.

مسسز تھیچر…یادیں اور باتیں

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میری مسز مارگریٹ تھیچر سے پہلی ملاقات 1990ء میں لندن میں ہوئی جہاں میں انڈیا کا سفارت کار بن کر گیا تھا۔ اس وقت انھیں اپنی کامیابیوں کا بڑا مان تھا جن میں سرد جنگ میں فتح یابی نمایاں تھی۔ میں نے انھیں مبارکباد کا ایک خط لکھا کہ کمیونسٹ نظریے کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس سے کہیں زیادہ بڑے دشمنوں کو شکست دینی ہے اور انھوں نے اسلام کا نام لیا۔ مجھے ہمیشہ اس پر حیرت ہوئی ہے کہ کیا اسلامی دنیا میں ہونے والی شورشیں برطانیہ عظمیٰ کا کیا دھرا ہیں۔

تقریباً اسی وقت مجھے پتہ چل گیا کہ وزیر اعظم تھیچر کی کرسی ڈانواں ڈول ہے کیونکہ ’’خاکستری سوٹوں‘‘ والے ان کے کندھے پر تھپکی دے کر انھیں عہدہ چھوڑنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ یہ بات واضح تھی کہ ان کی پارٹی میں ان کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ مسز تھیچر کو ہمہ وقت اپنی اخلاقی برتری کا شدید احساس تھا نیز ہر محفل میں مرکز نگاہ بننے کی عادت کے نتیجے میں ان کے مشہور و معروف ساتھی بھی ان کے سامنے خود کو چھوٹا اور بے وقعت خیال کرتے تھے۔ ان میں سے بہت سے انھیں بہت پہلے ہی نیچے گرانا چاہتے تھے مگر ان کے مقابلے میں وہ سب بونے اور بالشتئے تھے جن میں ان کی عظمت کا سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔

مسز تھیچر کو واضح جیت کے لیے ایوان میں کُلّی اکثریت سے 15 فیصد زاید ووٹ درکار تھے مگر وہ اپنا الیکشن صرف پانچ ووٹوں سے ہار گئیں۔ پس پردہ ہونے والی سرگرمیاں ویسی ہی اندھیرے میں تھیں جس طرح کہ انڈیا میں ہوتا ہے۔ ان کی پارٹی کے لوگوں نے انھیں کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ ایک ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہی ہیں تاہم اپنے انٹیلی جنس ذرایع سے انھیں حقیقت کا پتہ چل گیا چنانچہ انھوں نے اپنا استعفیٰ بھجوا دیا۔ میں نے کنزرویٹو پارٹی کے ایک لیڈر سے خود سنا ہے جو بعد ازاں وزیر اعظم جان میجر کابینہ میں وزیر بن گئے تھے‘ کہ وہ چاہتے تھے کہ پارٹی کی یکجہتی کی خاطر ان کا مستعفی ہونا ضروری تھا۔ لیکن یہ پارٹی کے لوگ ہی تھے جنہوں نے ان سے غداری کی جیسا کہ ایک وزیر نے میرے سامنے اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب ان کے اپنے طرز عمل کا ہی نتیجہ تھا۔

مسز تھیچر نے نہایت بے رحمی سے تمام سبسڈیاں ختم کر دیں اور نجکاری کا اعلان کر کے ٹریڈ یونینوں سے تصادم کا منظر پیدا کر دیا اور اسی طرح کے جرات مندانہ اقدامات سے ان بہت ساری خرابیوں کو دور کر دیا جس کی وجہ سے برطانوی معیشت انجماد کا شکار ہو چکی تھی۔ لیکن ان اقدامات کی انھیں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ یعنی بیروزگاری کا جن بوتل سے نکل آیا اور قوم تقسیم در تقسیم ہو گئی۔ میری خواہش تھی کہ مسز تھیچر جب 1987ء کے انتخابات میں 150 نشستوں سے زیادہ کی اکثریت حاصل کر کے اقتدار میں آئی تھیں تو انھیں اسی وقت ہی مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔

یہ تھیچر کی انتخابات میں مسلسل تیسری کامیابی تھی۔ 1990ء میں وہ اس شخص کی طرح لگتی تھیں جو بہت لمبا عرصہ اقتدار میں رہا ہو جس طرح کے 1962ء میں چین کے ہاتھوں بھارت کی ہزیمت کے بعد پنڈت جواہر لعل نہرو لگتے تھے۔ مسز تھیچر کو رائے عامہ کے جائزے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت اس قدر گر چکی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک شکست خوردہ لیڈر کا کوئی ساتھ نہیں دیتا خواہ اس نے ایک وقت میں کتنے ہی کار ہائے نمایاں کیوں نہ انجام دیے ہوں۔ یہ بات کون بھول سکتا ہے کہ وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو جنگ عظیم دوئم میں فتح کے باوجود فارغ کر دیا گیا تھا۔

میری پہلی سیاسی رپورٹ کنزرویٹو پارٹی کی ضمنی انتخابات میں شکست کی خبر کے بارے میں تھی جو میں نے اپنی آمد کے چند دن بعد بھارت بھجوائی تھی۔ میرا احساس تھا کہ یہاں بھی وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی جس طرح الہ آباد کے ضمنی انتخابات میں وی پی سنگھ کی جیت کے بعد راجیو گاندھی کی کانگریس (اندرا) حکومت 1989ء میں ختم ہو گئی تھی تاہم میرا جی چاہتا تھا کہ میری ہائی کمشنر کے طور پر تعیناتی کے دوران کنزرویٹو حکومت ختم نہ ہو لیکن میری لندن سے رخصتی سے کچھ پہلے مسز تھیچر کی وزارت عظمی ختم ہو گئی۔

