ایک ریٹائرڈ جنرل کی خواہش

تنویر قیصر شاہد
تنویر قیصر شاہد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"جو گرجتے ہیں، وہ برستے نہیں"۔ ہمارا خیال ہے کہ جس کسی نے یہ محاورہ ایجاد کیا، اُس کے پیشِ نگاہ غالباً ریٹائرڈ جنرل حمید گُل ایسے لوگ ہوں گے۔ انتخابات کی اِس گہما گہمی میں ریٹائرڈ جنرل نے ایک حیرت خیز تمنا کا اظہار کر دیا ہے۔

وطنِ عزیز میں اب بھی ایسے کروڑوں لوگ ہوں گے جن کے دلوں میں 71ء کی جنگ کا گہرا زخم موجود ہے۔ مجروح دلوں پر بنا یہ ’’داغ‘‘ کبھی نہیں مٹ سکتا، تاآنکہ شکست کا بدلہ نہ لے لیا جائے۔ تب ہی اِن زخموں کا اندمال ہو سکتا ہے۔ بھارت نے، جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے، تقریباً 43 سال قبل رونما ہونے والی جنگ میں پاکستان کو توڑ دیا تھا۔ ہم سے ہمارا مشرقی بازو چھین لیا۔ مشرقی پاکستان کی جگہ ’’بنگلہ دیش‘‘ بنا دیا۔

مسز اندرا گاندھی نے اِس کامیابی پر کس قدر غرور سے زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے کہا تھا: ’’آج ہم نے (مسلمانوں سے) ہزار سالہ بدلہ لے لیا ہے …… آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا ہے۔‘‘ کیا آتشِ انتقام میں جلتے یہ الفاظ، یہ زہریلے الفاظ ہم فراموش کر سکتے ہیں؟ آج کے بیس کروڑ پاکستانیوں میں بھی نصف سے زائد ایسے اہلِ وطن یقیناً ہوں گے جن کے دلوں میں یہ آس ہنوذ باقی ہے کہ پاکستان آگے بڑھ کر کب بھارت سے اِس شکست کا بدلہ لے گا؟ چار عشروں سے زائد کا طویل عرصہ گزر گیا ہے لیکن یہ اُمید ابھی تک پوری نہیں ہو سکی۔

بھارت کو بھی یقیناً معلوم ہو گا کہ پاکستان میں لاتعداد افراد اُس سے 71ء کی جنگ کا بدلہ لینا چاہتے ہیں، غالباً اِسی لیے وہ مزید جارحانہ اقدام کر کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں مداخلتیں بھی کر رہا ہے اور وہاں بعض مرکز گریز قوتوں کو اعانت بھی فراہم کر رہا ہے۔ اِس کے لیے اُسے افغانستان کی بھی پوری اشیر واد حاصل ہے۔ بھارت نے پاکستان کو دو لخت کرنے کا آغاز کیا تھا تو اُس نے برسرِ مجلس بڑھکیں ماری تھیں نہ اُس کے کسی ذمہ دار نے کھُلے بندوں اِس کا اظہار کیا تھا۔

وہ چپکے چپکے اِس شرمناک مہم میں جُٹا رہا لیکن کیا تماشہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے تئیں جرأت و بہادری کا ’’ثبوت‘‘ فراہم کرتے ہوئے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہمیں اگر فلاں عہدہ دے دیا جائے تو ہم بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلا سکتے ہیں۔ ایسے افراد میں ایک صاحب حمید گُل بھی ہیں۔ جنرل (ر) حمید گُل صاحب۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ۔ آنجناب سے منسوب بارہ اپریل 2013ء کو اخبارات میں ایک دھاڑتی خبر شائع ہوئی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’مجھے اگر آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا جائے تو میَں بھارت کو توڑ سکتا ہوں۔‘‘ سبحان اللہ۔ اِس عظیم اور قابلِ ستائش خواہش کا اظہار کرتے ہوئے آپ بھُول گئے کہ وہ اِس بڑھک سے قبل بھی آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

غالباً وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر اُنہیں دوبارہ اِس خفیہ ادارے کا سربراہ بنا دیا جائے تو وہ یقیناً بھارت توڑ دیں گے۔ اُن سے دست بستہ کہا جا سکتا ہے: جنابِ والا، اگر آپ میں اتنی صلاحیت ہوتی تو یہ معرکہ آپ پہلے بھی انجام دے سکتے تھے لیکن اُس وقت تو آپ کو اِس ’’کام‘‘ کے لیے فرصت ہی نہ ملی۔ آپ اُس وقت بھارت کے ٹکڑے کرنے کی بجائے وطنِ عزیز کی سیاست میں ہمہ وقت دخیل ہو کر زیڈ اے بھٹو کی جواں ہمت صاحبزادی کی سیاست کے خاتمے اور اُس کی جماعت کے ٹکڑے کرنے میں مشغول و مصروف تھے۔ جنھوں نے اپنے دشمن کو زیر کرنا ہوتا ہے، وہ حمید گُل صاحب کی طرح دھاڑتے ہیں نہ اپنے عزائم دشمن پر کبھی عیاں ہونے دیتے ہیں۔

وہ تو سب سے الگ تھلگ ہو کر ملک کی طرف سے دیے گئے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں اور پھر کامیاب ہو کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات میں خاموشی سے سو جاتے ہیں۔ کیا حمید گل صاحب اِس ذیل میں بتا سکتے ہیں کہ 71ء سے قبل کسی بھارتی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیل یا کسی بھارتی خفیہ ادارے (از قسم ’’را‘‘) سے وابستہ کسی شخص نے کسی جلسے، کسی کلب، کسی کانفرنس، کسی مجلس میں صاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ہم پاکستان کو توڑنے کے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں؟ حمید گُل صاحب ایک دانش مند آدمی ہیں۔

کیا اُنہیں اندازہ ہے کہ اُن کے ایسے ارشادات کے ردِعمل میں دنیا بھر سے پاکستان خصوصاً افواجِ پاکستان کے خلاف کتنی لمبی لمبی زبانیں باہر نکل آتی ہیں؟ ڈاکٹر نُور فاطمہ کی تازہ شائع ہونے والی کتاب Press and Politics: Role of Print Media during PNA Movement Against Bhutto کے پس منظر میں یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اگر جنرل (ر) حمید گُل اور اُن کی قبیل کے دوسرے اصحاب بھارت کو توڑنے کی واقعی کوئی خواہش رکھتے تھے یا خواہش رکھتے ہیں تو اِس ملک میں نہ کبھی مقتول ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ (PNA) ایسی تحریک اُٹھتی نہ کبھی مقتول بے نظیر بھٹو کے خلاف ’’اسلامی جمہوری اتحاد‘‘ (IJI) بنتا۔

پاکستان کے خلاف بھارت کے مسلسل جرائم اور پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش کے فلیش بیک میں ہم سب کی خواہش تو ہے کہ بھارت کو بھی اِسی شدت کا زخم لگنا چاہیئے لیکن کیسے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ بھارتی پنجاب میں اٹھنے والی ایک طوفانی تحریک (خالصتان) کے وقت اُمیدیں لگائی گئی تھیں کہ بھارتی اکائی ٹوٹنے والی ہے لیکن مسز اندرا گاندھی نے بے انت سنگھ کے ہاتھوں زندگی گنوا کر اِس ڈانوا ڈول اتحاد کو اپنے خون سے پھر سمینٹ کر دیا۔ بلوچستان میں ریاستِ پاکستان کے خلاف بعض مرکز گریز قوتوں کے ہتھیار اُٹھانے اور خونریزی کرنے والوں کے خلاف ہمارا کوئی حکمران ایسی جرأت کر سکتا ہے؟

ہم پاکستانی ہی نہیں، کئی دیگر ممالک بھی بھارت کی سازشوں اور دخل اندازیوں سے بہت نالاں ہیں۔ مثلاً: سری لنکا کے عوام اور حکومتیں۔ یوں ہم سب کی فطری خواہش ہو گی کہ بھارت کو ٹوٹنا چاہیئے۔ جس طرح مشرقی پاکستان میں بھارت نے کھل کر علیحدگی پسندوں کی مسلسل اعانت کی، اِسی طرح بھارت سری لنکا میں بھی علیحدگی پسندوں کو ہر قسم کی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ سری لنکا نے صاف کہا ہے کہ بھارت 80ء کے عشرے کے دوران سری لنکا کو لخت لخت کرنے کے لیے سازشیں کرتا رہا ہے۔ کولمبو کے ایک اخبار میں سری لنکا کے وزیرِ دفاع گوتا بھیا نے اپنے ایک آرٹیکل میں الزام عائد کیا ہے کہ اگر بھارت ذمے داری کا مظاہرہ کرتا تو سری لنکا کو مسلسل تین عشروں تک اپنے علیحدگی پسندوں کے خلاف جنگ نہ کرنا پڑتی۔

بھارت کے ستائے سری لنکا کو یہ بات بھی مجبوراً کہنا پڑی ہے کیونکہ چند روز قبل اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل مندوب ہردیپ ایس پوری کا ایک ایسا آرٹیکل (Why India is Right on Sri Lanka) بھارت کے ایک انگریزی روز نامہ میں شائع ہوا تھا جس میں مضمون نگار نے یہ ثابت کرنے کی (ناکام؟) کوشش کی کہ بھارت نے سری لنکا میں جو بھی مداخلت کی، درست تھی۔ سری لنکن وزیرِ دفاع نے اپنے جوابی مضمون میں یہ بھی کہا ہے کہ بھارت، سری لنکا کے دہشت گردوں کو تربیت دیتا رہا اور اُس کی مداخلتوں سے اِس ریجن میں ایک بہت بڑے بحران نے جنم لیا تھا۔ سری لنکن وزیر کے مضمون سے یہ بھی آشکار ہوتا ہے کہ بھارتی سفارت کار، ہائی کمشنر اور اُن کی بیویاں اپنے میزبان ملک کے خلاف سازشیں کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔

بھارتی شرارتوں، مداخلتوں اور سازشوں سے اُس کے سبھی ہمسائے تنگ ہیں۔ وہ اپنی جدید معیشت پر بھی نازاں ہے لیکن اِس ناز نخرے کا توڑ صرف پاکستان کے پاس ہے۔ اِس حقیقت سے بھارت بھی بخوبی آگاہ ہے لیکن اُس کے مقابل آنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنرل (ر) حمید گُل صاحب ایسے اصحابِ دانش و بینش عام بیٹھکوں میں بیٹھ کر بھارت توڑنے کی تمنائوں کا اعلان کرنا شروع کر دیں۔ ایسے کھوکھلے بیانات سے کسی پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے نہ کسی کا بال بیکا کیا جا سکتا ہے۔ دشمن کے خلاف خاموشی کے ساتھ اپنے گھوڑے تیار رکھنا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں