.

تاریخ کا ایک اہم موڑ

عرفان صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق مرد آہن، جنرل (ر) پرویز مشرف خزاں زدہ سوکھے پتے کی طرح نامہرباں ہواؤں کی زد میں ہیں۔ ان کا زیادہ وقت، انتخابات کی منصوبہ بندی کے بجائے پیشیاں بھگتنے میں گزر رہا ہے۔ کبھی ایک، کبھی دوسری عدالت میں وہ دست بستہ دکھائی دیتے ہیں۔ ہر کہیں محافظوں کا ایک بڑا جتھا انہیں اپنے حصارمیں لئے رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ اور فیس بک کی جادونگری سے پھوٹنے والے حسیں خواب، زمینی حقیقتوں کی کڑی دھوپ میں پگھل رہے ہیں اور بپھری ہوئی رعونت مکافات عمل کے بھنور میں غوطے کھا رہی ہے۔

سپریم کورٹ متعدد درخواستوں پر غور کررہی ہے جن میں استدعا کی گئی ہے کہ پرویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل6 کے مطابق مقدمہ چلا کر بغاوت اور غداری کے جرم میں سزا دی جائے۔ یہ دیکھنے میں کچھ وقت لگے گا کہ ان درخواستوں پر کیا گزرتی ہے۔ کیا دو بار آئین شکنی کا ارتکاب کرنے والا ڈکٹیٹر واقعی کیفرکردار کو پہنچتا ہے یا گرج چمک کے باوجود یہ گھٹا بن برسے گزر جائے گی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد سلطانیٴ جمہور کا زمانہ آتے ہی ڈکٹیٹر کو گرفت میں لے کر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا لیکن موسموں کو اپنی مرضی کا رنگ روپ دینے والوں نے محترمہ بینظیر بھٹو سے مل کر ایک شطرنج بچھائی اور اپنی پسند کے مہرے اپنی مرضی کے خانوں میں بٹھا دیئے۔ این آر او کے نکات جو بھی ہوں، اس کی مرکزی روح یہ تھی کہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر قائم تمام داخلی اور خارجی مقدمات ختم کردیئے جائیں گے، انہیں وطن واپس آکر انتخابات میں سرگرم حصہ لینے کی اجازت ہوگی، امکانی طور پر محترمہ کو اگلی حکومت بنانے کا موقع دیا جائے گا، جواباً پیپلزپارٹی، مشرف کے صدارتی انتخاب کو معتبر بنائے گی اور اس کی بے وردی صدارت کو قبول کرے گی۔ دسمبر2007ء میں محترمہ کے قتل کے بعد جناب زرداری کے ساتھ جو معاملات طے پائے ان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ پرویز مشرف کوکچھ نہیں کہا جائے گا۔ منصب صدارت کا پروانہ جاری کرتے وقت تمام زور آوروں نے ضمانت لی کہ پرویز مشرف کو چھوا تک نہیں جائے گا اور اس کے تمام غیرآئینی اقدامات کو پارلیمانی تحفظ فراہم کردیا جائے گا۔

زرداری صاحب نے اپنا عہد نبھایا۔ وہ امریکہ اور فوج کو قرآن و حدیث نہ ہونے والا فارمولا نہیں سنا سکتے تھے جس کا اظہار انہوں نے نواز شریف کے سامنے کیا تھا۔ مشرف بڑے جاہ و جلال کے ساتھ، دبیز سرخ قالین پہ چلتا اور گارڈ آف آنر لیتا رخصت ہوگیا۔ آصف علی زرداری، اسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن کو ہمراہ لے کر نواز شریف کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہم نے تمام ”اسٹیک ہولڈرز“ سے عہد کیا ہے کہ مشرف کے غیرآئینی اقدامات کو آئینی توثیق فراہم کرنی ہے۔ نواز شریف نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں ایسے کسی عہد میں شریک نہیں۔ بیل منڈھے نہ چڑھی۔ 12/اکتوبر 1999ء کا شب خون تو عدالت اور پارلیمینٹ سے جواز پاچکا تھا لیکن 3نومبر2007ء کی آئین شکنی یہ سند نہ پاسکی۔ نتیجہ یہ کہ تلوار لٹکتی رہی جو آج عین ڈکٹیٹر کے سر پہ چمک رہی ہے۔

مشہور عاصمہ جیلانی کیس میں، عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا… ”ایسے شخص کو قانون سازی کے جائز ذریعے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا جو قانونی نظام کو ناجائز طور پر تباہ کردے۔ ہوسکتا ہے کہ مملکت کے آلات (اداروں) پر اس کے قابض ہوجانے کے باعث عوام اور عدالتیں عارضی طور پر خاموشی اختیارکرلیں لیکن یہ حقیقت مضبوطی کے ساتھ قائم رہے گی کہ غاصب کا مسلط کردہ ہر حکم ناجائز ہے۔ اولیں موقع ملتے ہی، جبکہ غاصب کے ہاتھ سے آلات جبر نکل جائیں گے، اس پر بڑی غداری کا مقدمہ چلے گا اور اسے قرار واقعی سزا دی جائیگی۔ یہی ایک صورت ہے جس سے مہم جوئی کرنے والوں کو باز رکھا جاسکتا ہے“۔

عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ 1972ء میں اس وقت آیا تھا جب نہ آئین تخلیق ہوا تھا اور نہ بظاہر فولاد کے نوکیلے دانت رکھنے والا آرٹیکل6 وجود میں آیا تھا۔ اس آرٹیکل کی تشکیل کے بعد پہلا مارشل لا جنرل محمد ضیاء الحق نے لگایا۔ وہ گیارہ برس تک باوردی صدر رہے اور وردی پہنے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ پرویز مشرف پہلا شخص ہے جس نے دو بار آئین پر کلہاڑا چلایا اور جو نہ صرف ہمارے سامنے حاضر و موجود ہے بلکہ ایک نام نہاد سیاسی جماعت بناکر قیادت کی دوڑ میں شریک ہونا چاہتا ہے۔ 12/اکتوبر 1999ء کے باغیانہ اقدام کی لیپا پوتی ہوگئی لیکن3نومبر2007ء کا شیش ناگ پھنکار رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ اپنے ہی3نومبر کے اقدام کو غیرآئینی اور بدنیتی پر مبنی قرار دے چکی ہے۔ مشرف کو غاصب کا لقب مل چکا ہے اور اس کی صدارت کو بھی غیر آئینی کہا جاچکا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ زرداری حکومت نے بعض ضامنوں سے مفاہمت کے باعث مشرف پر آئین شکنی کا مقدمہ قائم نہیں کیا جو قانون کے تحت ضروری تھا۔

مشرف کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے کہا ”مشرف پہ غداری کا مقدمہ چلا تو پنڈورا بکس کھل جائے گا“۔ عدالت نے برجستہ جواب دیا ”کھلتا ہے تو کھلنے دیں“۔ عدالت پہ دباؤ ڈالنے کے لئے جنرل کیانی کا نام بھی لیا گیا۔ عدالت نے31جولائی2009ء کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ3نومبر کا اقدام مشرف کا ذاتی فعل تھا۔ فیصلے کے پیراگراف80 میں کہا گیا ہے کہ ”مشرف کا یہ موقف درست نہیں کہ 3نومبر کی ایمرجنسی کا فیصلہ اس میٹنگ کی مشاورت سے کیا گیا جس میں وزیر اعظم، چاروں صوبائی گورنر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہ، وائس چیف آف آرمی اسٹاف اور کور کمانڈرز موجود تھے“۔ عدالت عظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ
"The proclamation of Emergency emanated from his person, which was apparent from the words.... "I, General Pervaiz Musharraf...." used in it".
(ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان اس کا ذاتی اقدام تھا جیسا کہ اس اعلان میں استعمال کئے گئے الفاظ… ”میں جنرل پرویز مشرف…“ سے ظاہر ہوتا ہے)

بلاشبہ ہر فوجی اقدام کی ذمہ داری فوج کے سربراہ پہ عائد ہوتی ہے چاہے سیکڑوں یا ہزاروں فوجیوں نے اس میں معاونت کی ہو۔ سو12/اکتوبر اور 3/نومبر، دونوں کا بوجھ مشرف کے کندھوں پہ ہے۔ وہ قانون کے شکنجے میں آنے والا پہلا آئین شکن جرنیل ہے۔ اگر ہماری توانا عدلیہ اور ہمارا آئین، اس شخص کو سزا دینے سے قاصر رہتے ہیں توجان لیجئے کہ تمام تر دعوؤں کے باوجود ہم ابھی تک دلدلی جنگلوں میں بھٹک رہے ہیں اور آئین کی تلوار یا 62، 63 جیسے ہتھیار صرف ہم جیسے خاک نشینوں ہی کے لئے بنے ہیں۔
اسلام آباد کی چوپالوں میں ایک تاثر گونج رہا ہے کہ سول سوسائٹی کی بیداری، میڈیا کی طراری اور عدلیہ کی طرح داری کے باوجود مشرف کی دلداری کرنے والی قوتوں کو نیچا نہیں دکھایا جاسکے گا۔ امریکہ اور دوست اسلامی ممالک اس کا بال تک بیکا نہ ہونے دیں گے۔ فوج اپنے سابق سربراہ کو آرٹیکل6 کا لقمہ نہیں بننے دے گی۔

پاکستان جیسے ملک میں واقعی آئین و قانون، مصلحتوں کی زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں۔ قومی تاریخ ایک بار پھر اہم موڑ تک آن پہنچی ہے۔ دیکھا چاہئے کہ آئین سرخرو ہوتا ہے یا جیت اندر باہر کے انہی زور آوروں کی ہوتی ہے جو موسموں کو نکیل ڈالنے کا ہنر جانتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.