البتہ میں یہ ضرور تسلیم کروں گا کہ مسز تھیچر سے میری پہلی ملاقات میں وہ گرمجوشی کے ساتھ مجھ سے ملیں۔ آئرن لیڈی یہ بھول چکی تھیں کہ میں ان کے بارے میں کیا لکھ چکا تھا۔ لندن میں اپنے قیام کے دوران جو میں نے دیکھا اور مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ سفارتی حلقے کھلم کھلا باتیں کر رہے تھے کہ مارگریٹ تھیچر بطور وزیر اعظم ملکہ برطانیہ کی حیثیت کو چیلنج کرتی دکھائی دیتی تھیں جس کو وہ لوگ نہ صرف غیر مناسب خیال کرتے تھے بلکہ اسے ملکہ کی توہین پر محمول کر تے تھے۔ اس کے باوجود ان دونوں (یعنی ملکہ اور تھیچر) کی ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ تھیچر پر ملکہ کی حیثیت کو چیلنج کرنے کا الزام قابل فہم تھا کیونکہ سب جانتے تھے کہ وہ کسی ایسی شخصیت کو برداشت کرنے پر تیار نہیں تھیں جس سے اس کو اپنی مقبولیت کے لیے چیلنج محسوس ہو اور خواہ وہ ملکہ برطانیہ ہی کیوں نہ ہو۔

مجھے بار بار سنائی جانے والی ایک کہانی یاد آ رہی ہے کہ کسی تقریب میں ملکہ اور مارگریٹ تھیچر نے ایک ہی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جس کے بعد مسز تھیچر کی پرائیویٹ سیکریٹری نے شاہی محل کو ایک مکتوب بھیجا کہ آیندہ کسی سرکاری تقریب میں ملکہ جو لباس پہنیں گی اس کے رنگ سے پی ایم آفس کو مطلع کیا جائے تا کہ خاتون وزیر اعظم پر ملکہ سے ملتا جلتا لباس پہننے کا الزام نہ لگے۔ ملکہ کی طرف سے جواب آیا کہ انھوں نے کبھی یہ دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ مسز تھیچر نے کیا پہن رکھا ہے۔

جب بھارتی صدر آر وینکٹ رامن نے انگلینڈ کا دورہ کیا تو مجھے مسز تھیچر کے ساتھ بہت قریب سے بات چیت کا موقع ملا۔ بھارتی صدر کو دی جانے والی دعوت میں، میں مسز تھیچر کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا تھا جس دوران اس سے دو گھنٹے تک مختلف موضوعات پر گفتگو کرتا رہا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس نے بہت ساری دعوتیں ملنے کے باوجود گوردوارے کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا جنہوں نے مسز گاندھی کو ہلاک کر دیا تھا وہ جانے کس قسم کے لوگ ہوں گے۔ مسز تھیچر بھارتی پنجاب میں تشدد کی لہر کا آئرش ریپبلکن آرمی (آئی آر اے) کی دہشت گردی سے موازنہ کرتی تھیں۔ تھیچر کا کہنا تھا کہ بے شک آپ کے یہاں دہشت گردی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ لیکن کشمیر کے بارے میں وہ کچھ کہنے سے گریز کرتی تھیں البتہ یہ ضرور کہتی تھی کہ کوئی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیے جو بھارت کی یکجہتی اور استحکام کے منافی ہو۔ میں نے کہا کہ سیاست سے اخلاقی اقدار ختم ہو رہی ہیں۔ بھارت میں بھی ہمارا اپنا تجربہ یہی ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے پر رکیک حملے کرتے ہیں اور اس سے لطف لیتے ہیں۔

مسز تھیچر نے کہا برطانیہ میں صورتحال اس سے بھی کہیں زیادہ بدتر تھی۔ وہ آپ کو ٹھوکر لگاتے ہیں۔ اگر آپ گر جائیں تب بھی وہ ٹھوکریں مارنا بند نہیں کرتے۔ مسز تھیچر نے اندرا گاندھی کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کا بڑے پیار سے ذکر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر ہم میں کوئی اختلاف رائے بھی ہوتا تھا تب بھی ہماری برابر کی دوستی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ جوں جوں ہماری گفتگو آگے بڑھتی رہی تو مجھے اس آئرن لیڈی (خاتون آہن) کا نرم پہلو دیکھنے کا بھی موقع ملا اور میں نے محسوس کیا کہ وہ بیچاری کس بری طرح مخالفین کا ہدف بنی ہوئی ہے۔

مسز تھیچر نے بہت سے مختلف مسائل پر بات کرنے کے بعد گفتگو کا رخ اپنے نجی معاملات اور مشکلات کی طرف موڑ دیا اور ایک ایسے شخص کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا جو پہلے ان سے محض چند بار ہی ملا تھا۔ اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے کہا ’’اپنے خلاف گھٹیا الزامات کے باعث اس بیچارے کو امریکا منتقل ہونا پڑا (کیونکہ اس پر اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھا کر حکومت سے مراعات لینے کا الزام تھا) مسز تھیچر نے کہا اسے اپنے پوتے پوتیاں بہت یاد آتی ہیں۔ لیکن پھر کہا کہ آخر سیاست میں آنے کی کوئی قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہی ہے۔ وہ اکثر تسلیم کرتی تھیں کہ وہ سب کی رائے لے کر چلنے والی سیاستدان نہیں بلکہ اپنی رائے پر اعتماد کرنے والی پرعزم سیاستدان ہیں۔ اور وہ واقعی ایسی ہی تھیں جنہوں نے برطانیہ کے لیے داد سمیٹ لی۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.