بھارتی معاشرے میں تبدیلی کی لہر

بشریٰ اعجاز
بشریٰ اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

قارئین! صفدر یار جنگ انکلیو کے جس اپارٹمنٹ میں بیٹھی میں یہ سطور لکھ رہی ہوں، اس کے اردگرد کی فضا میں اک خاص طرح کی خاموشی اور سکون، ایسا ہی، جیسا ہر شہر کے ان مرکزی اور پوش علاقوں میں ہوا کرتا ہے، جن کے قرب و جوار میں ملک کے بڑے اور اعلیٰ حکومتی عہدے داران رہتے ہیں، آج مہا منتری اور دیگر منتریوں کے گھروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے، ایسا ہی احساس ہوا، جیسا اپنے ہاں وزراء کے وسیع و عریض گھروں اور ان کے دروازوں پر تعینات وردی پوشوں کو دیکھ کر ہوا کرتا ہے، انڈیا چاہے جتنا بھی بدل چکا ہے، مگر ابھی تک یہ وی آئی پی کلچر جوں کا توں ہے اور اس کلچر کی پیداکرد خرزابیاں بھی اپنی جگہ جوں کی توں موجود ہیں، جنہیں دونوں طرف ڈیموکریسی یا جمہوریت کا حسن کہہ کر جمہور کے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا ہے، مگر میں نے دیکھا ہے کہ یہاں اب زیریں سطح پر تبدیلی کی ایک لہر چل پڑی ہے، جو آہستہ آہستہ توانا ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ سنجے دت بھی اسی لہر کا شکار ہو رہا ہے، اس کے خاندان کی خدمات اس کی حیثیت اور اس کے ساتھ بھارتی جنتا کی تمام تر ہمدردیوں کے باوجود، ٹاڈا عدالت اس کی غلطی معاف کرنے کو تیار نہیں، یہی وجہ ہے اسے بہت جلد جیل بھیجا جانے والا ہے، جہاں وہ اپنی سزا کی باقی مدت کاٹے گا، جو تقریباً تین برس ہو گی۔ اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سزا میں کسی وی آئی پی سہولت کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا بلکہ یہ قید بامشقت ہو گی اور اک مقبولِ عام تجزیے کے مطابق سنجے کوکھیتی باڑی، بیکری، دھاگہ بنانے والی فیکٹری، یا پھر مالی کی حیثیت سے صبح آٹھ بجے سے شام 6 بجے تک مشقت اٹھانا پڑے گی اور کھانا بھی جیل کا ہی کھانا پڑے گا۔۔۔!

ریٹائرڈ جسٹس کا جو سنجے کا کیس لڑ رہے ہیں، انہوں نے گورنر سے معافی کی اپیل کرتے ہوئے سنجے کی معصومیت اور مظلومیت کا سوال اٹھایا ہے اور اس اذیت کا جس سے وہ پچھلے بیس برسوں سے گزر رہا ہے۔۔۔جس کے جواب میں، میڈیا نے ٹاڈا قانون کے تحت ان دو سو سے زائد ملزمان کی رہائی کا ایشو اٹھا دیا ہے جو پچھلے بیس برسوں سے اس قانون کے تحت مختلف جیلوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں، جن میں غالب تعداد مسلمانوں کی ہے، چند خواتین بھی ان میں شامل ہیں، جن میں الہ آباد اور لکھنو کی دو خواتین بھی ہیں، میڈیا کا کہنا ہے ان لوگوں میں بھی زیادہ تعداد ان کی ہے جنہوں نے غلطی سے اس جرم کا ارتکاب کیا، یا پھر انہیں اس میں پھنسایا گیا! اگر سنجے کو اک نامور بھارتی ہونے کی وجہ سے معافی دی جائے گی تو پھر انہیں کیوں نہیں؟ یہی نقطۂ نظر حکومت اور اس کے عہدیداران کا ہے، جس کی وجہ سے سنجے کی معافی ناممکن نظر آ رہی ہے، بدلتے ہوئے انڈیا کی اس جھلک میں ہریانہ کے سابق وزیراعلیٰ، کانگریس کی ایک مرکزی وزیر کی بیٹی اور دو تین اہم سیاستدانوں کے بچوں کی مثال بھی دی جا رہی ہے جو مختلف کیسوں میں اس وقت جیلوں کے اندر ہیں۔۔۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انڈیا کی عدالتیں اس وقت پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہیں، اب عوامی سطح پر، لوگوں میں شہری حقوق کا شعور پیدا ہو رہا ہے اور انصاف میں برابری کا تصور بھی اب ان کے ذہنوں میں واضح ہوتا جا رہا ہے!

