.

افغانستان میں جاری تبدیلیاں

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہے۔ امریکی صدر اوباما نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان میں جنگ 2014ء کے آخر تک ختم ہوجائے گی۔ امریکی فوج جو کہ اس وقت 66000 کی تعداد میں باقی ہے۔ آدھی یعنی 35000 واپس ہو جائیں گے۔ افغان فوج افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔ بقیہ امریکی فوج محفوظ قلعوں میں بیٹھ جائے گی اور افغانستان کی فوجوں اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور نقل و حمل پرنظر رکھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج خطے میں ہونے والے واقعات اور حالات پربھی نظر رکھے گی اور امریکی مفادات کا تحفظ کرے گی۔ روسی حملے کے بعد روسی فوجوں کے انخلاء اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد امریکی حکام خطے سے لاتعلق ہو گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں افغانستان میں جنگ و جدل کا ایک اندرونی اور باہمی سلسلہ شروع ہوا تھا جو کہ اب تک جاری ہے۔ امریکی اور نیٹو افواج کی آمد اور 12 سال کی موجودگی کے باوجود یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

طالبان کا زور اور ان کی اپنے مخالفین اور بیرونی ممالک کی افواج کے ساتھ کشمکش کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ سب سے زیادہ ان کا دباؤ پاکستان کی طرف ہے اور سرحد کے اس پار ان کی کارروائیاں پاکستان کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے۔ ماضی میں جتنے حملے، دھماکے، قتل و غارت،خود کش حملے اور املاک کی تباہی و بربادی پاکستان میں ہوئی ہے۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا میں پشاور تک ایک میدان جنگ تھا جو آج تک سر گرم ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ان عناصر کا جس جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، اس کی مثال نہیں۔ سرحد کے پار دشمنوں سے مقابلہ کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا اندرون سرحد شہریوں کے روپ میں چھپے دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ پولیس، فرنٹیئر کور اور دوسرے قانون نافذکرنے والے اداروں کی قربانیاں بھی سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ دوسرے قومی اور صوبائی ادارے خاص طور پر ضلعی انتظامیہ، خفیہ ادارے اور محکمہ صحت کے اہلکاروں نے جس مستعدی سے اس قومی فریضہ کے لیے کام کیا ان کی حکومت کو جنگی تمغے دینے چاہئیں لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج 2014ء کے اختتام تک عازم وطن ہوں گی۔ محدود عددی اہمیت کی حامل امریکی فوج جو کہ عملی طور پر مخصوص افغانی علاقوں میں قلعہ بند ہو گی۔ کیا اس صورت میں افغانی فوج اپنی امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو جائے گی۔ کیا حکومت افغانستان بڑے اندرونی، بیرونی اور جغرافیائی معاملات کو سنبھالنے کے قابل ہو سکے گی۔ ان سوالات کا جواب نہ تو امریکی حکومت کے پاس ہے اور نہ ہی افغان حکومت کے پاس۔ یہی صورت حال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

جہاں تک افغان فوج کے معاملات کا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں رپورٹیں کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ اگرچہ پینٹاگون کا خیال ہے کہ 23 افغان آرمی بریگیڈ آزادانہ طور پر کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے لیکن اس کے برعکس رپورٹیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان فوجیوں میں تعلیم کا فقدان ہے۔ ان فوجیوں کا بھگوڑا ہونا اور ڈیوٹی سے کنی کترا جانا معمول کے واقعات ہیں۔ ان میں احساس ذمہ داری بالکل نہیں ہے۔ ان میں سے سب سے فوجی اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے مفرور ہو کر مختلف متحارب گروہوں کے ساتھ اسلحہ سمیت مل چکے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات انہوں نے امریکی فوجیوں پر حملے کیے ہیں اور انہیں قتل بھی کیا ہے۔ شاید امریکی سینٹر کمانڈر اپنی فوجوں کی ماضی کی 12 سالہ تلخیوں کوختم کرنے کے لیے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ افغانستان میں اب حالات بدل چکے ہیں اور افغان فوج اب ملکی حالات سنبھالنے کے قابل ہو چکی ہے تا کہ انہیں اپنی فوجوں کو وطن روانہ کرنے میں آسانی ہو۔ افغان صدر حامدکرزئی جو کہ اب اپنے صدارتی ایام پورے کرنے کو ہیں، ان کاکہنا ہے کہ افغان فوج کو اب مزید ہتھیار اور فائر پاور کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکہ سے ہیلی کاپٹر، فوجی سازو سامان کے ساتھ ساتھ ڈرون بھی طلب کیے ہیں۔شاید انہیں ابھی تک اپنی فوج کا زیادہ تجربہ نہیں ہے کہ یہ سازو سامان کیسے اور کہاں استعمال ہو سکتا ہے۔

فوجوں کو افغانستان سے واپسی کے بعد امریکہ افغانستان میں کس حد تک فوج رکھے گا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ تعداد 6000 سے 15000 کے درمیان ہو گی۔ دوسرے حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ تعداد 2500 سے 9000کے درمیان ہو گی۔ بہر حال ان اندازوں میں سب سے زیادہ تعداد 9000کی ہے۔ اور اگر اسی تعداد میں ہی افغانستان میں فوج رکھی جائے تو شاید یہ ایک بے اثر فوج ہو گی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ماضی میں جب فوجوں کی تعداد 150,000تھی تو اس وقت بھی حالات قابو میں نہ آ سکے۔ تو اس 9000فوج کی موجودگی کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں 12 سال گزارے ہیں لیکن افغانستان کے سیاسی حل کی طرف کوئی خاص پیش رفت نہیں کی گئی۔ شاید امریکہ افغانستان کا کوئی سیاسی طور پر مستقل حل کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کیونکہ اگر ایک عرصہ پہلے طالبان کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید اب تک کوئی حل نکل چکا ہوتا لیکن حامد کرزئی کی موجودگی میں طالبان کے ساتھ بات چیت میں مثبت پیش رفت ممکن نہیں اور طالبان کو افغانستان کے سیاسی عمل میں لائے بغیر افغانستان کے مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ یہاں ایک بہت بڑا سوالیہ بھی ہے کہ اپریل 2014ء میں افغانستان میں انتخابات متوقع ہیں۔ حامد کرزئی اب ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ ان کے بعد افغانستان کا صدر کون ہو گا۔ کیا نیا صدر اگر منتخب ہو تو کیا وہ امریکہ کو قابل قبول ہو گا۔ اور کیا افغانستان میں موجود تمام بڑے برے دھڑے بھی اسے قبول کر لیں گے۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو ایک بار پھر 2014ء میں حالات خرابی کی طرف جا سکتے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ عین وہ وقت ہو گا جب زیادہ تر غیر ملکی فوجیں اپنے اپنے ممالک جا چکی ہوں گی اور افغان فوجیں حالات پرکنٹرول کی ذمہ دار ہوں گی۔ کیا ایسی صورت حال میں افغان فوج متحد ہو کر اپنی کمانڈ میں یہ فریضہ انجام دے سکے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ طالبان افغانستان میں ایک بڑی طاقت ہیں۔ افغانستان کے ایک بڑے جغرافیائی حصے پر ان کا امریکی فوجوں کی موجودگی کے باوجود قبضہ اور اثر رسوخ رہا ہے۔ جو اب بھی قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود امریکہ انہیں ختم نہیں کر سکا۔ بالآخر انہیں مذاکرات کی میز پر بلانا پڑا۔ قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج کیا ہیں ان کی تفصیلات تو منظر عام پر مکمل طور پر نہیں آسکیں۔ لیکن طالبان نے ان پر تسلی وتشفی کا بھی اظہار نہیں کیا۔ اور اگر طالبان افغانستان میں جاری سیاسی عمل میں مکمل طور پر شامل نہیں ہوتے تو امن قائم رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ اگر یہ سلسلۂ امن امریکی فوجوں کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا تو ان کے جانے کے بعد کے امکانات معدوم نہیں تو مسدود ضرور ہیں۔
پاکستان میں بھی سیاسی عمل زوروں پر ہے۔ نگران حکومتیں اس پر صرف الیکشن پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ لیکن حکومت کو افغانستان میں آنے والی اور جاری تبدیلیوں کے عمل کو بھی ضرور دیکھنا چاہئے۔ افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے۔ ماضی میں کئی دہائیوں سے جاری افغانستان کی بدامنی پاکستان پر براہ راست اثرانداز ہو رہی ہے۔ اس سے معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے اور پاکستان میں سلامتی کے مسائل کھڑے ہوے گئے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ سال رواں اور آئندہ سال میں پاکستان کو اس سلسلے میں خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے تاکہ ان متوقع بڑی تبدیلیوں سے پاکستان کم سے کم متاثر ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.