.

مشرف میرا ٹارزن

سجاد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوچا تھا اس سے صرف نظر کرکے گزر جاتے ہیں۔ اس وقت یہ ویسا ہی نان ایشو ہے جیسا میرے خیال میں طاہر القادری تھا۔ علامہ صاحب کے بارے میں بھی لوگ کہتے تھے اگر انہیں کسی نے بھجوایا ہے تو اس کا کوئی مقصد ہوگا۔ اور وہ نہیں چاہیں گے کہ یہ مقصد پورا نہ ہو۔ عرض کرتا رہا ہوں کہ بھیجنے والوں کا مقصد انہیں کامیاب کرانا نہیں، ہمیں یاد کرانا ہے کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ موصوف کے بارے میں بھی میری یہ رائے رہی ہے اور فی الحال ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مشرف کسی کی اشیر باد سے آیا ہے اور اس کا کوئی مقصد ہے تو میرے خیال میں وہ خواہ مخواہ نادیدہ خوف کو اہمیت دے رہا ہے۔ کتنی دھول اڑ رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں بولتی کیوں نہیں، کوئی ڈیل ہوئی ہے تبھی تو زبانیں گنگ ہیں۔ ہمارے برادر ممالک نے ضمانت دے رکھی ہے۔

کس بات کی ضمانت؟ اسے اقتدار میں لانے کی ضمانت؟ نظام کو تلپٹ کرنے میں اس کی مدد حاصل کرنے کی ضمانت؟ بھئی ، پتا تو چلے کیا ڈیل ہے؟ اس سے کیا طے پایا ہے؟ اس سے کوئی کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیا ان طاقتوں کو یہ بھی پتا نہیں کہ مشرف کی حیثیت ایک چلے ہوئے کارتوس سے زیادہ کی نہیں۔ پھر اسے کس مقصد کے لئے بھیجا گیا، اور بھی سکیورٹی کے ایسے شدید خطرات ہیں جو اس ذات شریف کو لاحق ہیں۔ ایسے خطرے تو بے نظیر کو بھی درپیش نہ تھے اور شاید اس وقت الطاف حسین کو بھی درپیش نہیں ہیں۔ پھر یہ بیوقوف شخص کیوں پاکستان آیا۔

اب اسے عدالتوں کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے غیور جری اور بہادر جوان بپھرے ہوئے ہیں، پختون اس کے خون کے پیاسے ہیں، پاکستان بھر میں اسے آمریت کی نشانی گنا جاتا ہے۔ پھر وہ کیوں آیا اور اسے کس لئے بھیجا گیا۔ وہ تو شاید اب بھی چک شہزاد میں طبلہ سرنگی لے کر بیٹھ جاتا ہوگا اور دنیا و مافیہا سے بے خبر مست ہو جاتا ہوگا، مگر اس کی اس وقت اہمیت کیا ہے؟ سچ مچ غور تو کریں۔ دھول اڑ رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں خاموش ہیں۔ انہیں اکسایا جا رہا ہے تم بول کیوں نہیں رہے۔ ان پر الزام لگ رہا ہے کہ انہوں نے مشرف سے خفیہ ڈیل کر رکھی ہے۔ بھئی وہ کیوں بولیں، اس وقت انتخابات مشرف کے مسئلے پر تو لڑے نہیں جا رہے، وہ کیوں اپنی توجہ اس جدوجہد سے ہٹائیں۔ آخر ہم کس لئے اشتعال دلانے والے آلہ کار بنے بیٹھے ہیں۔ برا نہ منائیے، ہمارا بالکل یہ رویہ ہے کہ کسی طرح سیاسی جماعتیں باقی باتیں بھول کر اس ایشو پر لگ جائیں جو فی الوقت ایک نان ایشو تھا۔ ایشو ہے تو بھی فوری نہیں ہے۔ جب وہ گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہوا تھا اس وقت صورت حال مختلف تھی، اب مختلف ہے۔ قوم پہلے الیکشن کے ذریعے اپنا بنیادی مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے، اپنی شراکت اقتدار کا مسئلہ ۔ پھر یہ شخص کہاں جاتا ہے۔ وہ گھیرے میں ہے۔ اسے تمام حلقوں سے انتخاب لڑنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں دے دیا گیا ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے بغیر وہ ایک قدم نہیں اٹھا سکتا۔ وہ کوئی جلسہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے تو پریس کانفرنس تک کرنا آسان نہیں ہے۔ پھر اس نے یہ کیا جھک ماری ہے۔ کسی نے کہا گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔ اب وہ لوہے کے جال میں ہے۔ اس کی زبان کی لکنت، اس کی بدن بولی، اس کا ایک ایک قدم بتاتا ہے کہ وہ لاکھ بہادری کے دعوے کر ے، اس وقت کچھ بھی نہ کر سکنے کی پوزیشن میں ہے۔

ہاں، وہ ہمارے اداروں کا امتحان ضرور ہے۔
عدلیہ کا ہے تو وہ بروئے کار آچکی ہے۔

وفاقی حکومت کا ہے تو وہ بھی ہماری طرح امتحان میں ہے۔ عبوری جو ہوئی۔ آنے والی وفاقی حکومت کے لئے البتہ وہ بڑا امتحان ہوگا۔

سیاسی جماعتوں کی آزمائش ہے۔ مسلم لیگ (ن) خاص طور پر کیا کرتی ہے، عمران اسے کیسے نپٹا ہے۔ مگر یہ سب انتخابات کے بعد اور وہ بھی اگر یہ سب یا ان میں سے کوئی حکومت کا حصہ بنتا ہے۔ پیپلزپارٹی اور اس کے حواری ڈھٹائی سے اس کا ساتھ دے چکے، مگر وہ بھی کیوں آخری حد تک جائیں گے۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں لینڈنگ میں مدد دی، مگر اس سے زیادہ سوچا جا رہا تھا تو وہ بیوقوفی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ آپ اپنے آپ کو بھی نہیں سمجھتے اور ایم کیو ایم کو بھی نہیں جانتے۔ آہستہ آہستہ ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

آخری امتحان مسلح افواج کا ہے، خاص طور پر ہماری خاکی وردی کا۔ تاثر یہ ہے کہ فوج اپنے سربراہوں کے کئے دھرے کا دفاع کرتی ہے۔ اس سے پہلے مگر کوئی اس طرح قابو بھی تو نہ آیا تھا اور اس سے پہلے فوج نے کبھی اپنے ”جمہوری“ رویے کا یوں اظہار بھی تو نہ کیا تھا۔ جنرل کیانی کہتے ہیں، ہم نے پانچ سال بڑے صبر سے گزارے۔ اب ہم اپنے کئے کرائے پر پانی نہیں پھیرسکتے۔ یہ بات انہوں نے اور حوالے سے کہی تھی، اس حوالے سے بھی تو اس کے معنی بنتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ موقف بھی اختیار کیا جا رہا ہے کہ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ اس لئے نہیں چل سکتا کہ وہ سب کو ملوث کرے گا۔ فوج اپنے اتنے بندوں کا ٹرائل نہیں چاہے گی۔ یہ پنڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہوگا۔ اور بھی بہت سے نام آئیں گے۔ اس حمام میں سب ننگے ہو جائیں گے۔

کیا خیال ہے۔ اس بار صرف اس ایک آدمی کو ننگا کر دینا کافی نہ ہوگا۔ ہاں ان چار مہم جو جرنیلوں اور دو چار بعد میں جرنیل بننے والوں کی گرفت ضروری ہوگی جو علی الاعلان اس بغاوت کا اعتراف کر چکے ہیں جب مشرف ابھی ہواﺅں میں تھے۔ باقیوں کو فی الحال بھولا بھی جا سکتا ہے، صرف اس لئے کہ اصل آدمی پر گرفت ہو سکے۔ کیا خیال ہے، اس مرحلے پر یہ حکمت عملی اختیار کرنے میں کوئی حرج ہے۔

چھوڑئیے، یہ کام میں نے کرنا ہے یا آپ نے ؟ سنا ہے آئین کے مطابق یہ صرف وفاقی حکومت کر سکتی ہے وفاقی حکومت کی بڑی مجبوریاں ہوا کرتی ہیں۔ رموز خسرواں ہم کیا جانیں۔

فی الحال مجھے اتنا عرض کرنا ہے۔ مشرف کو اس کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ مطلب یہ نہیں کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔ وہ تو ہوگی۔ مطلب صرف یہ ہے کہ اسے سیاسی ایشو بنانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے وہ ہے اور بنے گا۔ فی الحال ہمیں انتخابات لڑنا ہے اور اس بات کا بندوبست ہوگیا ہے کہ یہ شخص اس میں حصہ نہیں لے گا۔ اور یہ بھی طے ہوگیا ہے کہ وہ عدالت سے تو فرار ہو سکتا ہے ملک سے فرار نہیں ہو سکے گا۔

پس تحریر: چلتے چلئے، ایک نکتہ اور عرض کرتا جاﺅں۔ یاد ہے جب یہ شخص پہلی بار عدالت میں پیش ہوا تو اس کے کمانڈو محافظوں نے سیاہ نقاب پہن رکھے تھے۔ کیوں؟ کبھی ایسا ہوا ہے۔ وہ سرکاری اہلکار تھے تو وہ کس سے اپنے چہرے چھپا رہے تھے؟ کیا اب حکومت کی اعلیٰ ترین سکیورٹی فورسز بھی مشرف کی حفاظت کرنے سے خوفزدہ ہیں یا پھر یہ کون تھے؟ کوئی اجنبی چہرے؟ ایسے چہرے جو خود کو ہم پاکستانیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے؟ خدا کے لئے اس پر غور کیجئے۔ ہر دو صورتیں پریشان کن ہیں۔

بس تحریرII:ہاں، اس سوال کا تو جواب ہی نہیں دیا کہ یہ شخص آیا کیوں ہے۔ میرے خیال میں لاڈلے نے چاند مانگنے کی خواہش کی تھی۔ یہ کہہ کر مدد مانگی کہ مجھے جانے دو، پھر دیکھنا۔اسے سمجھایاگیا ہوگا، مگر ضدی رحمن باز نہ آیا۔ بات سمجھ آگئی۔ اس نے آنے کا اذن مانگا تھا، کچھ اور نہیں۔ وہ تو اس نے بتایا تھا کہ وہ سب حاصل کرے گا۔ سو بچے کی ضد پوری کر دی گئی۔
کچھ اور باتیں بھی ہیں، پھر کبھی سہی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.