روایتی اسلحہ کی فروخت، برآمد اور منتقلی پر پابندی

پروفیسر شمیم اختر
پروفیسر شمیم اختر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

روایتی اسلحہ کی فروخت پر جولائی سے جاری مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد مغربی طاقتوں اور ان کی طفیلی ریاستوں نے 154 ووٹوں کی اکثریت سے مذکورہ معاہدے کے مسودے کی منظوری دے دی جبکہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسلحہ فروش ریاست وفاقِ روس اور عوامی جمہوریہ چین سمیت 27 ریاستوں نے مذکورہ مسودے پر تحفظات کے باعث رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ عوامی جمہوریہ کوریا، ایران اور شام نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

اس مجوزہ معاہدے کا مقصد جیسا کہ اس کے متن میں درج ہے روایتی اسلحہ کی فروخت کی بلا امتیاز درآمد روکنا ہے اور یہ اختیار اسلحہ فروش ریاستوں کو دے دیا گیا ہے۔ چنانچہ انہیں اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ان ریاستوں کو اسلحہ نہ فروخت کریں جو نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہوں یا ان کے ذریعے اسلحہ دہشت گردوں اور منظم جرائم پیشہ عناصر تک پہنچ سکتا ہو۔ جن اسلحہ جات کی فروخت یا برآمد کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، دور مار کرنے والی توپیں، لڑاکا طیارے، بندوق بردار ہیلی کاپٹر، میزائل اور انہیں داغنے والی مشین اور دیگر ہلکے ہتھیار شامل ہیں۔

روس نے مذکورہ مسودہ اسلحہ فروشی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درآمد پر مؤثر کنٹرول نہیں ہے۔ اس لیے یہ تشنہ ہے کیونکہ اس میں مندرجہ بالا اسلحہ جات کی غیر ریاستی عناصر کو منتقلی پر خاطر خواہ پابندی نہیں لگائی گئی۔ دراصل روس کو یہ خدشہ ہے کہ اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو ریاست کے باغیوں کو اسلحے کی فراہمی کا سدباب کر سکے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ روس کو یہ یقین ہے کہ چیچنیا کے حریت پسندوں کو بیرونی طاقتیں اسلحہ فروخت کرتی ہیں۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود روس کے بدعنوان جنرل شیشان حریت پسندوں کو اسلحہ فروخت کر کے بیرون ملک بینکوں میں وہ رقم جمع کرا دیتے ہیں لیکن شاید زار روس کے جانشینوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ وہ شیشان کی آبادی کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ اس کا ثبوت بارود آلود آبادی والی ریاست کی وسیع پیمانے پر نقل مکانی ے۔ روس شیشان میں نہ صرف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہے بلکہ اس نے روسی نژاد باشندوں کی سیاسی آزادی اور ان کے انسانی حقوق کو سلب کر رکھا ہے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ روس دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ ساز اور اسلحہ فروش ملک ہے۔ اگر اس کے برعکس روس اسلحہ کا خریدار ہوتا تو اس معاہدے کی رو سے کوئی برآمد کنندہ اس کو اسلحہ منتقل نہ کر سکتا کیونکہ پیوتن حکومت نے شیشان اور روس کی حزب اختلاف پر انسانیت سوز مظالم کیے ہیں، اس کی خفیہ ایجنسی نے نامی گرامی صحافی خاتون کا قتل کیا ہے۔ تیل کمپنی کے مالک کو قید کر رکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔

علاوہ ازیں روس، بھارت کو اسلحہ فروخت کرتا ہے جبکہ وہ کشمیر پر فوجی قبضہ کیے بیٹھا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کو جسمانی ذہنی ایذا رسانی اور سیاسی قیدیوں کو ماورائے عدالت قتل کرتا ہے۔ اسے اسلحہ فراہم کر کے روس بالواسطہ کشمیر میں بھارت کی فوج کے مظالم کا ذمہ دار ہے وہ اندرون روس شیشان کے باشندوں پر ظلم تو کرتا ہی ہے لیکن کشمیر پر بھارت کے ناجائز فوجی قبضے کی حمایت کر کے وہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں بھی مجرم ہے۔ ظاہر ہے بھلا وہ ایسے معاہدے کی حمایت کیونکر کر سکتا ہے جو بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے پر قدغن لگا سکتا ہے؟

