مچھروں کوچھاننا

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نہ جانے ہمیں کیا ہوگیا ہے ہم اصلاح نہیں کرتے‘ اپنا غصہ اتارنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ظرف نام کی چیز ناپید ہوتی جارہی ہے‘ جس کو اختیار ملے اسے آپے سے باہر ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ سیاستدان کو اختیار ملے تو وہ یوں لوٹتا ہے جیسے اس کے بعد نہ پاکستان رہے گا اور نہ پھر کبھی اسے لوٹنے کا موقع ملے گا۔ فوجی کو اختیار ملے تو وہ صرف اپنے طبقے کو انسان اور باقی انسانوں کو غلام سمجھنے لگتاہے۔ اخبار نویس کو تھوڑی سی عزت ملے تو وہ دوسروں کی عزت سے کھیلنا اپنا حق سمجھ لیتا ہے۔ اب ریٹرننگ افسران کو اختیار ملا تو وہ آپے سے یوں باہر ہو گئے کہ قوم کے نمائندوں کو ذلیل کر کے رکھ دیا۔ اپنی عزت کمانے کی کوشش کے بجائے ہم عزت والوں کی بے عزتی کا حظ اٹھاتے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم سطح بین بن گئے ہیں ۔ یہاں اسلام ‘ اسلام کا ورد دنیا کے کسی بھی خطے سے زیادہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہی وہ ملک ہے جہاں قرآن وسنت کی کسوٹی پر معاملات کو پرکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی جاتی ۔ یہاں اسلام کے نام پر اسلام کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا ہے ۔ یہاں اسلام کو ذاتی اور سیاسی مقاصد بلکہ اب تو صحافتی مقاصد تک کیلئے بری طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ لغو سے لغو چیزوں کو بھی اسلام کا لبادہ اڑھا دیا جاتا ہے اور پھر اس سے اختلاف کرنے والے کو اسلام اور پاکستان کا دشمن قرار دیا جاتا ہے ۔

حضرت عیسیٰ  کے الفاظ میں یہاں مچھروں کو چھاننے اور اونٹوں کو نگلنے کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ شرک جیسا عظیم گناہ یہاں پر عام ہے لیکن فروعی مسائل کا یہاں چرچا ہے۔ مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل یہاں زوروں پر ہے لیکن یہاں سارا زورسیاست پر ہے۔ آئین پاکستان کو توڑنے والے اور سیاسی منافقت کی نئی تاریخ رقم کرنے والے یہاں مردِ مومن مردِ حق کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں اور ان کے سیاسی مقاصد کیلئے بنائے گئے قوانین پر تنقید کو یہاں کفر سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان کو دولخت کرنے والے یہاں ہیرو قرار پاتے ہیں لیکن نظریہٴ پاکستان کی تعریف اور وضاحت کا مطالبہ کرنے والوں کو یہاں پاکستان مخالف کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی روش کی وجہ سے یہاں کے اصل مسائل کبھی موضوع بحث نہیں بن سکے اور ہر وقت سیاسی اور صحافتی افق پر نان ایشوز چھائے رہتے ہیں۔ مچھروں کو چھاننے اور اونٹوں کو نگلنے کی تازہ ترین مثالیں ملاحظہ کرلیجئے ۔ محترم آصف علی زرداری کے مقرر کردہ سیاسی گورنر تعینات ہیں لیکن ان کا کوئی ذکر نہیں ہو رہا اور کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ ان کے ہوتے ہوئے صاف و شفاف الیکشن کیسے منعقد ہوں گے۔ وزیراعظم تو تھے ہی زرداری صاحب کے‘اب نگران کابینہ میں بھی ان کے بعض خدمت گار وزیر بنا دیئے گئے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ۔ بڑی بڑی کارپوریشنوں اور اہم قومی اداروں میں ابھی تک وہی لوگ براجمان ہیں جنہیں خاص مقاصد اور اس خاص وقت کیلئے تعینات کیا گیا تھا لیکن الیکشن کمیشن اس طرف دھیان ہی نہیں دے رہا۔ پنجاب کے سوا باقی تین صوبوں میں وہی ڈی پی اوز اور ڈی سی اوز تعینات ہیں جنہیں سابق حکمران جماعتوں نے مُک مُکا کے ذریعے تعینات کیا ہے ۔ قبائلی علاقوں میں کئی حلقوں میں سیاسی رہنما داخل نہیں ہوسکتے لیکن الیکشن کمیشن اس ضمن میں کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہا۔ واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں ریٹرننگ آفیسرز جج نہیں بلکہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ مقرر کئے گئے ہیں ۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ ان کے ہاں انتخابات کے لئے آزادانہ ماحول میسر نہیں لیکن ان کے اطمینان کے لئے اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔

قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں گزشتہ پانچ سال کے دوران نوّے فیصد سے زیادہ ترقیاتی فنڈ منتخب ممبران اسمبلی اور بیوروکریسی نے مل کر ہڑپ کئے ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ سابق ممبران میں سے چند ایک کے سواباقی سب باسٹھ تریسٹھ کے شکنجے میں آجائیں گے لیکن وہ سب کے سب باسٹھ تریسٹھ پر پورے اتر گئے ۔ اربوں کھربوں کے قرضے معاف کرانے والے باسٹھ تریسٹھ کی چھلنی سے نکل گئے لیکن ایاز امیر ایک کالم کے ایک فقرے کی وجہ سے پھنس گئے۔ ماضی گواہ ہے کہ انتخابات میں سب سے زیادہ مداخلت ایجنسیوں کی طرف سے کی گئی لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ الیکشن کمیشن اس خطرے کے تدارک کیلئے کیا کررہا ہے۔ انتخابی دھاندلی کا سب سے بڑا مظاہرہ آئی جے آئی کی تشکیل اور پھر اس کی سرپرستی کی صورت میں کیا گیا۔ اصغرخان کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی۔ ہمیں تو اس کیس کے مختلف کرداروں کے خلاف الیکشن کمیشن یا عدالتوں کی طرف سے کوئی کارروائی نظر نہیں آئی لیکن باسٹھ تریسٹھ کا چرچا بہت ہے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ سیاست میں کرپشن کی بنیادآرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کے خالق جنرل ضیاء الحق کے دور میں ڈالی گئی ۔ ان کی دور میں غیرجماعتی انتخابات کرائے گئے جن کے نتیجے میں پیسے اور جاگیر والے لوگ ہی منتخب قرار پائے ۔اسی دور میں اراکین اسمبلی و سینیٹ کو ترقیاتی فنڈ دینے کا رواج ڈالا گیا اور یہی ترقیاتی فنڈ سیاستدانوں کو کرپٹ کرنے کا موجب بنے۔ اسی وجہ سے سیاست منافع بخش کاروبار بن گیا حالانکہ ممبران اسمبلی کا کام صرف اور صرف قانون سازی ہے ۔ اگر ترقیاتی فنڈز کا اجراء ختم کرکے اراکین پارلیمینٹ کو ترقیاتی کاموں سے لاتعلق کردیا جائے تو کرپٹ لوگوں کیلئے پارلیمینٹ کی کشش ختم ہوجائے گی۔ اب کرپشن کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن امیدواروں سے یہ حلف لے کہ وہ ممبر منتخب ہونے کے بعد ترقیاتی فنڈز نہیں لیں گے اور اسی حساب سے سیاسی جماعتوں سے بھی یہ حلف لیا جائے کہ وہ پارلیمینٹ میں جانے کے بعد ممبران پارلیمینٹ کو ترقیاتی سرگرمیوں سے دور کرکے ان کے لئے ترقیاتی فنڈز کا خاتمہ کریں گی لیکن یہاں الٹ کام کیا گیا ۔ نامزدگی کے فارم میں ہر ممبر سے پوچھا جارہا ہے کہ اس نے اپنے حلقے میں کتنے ترقیاتی کام کئے،گویا اس قبیح عمل کو مزید سند جواز عطا کر دی گئی ہے۔ آگے آگے دیکھئے کہ باسٹھ تریسٹھ کی آڑ لے کر کس طرح ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالی جائے گی ۔ ابھی تو صرف شیخ رشید احمد کی مبینہ خفیہ شادی کا ذکر چلا ہے ابھی تو عمران خان ‘ نوازشریف اور نہ جانے کس کس کی ذاتی زندگی سے متعلق کیا کچھ سامنے آنے والا ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے بنائے ہوئے قوانین کو اسلامی قوانین ثابت کرنے والے صحافتی مناظرہ باز فتوے لگا کر دوسروں کے ایمان تو مشکوک بنارہے ہیں لیکن یہ بھول رہے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنی کتاب میں ہمیں تجسس اور کرید سے منع کیا ہے اور اسی میں بدگمانی کو گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مجھے صحافتی صوفی محمد قرار دینے والے قابل احترام استادوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر کسی اسلامی حکم کی مخالفت اس بنیاد پر جائز نہیں کہ وہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں قانون کا حصہ بنا تو ضیاء الحق کے بنائے گئے ہر قانون کو اسلام قرار دینا بھی درست نہیں۔ اسلامی قوانین کا مذاق اڑانے والوں پر اللہ کی لعنت ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ باسٹھ تریسٹھ اسلام کے مطابق ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت میں پیش کئے گئے اللہ کے قوانین دنیا کے سب سے بلیغ اور ہر طرح کے ابہام سے پاک قوانین ہیں لیکن آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا قانون ابہام سے بھرا ہے پھر میں ان کو کس طرح اسلامی قانون مان لوں؟ ہمارا مطالبہ تو فقط اتنا ہے کہ یا تو باسٹھ تریسٹھ کی مبہم باتوں کو اس طرح واضح کرو جس طرح کہ قرآن وسنت کے احکامات واضح ہیں اور یا پھر اس کو اسلامی قرار دینا چھوڑ دو۔ ہم تو فقط یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ”دین کا خاطر خواہ علم‘ پارسا‘ فاسق اور امین جیسے الفاظ کی سپریم کورٹ یا پھر الیکشن کمیشن تعریف کرے اور پھر اس کسوٹی پر لوگوں کو پرکھے ۔ وہ نہیں کرسکتے تو ملک کے نامور مفتیوں سے اس کی واضح تعریف کروادیں۔ ان سے بھی نہیں کرواسکتے تو چلئے ہمارے صحافتی مفتیوں اور مناظرہ بازوں سے کروادیں ۔ کم از کم وہ کسوٹی تو معلوم ہوجائے کہ جس پر لوگوں کو پرکھا جائے گا۔ مولانا صوفی محمد میرے محترم ہیں ۔ ان کے ساتھ ذاتی تعلق بھی ہے لیکن میرا ان سے ہمیشہ اس بات پر اختلاف رہا کہ وہ اپنی تعبیر کو ہی حتمی اور شریعت سمجھتے تھے ۔ اس ضمن میں میرا اور ان کا اختلافی مکالمہ ماضی میں میرے کالموں میں شائع ہوا ہے ۔

صوفی صاحب تو پھر بھی اپنی تعبیر کو شریعت سمجھتے ہیں لیکن ہمارے صحافتی استاد جنرل ضیاء الحق کی تعبیر کو شریعت سمجھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں قارئین فیصلہ کرسکتے ہیں کہ سنتِ صوفی محمد پر میں عمل پیرا ہوں یا پھر ہمارے صحافتی استاد ۔ جہاں تک نظریہٴ پاکستان کاتعلق ہے تو میں تو اس نظریہٴ پاکستان کوکیسے غیر مبہم مان لوں کہ جس کا تو ایاز امیر مخالف ٹھہرے لیکن دو مرتبہ آئین پاکستان کو پاؤں تلے روندنے والے جنرل پرویز مشرف اس کا علمبردار ٹھہرے ۔ چھانتے رہو مچھروں کو اور نگلتے رہو اونٹوں کو اور کیجئے انتظار اس انجام کا جو ایسا کرنے والوں کا ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں