بیٹے کو باپ بنانا پڑا!

طیبہ ضیاء چیمہ
طیبہ ضیاء چیمہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آخر کار زرداری صاحب پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ جیالے بلاول میں اس کی ماں کا عکس دیکھنا چاہتے ہیں۔ صدر زرداری اور ان کی بہن بھٹو کی پارٹی کو زیادہ دیر یرغمال نہیں بنا سکتے۔ بلاول کے بغیر پارٹی کا وجود ختم ہو جاتا ہے لہذا حالات کی ستم ظریفی نے زرداری صاحب کو یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ بلاول پر اس کے باپ کا نہیں، اس کی ماں کا عکس دکھائی دینا چاہئے۔ مجبوری میں گدھے کو بھی باپ بنانا پڑ تا ہے جبکہ بلاول تو لخت جگر ہے، اسے باپ بنا ئے بغیر پارٹی نہیں چلائی جا سکتی۔ آصف علی زرداری کو سمجھ آ گئی ہے کہ پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کا بیٹا ماں کے نقش قدم پر چلنے کا اعلان کر دے۔

زرداری صاحب کی عقل ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک نیا بلاول پیش کرے گی۔ ایک عاقل بالغ بااختیار بلاول منظرعام پر آرہا ہے۔ الیکشن سر پر ہیں اور زرداری صاحب کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہو رہی ہے۔ نوائے وقت کی خبر کے مطابق بلاول نے باپ سے کہاکہ اس کی ماں کے قتل کیس میں رحمن ملک کا نام بھی شامل کیا جائے جبکہ بی بی کے قتل کا مرکزی کردار پرویز مشرف بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ ظلم کی داستان جہاں سے شروع ہوئی تھی‘ اختتام بھی اسی شہر میں ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔

راولپنڈی کی تاریخ ناخوشگوار ہے۔ ماضی میں بھی سیاسی شخصیات کو پنجاب میں لاکر مارا گیا۔ عدالت نے مشرف کی بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کے واشنگٹن پوسٹ میں ایک بڑے سائز کے جوتے کی تصویر شائع ہوئی ہے۔ یہ جوتا ایک پاکستانی نے بنایا ہے اور اس جوتے کو دنیاکا سب سے بڑا جوتا قرار دیا گیا ہے۔ تصویر میں جوتا تیار کرنے والا پاکستانی ہیرو جوتے کے اندر ہاتھ میں ایوارڈ تھامے بیٹھا دکھایا گیا ہے۔پاکستان کے لئے یہ بات باعث فخرہے کہ ایک پاکستانی شہر ی محمد مرتضیٰ نے دنیا کا سب سے بڑا جوتا بنا کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ۔ جوتا بنانے کا آئیڈیا ان کے دماغ میںصدر بش نے ڈالا تھا۔

پاکستان کے سابق فوجی ڈکٹیٹر اور سابق صدر پرویز مشرف کی پاکستان آمد پر ایک برہم وکیل نے ان پر جوتا پھینک مارا۔ ناپسندیدہ حکمرانوں پر جوتے برسانے کی روایت عراق سے شروع ہوئی جب ایک عراقی صحافی نے سابق امریکی صدر جارج بش کی عراق آمد پر بطور استقبال ان کو مارا تھا اور یہ وہ نشانہ تھا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی البتہ صدر بش نے جس مہارت سے خود کو بچایا اس کی مثال بھی نہیں مل سکتی۔ اس واقعہ کے بعد حکمرانوں پر جوتے پھینکنے کا رواج عام ہونے لگا اور اس کی ایک حالیہ مثال پرویز مشرف کی پاکستان آمد پر پھینکے جانے والا جوتا ہے۔ سیاسی شخصیات کی طرف جوتا اچھالنا چونکہ نفرت کی علامت سمجھا جاتاہے لہذا ایک پاکستانی نے دنیا کا سب سے بڑا جوتا بنا کر اس علامت کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کی۔

پرویز مشرف پر اس سے پہلے بھی برطانیہ میں پاکستانیوں کے اجتماع میں جوتا پھینکا گیا تھا ۔اس بار یہ کارنامہ ایک وکیل نے انجام دیا۔اس نے سوچا اگر ایک فوجی آئین توڑ سکتا ہے تو ایک وکیل قانون کیوں نہیں توڑ سکتا۔ انہتر سالہ مشرف سترہ بہتر ہو گیا ہے ورنہ وہ پاکستان کبھی واپس نہ جاتا۔ ایک طرف صدر زرداری اور مشرف کے بیچ کچھ پک رہا ہے اور دوسری طرف ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کلین سویپ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان نے خواب میں اپنی پارٹی کو کلین سویپ کرتے دیکھا ہے اور انہیں یقین ہے کہ چھ ہفتوں کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم ہوں گے جبکہ میاں نواز شریف جاگتی آنکھوں سے کلین سویپ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کا موڈ بتا رہا ہے آئندہ حکومت مسلم لیگ کی ہو گی۔

میاں شہباز عوام کے موڈ پر نہ رہیں، کیونکہ عوام کا موڈ بدلنے میں دیر نہیں لگتی، عمران خان کا پلڑا بھی بھاری جا رہا ہے۔ کسی ایک پارٹی کا اکثریت کے ساتھ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کا نظریہ اور سمت ایک ہے؟ لہذا دونوں پارٹیوں کا حکومتی اتحاد ملک کو درست سمت لے جانے میں مددگار ثابت ہو گا‘ بشرطیکہ قبلہ بھی درست رہے۔ عمران خان حیران و پریشان ہیں کہ کچھ لوگوں کو ان کا خطابات میں اللہ و رسول کا نام لینا پسند نہیںجبکہ اللہ و رسول پر پختہ ایمان ہی انہیں وزیراعظم بنائے گا۔ خان صاحب نے دل سے اسلام قبول کیا ہے لیکن تمام سیاسی و مذہبی قائدین مسلمان ہیں۔ الیکشن کی جیت کے لئے سب کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوئے ہیں البتہ الیکشن کمشن کے سامنے پہلا کلمہ بھی بھول جاتا ہے۔ لوگوں کے مجمع اور میڈیا کی موجودگی میں اچانک سوال پر بوکھلاہٹ میں بعض اوقات سگی پھوپھی کا نام بھی بھول جاتا ہے۔

بلاول کی پھوپھی بھی بلاول کے لئے سوال بنی ہوئی ہیں۔ پھوپھی بلاول کی خالہ نہیں جو خود کو سیاست سے بے دخل کر کے لندن سکونت اختیار کر لیں۔ پھوپھی کے بھائی کو پارٹی کا مستقبل داﺅ پر لگتا دکھائی دیا تو بیٹے کو باپ بنانا پڑا۔ یہ سیاسی باپ ہے جو اقتدار کے لئے کچھ بھی کر گزرتا ہے مگر اولاد کے ہاتھوں دنیا کا ہر باپ مجبور ہے۔ آج زرداری صاحب کو اپنی اہلیہ کی بہت یاد ستا رہی ہے۔ پہلے بیوی کے سامنے نہیں چلتی تھی اور آج بیٹے کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔!

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں