھی بنایا۔ امریکہ کی مالی حالت بھی خراب ہوئی، اُس کی سبکی بھی ہوئی، اُس کی شہنشاہیت کی قبر بھی کھد گئی، پھر امریکہ کے اپنے اندر وہ آگ پہنچ گئی ہے جو اس نے افغانستان، پاکستان اور دوسرے ملکوں میں لگائی ہوئی تھی۔ وہاں بھی آزادی کے ساتھ اپنے ہی شہریوں کو مسلح افراد مار رہے ہیں۔ ہمیں امریکہ کے عزائم سے خوف آتا ہے کہ وہ خود اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مار رہا ہے اور غلط پالیسی کی وجہ سے اپنے اچھے دوستوں کو چھوڑ دیا ہے اور ایسے ممالک کو دوست بنا لیا ہے جو کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ بہرحال امریکہ کو اُس کے نئے دوست مبارک البتہ ہماری خواہش ہوگی کہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ، فیاضانہ، ہمدردانہ اور احسان کے بدلے میں احسان کرنے والا رویہ اختیار کرے۔ محسن کش رویہ خود اس کے لئے سم قاتل ہے۔

امریکہ کی تاریخ 300 سالہ پرانی ہے ایک نوعمر قوم ہے وہ برطانیہ سے سیکھ سکتا ہے اور مسلمانوں سے سیکھ لے اور بھی اچھا ہے کیونکہ اُن کا دین انسان کی فلاح کا پیغام لئے ہوئے ہے۔ تخریب و تباہی کے بجائے تعمیری طاقت بنے اور انسانیت کی بھلائی کیلئے کام کرے۔ پاکستان نے اُس کیساتھ کوئی بُرا نہیں کیا ہے۔ اس نے افغانستان اور پاکستان میں خون بہایا، وہ معافی مانگے اور ہمارے ایٹمی اثاثہ جات کے بارے میں ناپاک منصوبوں سے تائب ہو کر پاکستان کو ایٹمی قوت مانے۔ ہم ایٹمی قوت ہیں اور اب ہم اس کو اس طرح برتنے جارہے ہیں کہ ہمارا دائرہ اثر ہو جس کو بہرحال امریکہ کو قبول کرنا پڑے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.