ذات پات، شودر، برہمن، آؤٹ کاسٹ، لو کاسٹ، ہریجن اور بالمیکی لوگوں پر مبنی یہ معاشرہ، جو اپنے اندر اس وقت بھی بڑے بڑے ناسور پالے ہوئے ہے اور جس میں چھو ت چھات، ذات پات کی بیماریاں اب بھی پوری طرح موجود ہیں، وہاں یہ تبدیلیاں، جمہوری عمل کے تسلسل اور تعلیم کی وجہ سے آ رہی ہیں، گرچہ دنیا کی اس دوسری بڑی جمہوریت کے مرکزی شہروں کو (جن کے گلیمر اور رنگینیوں کے سحر میں ہم بری طرح جکڑے ہوئے ہیں) کیمرے کی آنکھ کے بجائے حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی اکثریت کو مکان تو کیا جھونپڑا بھی نصیب نہیں، یہی وجہ رات گئے جب شہر سو جاتے ہیں تو ان کے فٹ پاتھوں پر نئے شہر اُگنے لگتے ہیں، جو بے گھر، بے در لوگوں پر مبنی ہوتے ہیں، اور جن کو بارش، گرمی، ٹھنڈاور پالے میںآسمان کی چھت پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے، انہیں دیکھ کر جھونپڑ پٹیوں کے غم میں مبتلا مجھ جیسوں کو اک نیا ہی غم لگ جاتا ہے، بے گھر بے دیار لوگوں کا، جو فٹ پاتھوں کا کرایہ ادا کرتے ہیں اور ٹانگیں سکیڑ کر پڑ رہنے کو ہی عیاشی تصور کرتے ہیں! اپنے دفاع پر بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کرنے والا شائننگ انڈیا، جو 52 صوبوں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کا ملک ہے۔۔۔ شودروں، برہمنوں، ہریجنوں اور پرانی تہذیبوں کا مسکن ہے۔۔۔ اور جسے کلچر اور ثقافت بیچنا بھی آتا ہے اور دکھانا بھی! وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور ہوشیاریوں کے باوجود نہ تو ابھی تک اپنے ستر فیصد لوگوں کو چھت دے سکا ہے اور نہ ہی وہ شہری حقوق، جن کا ڈھنڈورا پیٹنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں!

ٹاٹا، برلا اور مکیش امبانی جیسے نامور بزنس مینوں، فلم انڈسٹری، تہذیبوں کی رنگا رنگی اور مختلف ثقافتوں کے ذریعے، دنیا پر اپنا سوفٹ اور ترقی یافتہ امیج ظاہر کرنے والے انڈیا میں، جس طرح کی غربت اور غریب دکھائی دیتے ہیں انہیں دیکھ کر ٹیررازم، انارکی، زرداری حکومت کی ’’بے مثال‘‘ کرپشن، بدامنی، بے انصافی اور دیگر لاتعداد بیماریوں کی آماجگاہ پاکستان، اب بھی بہتر لگتا ہے، جہاں غربت تو ہے، مگر غریبی اس طرح بال کھولے روتی نظر نہیں آتی۔۔۔ حالانکہ آج کے انڈیا کی اقتصادی، معاشی، تعلیمی اور جمہوری رفتار کا مقابلہ کرنے کی موجودہ پاکستان میں، دور دور تک سکت دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کے باوجود اللہ کی کوئی خاص رحمت ہی ہے جو یہاں کے بھکاری بھی اتنے ہی فارغ البال دکھائی دیتے ہیں، جتنا کہ وہ حکمران ٹولہ جو بھیک مشن پر نکلتا ہے تو اس کے ڈیزائنر کپڑے اور چارٹر جہاز دیکھ کر، ان پر بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کا گمان ہوتا ہے!

ان دنوں پورا بھارت ہولی کے رنگا رنگ تہوار کی تیاری میں لگا ہوا ہے، آج کے ہندوستان ٹائمز میں شری بھگوان کرشن کی جنم بھومی، ورنداون (بندرابن) کی بیواؤں کے ہولی منانے کی خبر نمایاں تھی، بڑے سائز کی تصویر کے ساتھ، جس میں سفید ساڑھیوں میں ملبوس، سینکڑوں عورتیں، رنگوں سے کھیل رہی تھیں، لال، پیلے، گلابی رنگوں کو اپنی سفید ساڑھیوں پر مل رہی تھیں، چہروں پر مل رہی تھیں اور رنگوں کے اس کھیل میں، ان کی زندگی سے عاری چہروں پر اک عجیب قسم کی حسرت نمایاں تھی، زندگی کی ہر خوشی سے محروم کر دیئے جانے کا دکھ ان کی آنکھوں سے جھلکتا دکھائی دیتا تھا۔۔۔ رنگوں میں لت پت، وہ سفید ساڑھیوں والی بیوائیں، جن میں ہر عمر کی عورت شامل تھی، شائننگ انڈیا نے انہیں 2013ء میں پہلی دفعہ سرکاری طور پر ہولی کھیلنے کی اجازت دے دی ہے!

ذات پات، چھوت چھات اور منوسمرتی میں جکڑا، ہندوستانی معاشرہ جس میں بیواؤں کو ستی کرنے کی رسم اب بھی کچھ ریاستوں میں موجود ہے، وہاں بیواؤں کو ہولی کے رنگ کھیلنے کی اجازت؟ خدا جانے یہاں کے مذہبی اجارہ دار، ڈنڈا بردار اور ’’مولوی‘‘ اس پر کیسا ردعمل ظاہر کریں گے؟ بدلتے ہوئے ہندوستانی معاشرے میں تبدیلی کی اس زیریں لہر پر اگلے کالم میں بات کریں گے؟

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں