جعلی اراکین، جعلی اسمبلی، جعلی ڈگری

....
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کچھ دن پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دہری شہریت اور جعلی ڈگری کے معاملات پر سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے حامل سابق اراکین کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ پاکستان میں نگراں حکومتوں کے سامنے آنے کے بعد قانون اور آئین حرکت میں آچکا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ کا کنٹرول آف لاء سے پاکستان کا سیاسی نقشہ الیکشن سے پہلے ہی تبدیل ہونا شروع ہوچکا ہے۔ شیخ وقاص ہوں یا جمشید دستی یا کوئی مولانا صاحب، ہر کسی نے جعلی ڈگری حاصل کی اور عملی سیاسی زندگی کا آغاز کرکے ملک و قوم کے لئے جعلی قانون سازی کی اور ہمارا نظام اس پر کافی عرصہ تک خاموش رہا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا شکریہ کہ، دیر آئے درست آئے۔


یہاں پر میرے جیسے کئی سیاسی طالب علم کچھ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ جعلی ڈگری والے اراکین اسمبلی، اسمبلی کے اندر موجود تھے اور ان لوگوں کی ایک کافی تعداد نے اسمبلی کے اندر ہونیوالی قانون سازی کی حمایت کی اور اس میں حصہ لیا۔ ان میں کچھ کابینہ میں ہونے والی قانون سازی میں بھی شامل رہے کیا اسمبلی کے اندر کی جانے والی قانون سازی یا آئینی ترامیم کو اصلی کہا جا سکتا ہے جو قانون اور آئین عوام کو دیا گیا کیا وہ جعلی نہیں کیا اسمبلی جعلی نہیں تھی؟ اگر اتنی بڑی تعداد میں اور اتنے بڑے پلیٹ فارم پر جعل سازی کی گئی تو یہاں ہونے والی آئین سازی ترامیم اور دیگر قوانین کی کیا اخلاقی، سیاسی اور قانونی، آئینی حیثیت ہوگی؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کو اس پر بھی از خود نوٹس لینا چاہئے۔ یہ پاکستانی قوم کا اخلاقی اور سیاسی اور آئینی مسئلہ ہے۔


کیا گزشتہ پانچ سالوں میں اسمبلی کے اندر ہونے والی قانون سازی کو جعلی کہا جائے یا اس کو اصلی کہا جائے؟۔
جعلی ڈگری تعلیمی سند حاصل کرنے والے عوامی نمائندہ جعلی قانون سازی کرتے رہے۔ اخلاقی طور پر اس کا کیا ،کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت آئین اور قانون کہاں تھا؟ قانونی ماہرین اس پر کیوں خاموش رہے اور کیوں خاموش ہیں؟ اس معاملے پر پانچ سال کیوں خاموشی اختیار کی گئی؟ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ اور کیا ان ذمہ داروں کو سزا ہوگی؟ الیکشن کمیشن کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ کوئی بھی جعلی ڈگری والا اسمبلی کے اندر موجود نہیں ہوگا؟ تعلیمی اسناد کی تصدیق کروانے میں اتنی دیر کیوں کی گئی؟ عالمی سطح پر پاکستان کا سیاسی امیج خراب ہوا ملک کی بدنامی ہوئی اس کا ذمہ دار کون ہے۔ پانچ سالوں کے اس سیاسی پس منظر میں یہاں پر کی جانے والی آئین سازی اور قانون سازی کو کیسے درست قرار دیا جاسکتا ہے؟
اس جعلی ڈگری سکینڈل کی زد میں پارلیمنٹ کا حصہ رہنے والی پاکستان کی تقریباً تمام اہم سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اراکین آئے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد مسلم لیگ ن اور پی پی پی اور جمعیت علماء اسلام (ف) گروپ کی ہے۔ یہ جماعتیں اخلاقی و سیاسی طور پر ان اراکین کے ساتھ کیا سلوک کرینگی؟


ایسے اراکین جن پر جعل سازی ثابت ہوچکی ہے کیا وہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاحیات سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے یا کوئی سیاسی جماعت تبدیل کرنے کی کوشش کرینگے۔ اگر ایمان نام کی کوئی چیز ہے تو سیاسی زندگی سے توبہ کرلیں اسی میں عزت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں