.

مارگریٹ تھیچر….کپٹلزم کا سٹرائیڈ سے علاج

سجاد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آفتاب گل بہت ہی پیارے آدمی ہیں۔ انتہائی کھرے اور سچے۔جوش جوانی میں انگلستان میں پناہ ڈھونڈلی۔ وہ جب اس سرزمین پر اترے تو پہلے ہی روز انہیں جو خبر سننے کو ملی وہ وہاں کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کا یہ بیان تھا کہ ہم یورپ کو اشتراکیت کا قبرستان بنا دیں گے۔ بقول ان کے یہ ان کی زندگی کا پہلا کلچرل شاک تھا۔ وہ سوچنے لگے کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اس طرح کی باتیں کرے۔ وہ تو انقلاب کے خواب لے کر اس سرزمین پر اترے تھے۔ یہاں انہیں یہ باتیں سننا پڑیں۔ ایسی باتوں کے لئے تو اپنا پیارا وطن ہی کافی تھا۔

وہ میری موجودگی میں یہ بات چند دوستوں کو سنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے، انہیں زندگی کا دوسرا کلچرل شاک اس وقت ملا جب وہ اپنے پاک وطن میں لوٹ رہے تھے تو ایئرپورٹ پر جانے کیوں کچھ لوگ مرد حق، مرد حق ضیاءالحق کے نعرے لگا رہے تھے۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ضیاءالحق کے حق میں نعرے لگائے۔ اندازہ لگائیے۔ ہمارے اس دوست کی ذہنی ایچ کیا ہے۔ اب بقول ان کے انہیں زندگی کا تیسرا کلچرل شاک میری ایک بات سے ملا۔ ان دو صدموں کے بعد انہوں نے ملک کی فضاﺅ کو اچھی طرح محسوس کرنا شروع کر دیا۔ پرانی دوستیوں کے ساتھ نئی دوستیاں بھی بننے لگیں۔ ایک محفل میں ہماری بھی ان سے ملاقات ہوگئی۔ کھانے کی میز پر گپ شپ جاری تھی۔ ایسی گپ شپ کبھی کبھی سنجیدہ بھی ہو جاتی ہے۔ آفتاب گل اپنا مو¿قف اپنے انداز میں مرتب کر رہے تھے۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ آدمی مجھے اچھے لگے، مجھے ڈر ہوا، وہ میری بات کو اپنے ذہنی فریم ورک میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ سو میں نے عرض کیا آپ مجھ سے واقف نہیں ہوں گے، اس لئے عرض ہے کہ اس ملک کے محاورے کے مطابق میں ذرا رائیٹسٹقسم کا آدمی ہوں۔ یہ ذرا ٹھنکے اور پھر ہماری گفتگو بڑی خوش اسلوبی سے جاری ہو گئی۔

اس وقت تو وہ خاموش رہے۔ پھر ایک دن دوستوں کے درمیان بتایا کہ یہ میری زندگی کا تیسرا کلچرل شاک تھا۔ انہیں یقین نہ آتا تھا کہ کوئی شخص اس طرح کھلے عام یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کا تعلق دائیں بازو سے ہے۔

ہم ایسی ہی دنیا میں جی رہے ہیں۔
ہم اپنی اپنی دنیاﺅں میں آباد ہیں اور نہیں جانتے کہ پردیس کی دنیاﺅں کے ذہنوں پر کیا بیت رہی ہے۔

یہ مارگریٹ تھیچر پر لکھنے کا خیال مجھے ایسے ہی نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے آپ سمجھتے ہوں مجھے تھیچر اس لئے اچھی لگتی ہے کہ وہ یورپ کو کمیونزم کا قبرستان بنانا چاہتی تھی اور میرے بھی کچھ ایسے ہی خواب رہے ہوں گے۔ درست ہوگی یہ بات بھی مگر میں تو یورپ ہی کو نہیں ان معنوں میں تو شاید اس دنیا کو بھی اس کپٹلزم کا قبرستان بنانا چاہتا ہوں جس کی پرچارک مارگیٹ تھیچر تھی جسے آج کل فری مارکیٹ اکانومی بھی کہا جاتا ہے۔ میری تو بات ہی کیا ہے، اس وقت تو یورپ سے بھی زیادہ یہ تحریک امریکہ میں چلی ہوئی ہے۔ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس فری مارکیٹ اکانومی نے امیروں غریبوں کے فرق کو پہلے سے کئی گنا زیادہ کر دیا ہے۔ امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے وسائل پرایک فیصد اشرافیہ کا قبضہ ہے اور99فیصد لوگ غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ باقاعدہ اعداد و شمار دیئے جاتے ہیں ایک فیصد آبادی کوئی90فیصد وسائل پر قابض ہے اور باقی99فیصد کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ میں اپنے کالموں میں یہ اعداد و شمار دیتا آیا ہوں۔ اس وقت یہ بتا رہا ہوں کہ امریکہ کی وال سٹریٹ پر قبضہ کر لینے کی تحریک کے پیچھے یہی جذبہ کار فرما ہے۔ یہ تحریک سارے یورپ میں پھیل گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ نظام ہی تباہ ہو چکا ہے۔ سرماریہ داری کے حامی کہتے ہیں ہم اس کا حل نکال لیں گے۔

اصل میں سرمایہ داری کا جو نظام ہے وہ1944ءمیں جنگ عظیم کا خاتمہ دیکھتے ہوئے وضع کیا گیا تھا۔ بریٹن وڈ نام کی ایک جگہ پر۔ یہ ورلڈ بینک، یہ آئی ایم ایف اور دنیا کا سارا اقتصادی ڈھانچہ اسی نظام کے تحت طے ہوا تھا۔ اس زمانے میں برطانیہ کے معیشت دان کینز کا شہرہ تھا۔ اس کی فکر اس کی پشت پر تھی۔ اس کے مطابق حکومت کو اس سلسلے میں ایک حد تک سرمایہ داری پر اپنا کنٹرول رکھنا تھا۔ ان کے خیال میں بالکل آزاد چھوڑ دیا گیا تو بڑے مسائل پیدا ہوں گے۔

مارگریٹ تھیچر کے آتے آتے نئے معیشت دان پیدا ہو چکے تھے جو کہتے تھے مارکیٹ کو اپنی حرکیات کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔ ریاست بالکل دخل نہ دے۔ یہ فری مارکیٹ دنیا میں ترقی بھی لائے گی اور غربت کا خاتمہ بھی کرے گی۔ سرمایے، محنت کسی چیز پر حکومتوں کا کنٹرول نہ ہوا۔ اس سے یہ ہوا کہ سرمایے دار نے اپنا سرمایہ پوری دنیا میں پھیلا کر خوب خوب کمائی کی، مگر اس کے فوائد بھی اپنے پاس رکھے۔ چیف ایگزیکٹوکی ایک دن کی تنخواہ مزدور کی چار سو دنوں کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوگئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ادارے کا سربراہ جتنا ایک دن میں کماتا ہے، اتنا اس ادارے کا مزدور سارا سال، بلکہ چودہ پندرہ ماہ بھی کمائے تو برابری نہیں کر سکتا۔

اس نے ایک بغاوت کی سی کیفیت پیدا کر دی۔
اسی دوران اقتصادی بحران نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
شوراٹھا سرمایہ دارانہ نظام دم توڑ چکا ہے۔ اس نظام کو ختم ہو جانا چاہئے۔
جواب آیا، نہیں، پریشان نہ ہو۔ یہ نظام اپنا علاج اپنے اندر سے ڈھونڈ لے گا۔

بات مارگریٹ تھیچر اور رونلڈ ریگن تک ہی نہیں گئی، بلکہ بریٹن وڈ تک پہنچی۔ معیشت دانوں نے بڑی بڑی بحثیں کیں، دور دور کی کورڑی لائے اور لاتے جا رہے ہیں۔

ہاں، یاد آیا، اس نئی فکر کو بھی سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاح کی ایک کوشش سمجھا گیا تھا۔ اسے تھیچر ازم اور ریگن ازم کا نام دیا گیا۔ برطانیہ میں تھیچر کو تو ان کی پارٹی نے اقتدار سے فارغ کر دیا، مگر امریکہ میں ریگن ازم پہلے نیو ریگن ازم بنی، پھر اس کا نام نیوکنزرویٹو ازم یا نیو کون رکھ دیا گیا۔

دیکھا، اس کے ڈانڈے کہاں کہاں ملتے ہیں۔ یہ تو ایک پہلو ہے تھیچر ازم کا، اس کی اور بھی شکلیں ہیں۔ میں مارگریٹ تھیچر کی موت پر اس کا نوحہ لکھنے نہیں بیٹھا، اس عہد کا نوحہ لکھ رہا ہوں ،فاک لینڈ کی جنگ کی وجہ سے وہ جنگی ہیرو بھی سمجھی جاتی ہے۔ اسے گویا ”مرد آہن“ بھی کہا جاتا ہے۔ میرا مطلب ہے خاتون آہن آج اس کی موت پر اسے وہاں دفن کیا جا رہا ہے، سینٹ پال کیتھڈرل میں جہاں اس سے پہلے موت کے بعد گزشتہ دو سو سال میں صرف تین انگریزوں کو رسائی ملی، لارڈ نیلسن، ڈیوک آف دلنگٹن اور ونسٹن چرچل۔

سچ پوچھئے تو اس بڑھیا کی اپنے ملک سے زیادہ امریکہ میں عزت تھی۔ امریکہ سرمایہ داری کا اصل مائی باپ جو ہے۔ وہاں آج کل غلبہ بھی تو ان لوگوں کا ہے جو ریگن کے ذریعے اسی فکر سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے یہ متاثرین بہت آگے نکل گئے تھے۔ نیو ریگن ازم، ریگن ازم کی بگڑی ہوئی شکل بھی کہی جا سکتی ہے۔ سیاست میں آکر خیالات کا یہی حال ہوتا ہے۔ پتا نہیں یہ فکر یورپ کو کمیونزم کا قبرستان بنا سکی یا نہیں۔ اس نے سرمایہ داری کو بھی لب گور پہنچا دیا ہے۔ سٹرائیڈ کے استعمال کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔ ریگن اور تھیچر کی اسی مارکیٹ اکانومی سرمایہ دارانہ نظام کے لئے وہ سٹرائیڈ ہی تھی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.