لاہور کا اینگلو انڈین ادبی میلہ‘‘

مستنصر حسین تارڑ
مستنصر حسین تارڑ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ابھی چند ہفتے پیشتر لاہور میں ایک لٹریری فیسٹیول کا انعقاد ہوا اور اخباروں کے مطابق اور جن لوگوں نے اس کے مختلف سیشن اٹینڈ کئے ان کی رائے میں یہ ادبی میلہ نہایت کامیاب رہا۔۔۔ بارش کے باوجود ادب کے شائقین چھتریاں تانے اپنے محبوب ادیبوں کے دیدار کے لئے کشاں کشاں چلے آئے۔ شاید کراچی لٹریری فیسٹیول کی کامیابی نے اس لاہوری میلے کی راہ ہموار کی۔۔۔ کچھ ناآسودہ حاسدین نے البتہ اعتراض کیا کہ انتظار حسین کے علاوہ اس فیسٹیول میں کسی اہم اردو یا پنجابی ادیب کو اس لائق نہ سمجھا گیا کہ اسے خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا۔۔۔ اور اسے لاہور لٹریری فیسٹیول کی بجائے لندن یا ٹمبکٹو لٹریری فیسٹیول قرار دیا جاتا تو زیادہ موزوں تھا۔۔۔

کراچی کے فیسٹیول میں بھی کسی حد تک یہ چھوت چھات کا براہمنی نظام نافذ تھا کہ انتظار حسین اور عبداللہ حسین کی نشستوں کے لئے تو درپردہ مختصر سے ہال تھے جبکہ انگریزی کے پاکستانی ناول نگاروں کے لئے مرکزی سٹیج کھلی فضا میں سمندر کے کنارے مخصوص کی گئی جہاں سینکڑوں لوگ ان نابغۂ روزگار اور ادب کے نئے پیغمبروں کے ارشادات عالیہ سے فیض یاب ہو سکتے تھے۔ ٹیلی ویژن سکرینوں پر اُن کی الوہی شباہتیں بھڑکتی تھیں اور حاضرین ان کی قادرالکلامی پر جو کہ انگریزی میں تھی نڈھال ہوتے۔ ایسے فقروں پر تالیاں پیٹتے تھے جن پر سر پیٹنے کو جی چاہتا تھا۔لاہور کا ادبی میلہ بھی ایک اینگلو انڈین میلہ تھا۔۔۔ جس میں مقامی یا نیٹوز کا داخلہ ممنوع تھا ۔پاکستان کے ظہور سے پہلے کے دنوں میں ایک اینگلو انڈین کالی کلوٹی لڑکی نے ایک ٹانگے والے سے پوچھا ’’ٹانگا والا۔۔۔ گڑھی شاہو جانا مانگٹا؟‘‘
ٹانگے والے نے کہا ’’ہاں میم صاحب۔۔۔ مانگٹا‘‘
تو میم صاحب نے ایک نخریلے انداز میں پوچھا ’’کتنا پیسہ؟‘‘
تو ٹانگے والے نے بصد ادب سے کہا ’’میم صاحب۔۔۔ صرف دو روپے‘‘
اس پر میم صاحب طیش میں آ کر بولیں ’’ہا ہائے۔۔۔ فٹے منہ تیرا۔۔۔ گڑھی شاہو دی تے چوانی لگدی اے مر جانیا‘‘
تو ٹانگے والے نے کندھے سکیڑ کر کہا ’’اگر اس طرح بات کرو گی تو میں تمہیں چونّی میں لے چلوں گا۔۔۔ چل بیٹھ کالیے میمے‘‘

لاہور لٹریری فیسٹویل میں بھی، ٹانگا والا گڑھی شاہو جانا مانگٹا، نوعیت کی ذہنیت راج کرتی تھی۔ اس فیسٹیول میں کچھ میرے من پسند لوگ ایسے آئے جن سے ملاقات کرنے کو میرا بہت جی چاہتا تھا۔ مثلاً ولیم ڈیل رمپل جسے میں نے اس کے اولین سفرنامے سے لے کر اس کی آخری کتاب ’’ریٹرن آف اے کِنگ‘‘ تک پڑھ رکھا ہے۔۔۔ طارق علی، ایک عظیم انقلابی جس کے ناولوں کا خصوصی طور پر اُندلس کے پس منظر میں لکھے گئے ناول کا میں مداح ہوں۔ علاوہ ازیں بی بی سی کی میزبان ڈوسیٹ جو ہر لفظ کو چبا چبا کر ادا کرتی ہے۔۔۔لیکن میں کیسے بن بلائے، منہ اٹھائے وہاں چلا جاتا جہاں میں ایک شودرتھا۔

