.

ریٹرننگ افسران، مسرت شاہین اور جمشید دستی

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ روز ایک قاری نے مجھے فون کیا اور کہا ”آپ نے اپنے تاشقند پر لکھے گئے کالم میں اپنے ہم سفروں اورمیزبانوں کے بارے میں کلمہ خیر کہا ہے، کیا آپ نے ان سے دعائے قنوت سن لی تھی اور ان سے”غسل“ کا طریقہ دریافت کیا تھا؟“ میں نے کہا”بھائی، میں ریٹرنگ افسر نہیں ہوں ورنہ میں ان سے ایسے ایسے سوال کرتا کہ آپ جیسوں کا جی خوش ہوجاتا“۔اس پر قاری نے کہا”کاش آپ ان سے یہ سوال کر ہی لیتے“۔میں نے جواب دیا”بھائی، ایک لمحے کے لئے میں نے سوچا ضرور تھا کہ ان سے دعائے قنوت سنوں،”غسل“ اور ”طہارت“ کے مسائل پر سوالات کروں،”صفائی ستھرائی“ کے اسلامی طریقوں کے بارے میں بھی، میں ان سے پوچھنا چاہتا تھا مگر اس خوف سے یہ سب کچھ نہ پوچھا سکا کہ وہ کہیں الٹا مجھے سے ان سوالوں کے جواب مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کرڈالیں“۔

دراصل ان دنوں الیکشن میں حصہ لینے والے سیاستدان جب کاغذات داخل کرانے جاتے ہیں تو ان کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے والے ریٹرننگ افسران آئین کی دفعہ62-63کے مطابق ان کے اسلامی کردار اور صادق و امین ہونے کی تصدیق کے لئے ان سے اس قسم کے سوالات پوچھتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ویڈیو بھی تیار کی جاتی ہے اور ٹی وی چینلوں پر یہ مناظر دکھا کر سیاستدانوں کے خلاف ایک فضا قائم کرنے کی اس مہم کو مہمیز دی جاتی ہے جو ایک عرصے سے جاری ہے اور جس کا مقصد ملک کو سیاستدانوں کے ”چنگل“ سے آزاد کرکے ان غیر سیاستدانوں کے ”چنگل“ میں پھنسانے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش قرار دیا جاسکتا ہے جن کے دور میں پاکستان

دو ٹکڑے ہوجاتا ہے اور باقی ماندہ ملک دہشتگردی کے ذریعے توڑنے کی کوششیں تیز سے تیز تر ہونے لگتی ہیں۔ تاہم اس سارے عمل کے دوران کچھ بہت دلچسپ باتیں بھی سامنے آئی ہیں، مثلاً رقاصہ اور اداکارہ مسرت شاہین بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ، چنانچہ وہ جب کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے لئے کورٹ میں پہنچیں تو ریٹرننگ افسر نے ان سے کوئی آیت سنانے کے لئے کہا جس پر انہوں نے ایک کی بجائے دو آیتیں فر فر سنادیں۔ ان سے ان کے اثاثوں کے بارے میں غالباً اس لئے نہیں پوچھا گیا کہ وہ اپنی پشتو فلموں میں اپنے اگلے کے پچھلے سارے”اثاثے“ کئی بار ظاہر کرچکی ہیں، چنانچہ ان کے صادق اور امین ہونے میں کون کافر شک کرسکتا ہے، سو ان کے کاغذات منظور کرلئے گئے اور اب وہ مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں ا لیکشن لڑیں گی۔ حالانکہ

الیکشن لڑنے کی بجائے مولانا سے صرف لڑ کر بھی مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کچھ باتیں اس کے علاوہ بھی ہیں، مجھے اس امر کی دلی خوشی ہے کہ فراڈئیے قسم کے سیاستدانوں کو الیکشن میں حصہ لینے اجازت نہیں دی جارہی بلکہ اگر ان سے کوئی جرم سرزد ہورہے ہیں تو انہیں سزائیں بھی سنائی جارہی ہیں ، چنانچہ جعلی ڈگریوں والے ان دنوں کڑے احتساب کی زد میں ہیں۔ ان کے علاوہ جنہوں نے ناجائز دولت کمائی ہے، انہیں بھی احتساب کے شکنجے میں لانا چاہئے تاہم یہ سارا عمل صاف اور شفاف ہوتا کہ جمہوریت اپنے پورے حسن کے ساتھ پھلے پھولے اور جو لوگ ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتارنا چاہتے ہیں، وہ منہ کی کھائیں۔ ایک سوال میرے ذہن میں ہے اور وہ یہ کہ کیا جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے دوسرے ساتھی جو فوجی بغاوت میں ان کے ساتھی تھے، اگر الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا انہیں اس کی اجازت مل سکے گی، بظاہر یہ ممکن نہیں کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں خائن تھے، مگر ہمارے ہاں سب کچھ ممکن ہے۔ مجھے حیرت خود جنرل صاحب پر بھی ہے جو پوری ڈھٹائی سے دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ان سے محبت کرتے ہیں۔

میرے قارئین مجھے معاف فرمائیں ،میں پیپلز پارٹی کے ایک رہنما جمشید دستی کے حوالے سے اپنے دل میں موجود نرم گوشہ کا اظہارکرنا چاہتا ہوں، پی پی پی میں شاید دو چار اور”دانے“ ان جیسے ہوں جنہوں نے پارلیمنٹ کارکن ہونے اور حکومتی جماعت میں اپنی پذیرائی کے باوجود لوٹ مار میں حصہ نہ لیا ہو۔ یہ نوجوان کل بھی غریب تھا اور آج بھی غریب ہے۔ اس کی ڈگری بھی جعلی نکلی، مگر میرے نزدیک یہ نوجوان ہزاروں اصلی ڈگریوں والوں سے بہتر ہے۔ ویسے بھی پارٹی نے اس کی بجائے حنا ربانی کھر کو ٹکٹ دے دیا۔ گزشتہ روز میں نے ٹی وی پر اسے سیاست کو خیر باد کہنے کا اعلان کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا۔ میں اس کے دکھ میں شریک ہوں مگر میں اس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر تم لیٹروں سے بھری ہوئی جماعت میں شامل ہو ہی گئے تھے تو اس گنگا میں دو تین ڈبکیاں تم بھی لگا لیتے تاکہ تمہیں یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا۔ اب روتے رہو، مجھے کیا؟

میں تمہاری ڈگری کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا، یہ اصلی ہے کہ جعلی ہے ، مگر تم سے تو مسرت شاہین زیادہ ”عزت دار“ نکلی کہ اس کے صادق امین اور نیک شہرت کا حامل ہونے میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.