جہاں تک عوامی جمہوریہ چین کا تعلق ہے تو وہ اسلحہ ساز، اسلحہ فروش اور اسلحہ کا خریدار بھی ہے۔ اس معاہدے کی رو سے اسے اسلحہ برآمد کرنے والے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے کیونہ وہ زنجیانگ اور تبت کے باشندوں کے انسانی حقوق کو بری طرح پامال کر رہا ہے۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو وہ تو اسلحہ فروشوں میں سب سے بڑھ کر ہے۔ دراصل اس کی معیشت کا دار و مدار اسلحہ کی درآمد پر ہے۔ انقلاب ایران سے قبل محمد رضا شاہ آریہ مہر امریکی اسلحہ جات کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ اسی طرح لاطینی امریکہ کے غاصب حکمران امریکی اسلحہ کے بڑے گاہک ہوا کرتے تھے۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ روایتی اسلحہ کے علاوہ جابر حکمرانوں کو ایذا رسانی کے اوزار درآمد کرتا تھا چنانچہ ایران کی رسوائے زمانہ ساوک ایجنسی انہیں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی تھی۔ ایسے اوزار امریکہ نے چلی کے غاصب حکمران پینوشے کو دیے تھے تا کہ وہ اپنے عوام کو ایذا رسانی کے لیے استعمال کرے۔

برطانیہ کی سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی وزارت دفاع نے صدام حسین کو کیمیائی اسلحہ فروخت کیا تھا اور بعد ازاں ان پر مہلک اسلحے کے انبار لگانے کا الٹا الزام بھی عائد کر کے ان کے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلا کر انہیں سزائے موت بھی دلا دی۔ اگر صدام حسین جنگی جرائم کے مرتکب تھے تو انہیں کیمیائی اسلحہ فراہم کر کے مارگریٹ تھیچر بھی اعانتِ جرم کی مرتکب ہو گئیں لیکن صدام حسین کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا جبکہ برطانیہ کی مار گریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر جنگی جرائم کا ارتاکب کرنے پر بھی قانون کی گرفت میں نہ آ سکے۔

دراصل اس معاہدے کی آڑ میں بڑی طاقتیں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ ان ریاستوں کو غیر مسلح کرنا چاہتی ہیں جو ان کی آلۂ کار بننے کے لیے تیار نہیں تھیں مثلاً کیوبا، ایران، عوامی جمہوریہ کوریا، وینزویلا اور اس کے برعکس اسرائیل کو نہ صرف روایتی بلکہ جوہری اسلحہ سے بھی لیس کر دیا ہے تا کہ وہ اپنی ہمسایہ ریاستوں پر عسکری بالا دستی حاصل کر لے۔

اسرائیل اقوام متحدہ کی پچاس سے زیادہ قرار دادوں کو مسترد کر چکا ہے۔ القدس، مغربی کنارے غزہ اور جولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے اور سلامتی کونسل کی قرار داد 242کے باوجود مقبوضہ عرب علاقوں سے انخلا نہیں کرتا۔ اس کے باوجود امریکہ، برطانیہ اور یورپی ریاستیں اسے اسلحہ فروخت کرتی ہیں اور نت نئے مہلک ہتھیار فراہم کرتی ہیں۔ اس معاہدے میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ اسلحے کی فروخت و درآمد پر کسی حد تک پابندی لگاتا ہے لیکن بڑی طاقتوں کے اسلحہ میں تخفیف نہیں کرتا۔

مذہبی نسل کش اور ماحولیات کو مسموم کرنے والے اسلحہ جات کے مکمل خاتمے سے متعلق کوئی لازمی ضابطہ وضع کرتا ہے۔ یہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ حیاتیاتی اسلحہ کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور استعمال تو 1972ء کے کنونشن کی رو سے ممنوع ہے لیکن نسل کش اسلحہ ایٹم اور ہائیڈروجن بم کے خاتمے سے متعلق کوئی بین الاقوامی قانون وضع نہیں کیا گیا اور ان کا استعمال قانوناً ممنوع قرار دیا گیا البتہ جوہری اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی رو سے جوہری اسلحہ کی تیاری، ان کا انبار لگانا اور ان کے استعمال کا اختیار صرف سلامتی کونسل کی پانچ دائمی رکن ریاستوں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو دے دیا گیا ہے۔

کیا جوہری اسلحہ حیاتیاتی اسلحے سے زیادہ تباہ کن نہیں ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ کمتر درجے کا اسلحہ تو ممنوع قرار دے دیا جائے لیکن نسل کش اسلحے کو ممنوع نہ قرار دیا جائے اور اگر کوئی ریاست کسی جوہری طاقت کے حملے سے دفاع کے لیے ، جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے معتوب کیا جائے جیسے عوامی جمہوریہ کوریا؟

اس معاہدے کی پشت پر بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کے عزائم کار فرما ہیں جس طرح جوہری طاقتیں جوہری اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو اس پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اسی طرح وہ اسلحہ کی برآمد سے متعلق معاہدے کو بھی اپنے استعماری مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کریں گی۔ یہ حقیقی مسئلے یعنی روایتی اسلحے کی تحفیف سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ایک چال ہے۔ بڑی طاقتیں اس معاہدے کے باوجود جس ریاست یا غیر ریاستی عناصر کو اسلحہ فراہم کرنا چاہیں گی اسے فراہم کرتی رہیں گی۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size