محمد حنیف۔۔۔ ’’اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘‘ ایسے پراثر ناول کے تخلیق کار، بی بی سی کے میزبان، میں ان کے ناول کو ایک شاہکار گردانتا ہوں، انہوں نے مجھے بتایا کہ لاہور فیسٹیول کے کرتا دھرتا لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ تہمینہ درانی کے سیشن میں میزبانی کے فرائض کریں اور انہوں نے معذرت کر لی۔ پھر انہیں عائشہ جلال سے گفتگو کرنے کے لئے کہا گیا تو حنیف نے کہا کہ میں ان کا بے حد مداح ہوں لیکن میں نے ابھی تک ان کی تازہ ترین کتاب نہیں پڑھی تومیں کیسے ان سے سوال جواب کر سکتا ہوں۔۔۔ اس پر اُن سے پوچھا گیا کہ چلئے آپ کس ادیب کے ساتھ گفتگو کرنا چاہیں گے تو حنیف نے ایک اردو ادیب کے لئے اپنی چاہت کا اظہار کیا تو جواب آیا کہ نہیں، فی الحال نہیں۔

اسی فیسٹیول میں اردو ناول کے حوالے سے ایک سیشن تھا جس میں انتظار حسین سٹیج پر تھے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سامعین میں سے ایک صاحب نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا کہ آخر اس فیسٹیول میں اردو کے بڑے ناول نگاروں کو جو کہ اسی لاہور میں مقیم ہیں، کیوں نہیں مدعو کیا گیا۔ کیا یہ شرمناک نہیں ہے، کیا آپ اردو میں لکھنے والوں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں، ویسے میں انتظار حسین کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایک محفل میں بلکہ اپنے کالم میں بھی یہ اظہار کیا کہ میں نے سٹیج پر بیٹھ کر پوچھا کہ میرے ہم عصر ناول نگار کہاں ہیں، انہیں یہاں کیوں مدعو نہیں کیا گیا۔۔۔ عبداللہ حسین کہاں ہیں، فلاں کہاں ہیں؟ کچھ اسی نوعیت کا احتجاج محمد حنیف نے بھی کیا کہ ادبی میلہ پنجاب کے دل لاہور میں ہو اور وہاں ایک بھی پنجابی ادیب مدعو نہ ہو۔۔۔ کوئی ایک انتظار صاحب کے علاوہ بڑا اردو ناول نگار نہ ہو۔

مجھے یاد ہے کہ جب محترم حنیف رامے نے اقبال ٹاؤن میں ادیبوں کے لئے کچھ رہائشی پلاٹ مخصوص کئے اور رائٹرز گلڈ کے دفتر میں قرعہ اندازی ہو رہی تھی تو پے در پے نہایت نامانوس نام پکارے گئے۔ ان میں سے ایک مجھے ابھی تک یاد ہے، قصور کے کسی ٹھیکیدار محمد حسین کا تھا تو میں نے اپنے برابر میں بیٹھے بابا ظہیر کاشمیری سے پوچھا کہ سر۔۔۔ یہ کون ہیں۔۔۔ میں تو انہیں نہیں جانتا‘‘ تو ظہیر کاشمیری نے اپنی سرخ داڑھی پر ایک انقلابی ہاتھ پھیرا اور کہنے لگے ’’فکر نہ کرو تارڑ۔۔۔ اگر تم اس کو نہیں جانتے تو وہ بھی ہمیں نہیں جانتا‘‘۔

چنانچہ میں فکر نہیں کرتا، اگر اس ادبی میلے کا انعقاد کرنے والے میرے لئے غیرمعروف لوگ ہیں اگرچہ شنید ہے کہ ’’ڈرٹی رِچ‘‘ لوگ جن کو میں نہیں جانتا تو وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ حساب برابر ہو گیا۔

چلئے لگے ہاتھوں برصغیر کے ان ناول نگاروں کی تخلیقات کا ایک نہایت مختصر جائزہ لیتے ہیں جو انگریزی میں لکھتے ہیں اور مغرب کو گھر بنا چکے ہیں۔ صرف جائزہ لیتے ہیں یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ ان میں وہ مردود، امام خمینی کے فتوے کے مطابق واجب القتل سلمان رشدی سرفہرست ہے۔ مردود نے ’’مڈ نائٹ چلڈرن‘‘ لکھ کر تہلکہ مچا دیا اور پھر ’’شیطانی آیات‘‘ تحریر کیا تو لعنتی ٹھہرا۔۔۔ یہ اگر ایک اچھا ناول ہوتا تو میں اس کی تحسین کرنے میں بخل سے کام نہ لیتا لیکن یہ ایک نہایت بوگس ناول تھا جس میں جان بوجھ کر میرے جیسے نام کے مسلمانوں کو بھی آزار پہنچایا، شدید دکھ دیا، یہاں تک کہ میں بھی امام خمینی کے فتوے سے اختلاف نہ کر سکا۔۔۔ اگرچہ وہ مردود ہے پر اُس کی نثر میں بہرطور ایک عجب ملحدانہ کشش ہے۔۔۔ وہ جو اپنی ماں کے بدن کو بھی ایک رسیلے آم سے تشبیہ دیتا ہے آپ اس نامراد سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ جہنم کی آگ کا بھڑکتا ہوا ایندھن ہو گا ۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں