.

پاکستان کی مشکلات

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہاں پر لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان غیر یقینی حالات کا شکار ہے، عجیب بات یہ ہے کہ جب انتخابات سے قبل اسے زیادہ شدید مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے تو ملک بڑے حیرت انگیز طور پر ان مسائل کا حل تلاش کر لیتا ہے۔ اس مرتبہ انھوں نے سابق جسٹس میر ہزار خان کھوسو کو نگراں وزیر اعظم کے طور پر منتخب کر لیا ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں گے۔

چونکہ مختلف پارٹیوں کی طرف سے خاصی کھینچا تانی ہو رہی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل نگراں وزارت عظمیٰ کے لیے بمشکل ہی کوئی متفقہ امیدوار چنا جا سکے گا۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے جو بنگلہ دیش نے بھی آزمایا ہے تاہم بھارت کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے الیکشن کمیشن کے دانت اب اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ وہ سب کو سیدھا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات قطعی غیر جانبدارانہ ہوںگے۔ پاکستان آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ انتخابات آزادانہ ہوں گے۔

آرمی منصفانہ انتخابات ضرور چاہتی ہے لیکن یہ ایک کھلا راز ہے کہ آرمی انتخابات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اس کے باوجود بھی یہ مان لینا ضروری نہیں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے تمام اراکین صرف جائز طریقے سے ہی منتخب ہوں گے۔ ماضی میں تو ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی مستقبل کے بارے میں کوئی وعدہ وعید کیا جا سکتا ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف‘ جو خود ساختہ جلا وطنی سے واپس لوٹے ہیں، وہ مبہم پیغامات جاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے غیر جانبدارانہ انتخابات کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن یہ بھی وہی تھے جنہوں نے اپنی پسند کے امیدواروں کو جتوانے کے لیے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں ان کا داخلہ خاصا ڈسٹرب کرنے والا ہو گا۔ میں اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتا کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے خود کو کراچی سے منتخب کرا لیں گے اور اس طرح اپنے چند ساتھیوں کو بھی کسی اور جگہ سے کامیاب کرا سکیں گے۔

یہ عجیب بات ہے کہ مشرف نے پاکستان پہنچتے ہی جو پہلا بیان دیا وہ یہ تھا کہ کارگل ایک فتح تھی۔ یہ بھی قابل فہم ہے کہ مشرف اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرنا چاہتے ہیں مگر وہ کارگل کے حقائق کو مسخ نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے حقیقت سے انکار کرنا اسی سوچ کا غماض ہے جو انھیں پاکستان میں انتخاب لڑنے کے لیے لے آئی ہے۔ عوام کارگل کے حقائق جانتے ہیں اور مشرف کے بلند بانگ دعوے سچ کو بدل نہیں سکتے۔

مشرف کی عدم مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ناراض وکیل نے سابق صدر پر جوتا پھینک دیا جب وہ اپنے خلاف قانونی نالش کا سامنا کرنے کی خاطر عدالت جا رہے تھے۔ بہرحال مشرف کے لیے اس قسم کی خجالت کا سامنا کرنے کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ دو سال قبل جب وہ برطانیہ میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے تب بھی ایک شخص نے ان پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی تھی۔

ایک ریٹائرڈ پاکستانی لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے ایک کتاب لکھی ہے اور الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ہمارے بچوں کو ’’لائن آف فائر‘‘ میں ڈال دیا۔ لیکن جس نکتے کی تفہیم سے مشرف انکار کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اصل حقیقت کے اظہار سے معاملات کہیں اور زیادہ پیچیدہ اور گنجلک نہ ہو جائیں۔ اور کیا یہ مشرف کی آمد ہے جس نے عمران خاں کے جلوے کو دھندلا دیا ہے کیونکہ ایک وقت میں یہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ عمران خان کی تحریک انصاف انتخابی نتائج میں جھاڑو پھیر دے گی۔ پرانا طرز سیاست ممکن ہے آیندہ انتخابات کے بعد بھی جاری رہے۔ پنجاب نواز شریف کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے جب کہ سندھ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ ہی رہے گا۔

شمال مغربی سرحد صوبہ (خیبر پختونخوا) ممکن ہے پھر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو واپس مل جائے جس سے ہمیں خان عبدالغفار خان کی قیادت میں سرخ پوشوں کا جمگھٹا نظر آنے لگے جو برصغیر کی جدوجہد آزادی کے دوران نظر آتا تھا۔ چوتھا صوبہ بلوچستان پی پی پی کے بنیادی طور پر ہی خلاف ہے۔ لہٰذا وہ یا تو اے این پی کی طرف مراجعت کرے گا یا پھر بعض قوم پرستوں سے الحاق کر لے گا جو پہلے ہی اپنی شناخت کے لیے مسلح لڑائی میں مصروف ہیں لیکن یہ منظر نامہ کسی طور پر بھی بھارت کے لیے ساز گار نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دن بدن تاریکی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حقیقت میں پاکستان اگر ایک مہذب ریاست کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اقلیتوں کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ وہ نصاب ہے جو طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے۔ پاکستانی اسکولوں میں پانچویں کلاس کی سوشل اسٹڈیز (انگریزی میں) جو بارہ سالہ بچوں کو پڑھائی جاتی ہے اس کا آغاز ہندوئوں اور مسلمانوں میں اختلافات کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ متحدہ پاکستان کے حق میں صرف تین جملے لکھے گئے ہیں جن کا اختتام ان الفاظ سے ہوتا ہے ’’بھارت کی مدد سے مشرقی پاکستان الگ ہو گیا‘‘۔

آٹھویں کلاس کی انگریزی کی نصابی کتاب میں اور زیادہ اختصار اور سادگی سے لکھا گیا ہے کہ ’’سابقہ مشرقی پاکستان کے بعض لیڈروں نے بھارت کی مدد سے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی اور بنگلہ دیش قائم کر لیا۔‘‘ نویں اور دسویں کلاس کی اردو کی کتابوں میں کہیں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے… تقریباً تین صفحات اس کے لیے مختص کیے گئے۔

درایں اثناء5 فروری کو بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) نے عبدالقادر مُلا کو اس کے خلاف چھ جرائم میں سے پانچ پر فرد جرم عاید کر دی ہے۔ آئی ٹی سی نے مُلا کو‘ جو بنگلہ دیش جماعت اسلامی کا اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل ہے‘ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ شاہ باغ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ یہ سزا کافی نہیں، وہ اس کو پھانسی دینے کا تقاضا کر رہے تھے۔

دوسری طرف جماعت نے بھی نہایت شدید احتجاج کیا اور پر تشدد مظاہرے کیے۔ لیکن اس کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
یہ بات بہت عجیب ہے کہ مُلا کے معاملے کو ترکی کی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ صدر عبداللہ گل نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کے صدر کے نام خط لکھا ہے جس میں ان تمام لوگوں کے لیے عام معافی کی اپیل کی ہے جن پر قتل عام کے الزامات عائد ہیں۔ ترکی کے صدر ایک استثنیٰ محسوس ہوئے ہیں کیونکہ باقی کسی نے ایسا نہیں کیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.