.

چوروں کے لیے کوئی تالا نہیں بنا

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کوئک سیٹ امریکا میں چھوٹے تالے بنانے والی ایک کمپنی ہے‘ یہ کمپنی بریف کیس‘ ہینڈ بیگ‘ لیپ ٹاپ کیس‘ چھوٹے سوٹ کیسز اور پرسوں کے لیے تالے بناتی ہے‘ یہ کمپنی 1946ء سے کام کر رہی ہے‘ اس کمپنی کی دوسری نسل 2009ء میں بزنس میں آئی‘ ایڈوولف شوپ کے بیٹے روبرٹ شوپ نے 2009ء میں کمپنی کا انتظام سنبھالا اور یہ بڑے اور مضبوط تالے بنانے کا منصوبہ بنانے لگا‘ روبرٹ کے والد کو جب اس منصوبے کی بھنک پڑی تو اس نے بیٹے کو بلوایا اور اسے ایک دلچسپ نصیحت کی۔

والد نے کہا ’’ بیٹا میرے پاس بھی بڑے اور مضبوط تالے بنانے کا آپشن موجود تھا‘ میں 1946ء میں بڑے تالوں کی فیکٹری لگا سکتا تھا‘ میں نے فیزیبلٹی بنوائی تو مجھے اس کام میں کوئی بزنس چارم نظر نہیں آیا‘‘ بیٹے نے حیران ہو کر والد کی طرف دیکھا اور کہا ’’ آپ کیا فرما رہے ہیں‘ دنیا کے ہر دروازے‘ ہر لاکر‘ ہر مکان‘ ہر گودام اور ہر فیکٹری کو تالا چاہیے‘ لوگ بیگ ایک رکھتے ہیں مگر ان کے گھروں اور دفتروں میں درجنوں ایسی جگہیں ہوتی ہیں جہاں انھیں تالے لگانا پڑتے ہیں مگر آپ فرما رہے ہیں ملک میں بڑے تالوں کی مارکیٹ ہی نہیں‘‘ باپ مسکرایا اور بولا ’’برخوردار تالے شریف لوگوں کے لیے ہوتے ہیں‘ چوروں کے لیے نہیں‘ چور دنیا کا بڑے سے بڑا تالا توڑ لیتے ہیں‘ میں نے چوروں کو چلتی ٹرین سے کرنسی اور سونے کی پوری بوگی چوری کرتے دیکھا۔

میں نے لوگوں کو بینکوں کے سیف ہائوسز کے چھ چھ بڑے تالے توڑتے دیکھا اور میں نے چوروں کو چند سیکنڈ میں ڈیجیٹل لاک بھی ڈس فنکشنل کرتے دیکھا چنانچہ میں سمجھتا ہوں دنیا کا کوئی تالہ چور کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا‘ یہ تالے صرف ہماری نفسیاتی ضرورت ہوتے ہیں‘ میں صرف ایسے تالے بناتا ہوں جو شریف لوگوں کی نفسیاتی ضرورت پوری کر دیں‘ جنھیں شریف لوگ لگائیں اور جن کو شریف لوگ توڑنے کی ہمت نہ کریں‘ یہ وجہ ہے ہمارا بنایا ہوا تالہ کبھی توڑا نہیں جاتا جب کہ دوسروں کے تالے روز ٹوٹتے ہیں اور ان کی مارکیٹ میں بدنامی بھی ہوتی ہے‘ آپ بھی شریف لوگوں کو فوکس کرو‘ آپ کا بزنس کبھی زوال پذیر نہیں ہو گا۔

یہ فارمولا‘ یہ بات صرف تالہ سازی کی صنعت تک محدود نہیں بلکہ تیسری دنیا کا ہر معاشرہ‘ ہر ملک دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہے‘ شریف اور طاقتور‘ ملک کا قانون ہو‘ آئین ہو یا روایات ہوں یا پھر باسٹھ اور تریسٹھ ہوں یہ صرف اور صرف شریف لوگوں کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ان پر پوری کی پوری نافذ ہو جاتی ہیں جب کہ طاقتوروں کے لیے کوئی قانون ہوتا ہے‘ کوئی آئین اور نہ ہی باسٹھ تریسٹھ‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ انٹرنیٹ پر جا کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے کل کے مناظر دیکھ لیجیے‘ کل جنرل پرویز مشرف ججز نظر بندی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت میں توسیع سے انکار کر دیا۔

قانون کے مطابق انھیں ہائی کورٹ کے اندر سے گرفتار ہو نا چاہیے تھا مگر جنرل پرویز مشرف عدالت سے باہر نکلے‘ اپنی گاڑی میں بیٹھے اور سرکاری پروٹوکول اور سیکیورٹی میں اپنے گھر چلے گئے‘ آپ جنرل پرویز مشرف کو سیکیورٹی دینے والے ادارے دیکھیں‘ یہ سرکاری ادارے ہیں‘ ان کے گارڈز اور کمانڈوز بھی سرکاری ہیں‘ ان کے ساتھ پولیس کا دستہ بھی تھا‘ آپ اگر قانون اور قاعدہ دیکھیں تو ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد کمانڈوز اور گارڈز ہی کو پرویز مشرف کو گرفتار کر لینا چاہیے تھا‘ یہ انھیں پکڑتے اور عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے مگر ہوا اس کے برعکس‘ جنرل صاحب کو سرکاری ملازمین سرکاری سیکیورٹی میں عدالت میں لے کر آئے اور عدالتی فیصلے کے بعد سرکاری پروٹوکول کے ساتھ واپس لے گئے اورسرکاری اداروں کی یہ حرکت ثابت کرتی ہے پاکستان میں دو قسم کے قانون ہیں‘ شریف شخص کے لیے الگ قانون ہے جب کہ طاقتور کے لیے علیحدہ قانون‘ شریف شہری کا قانون کہتاہے آپ نے اگر کسی تنور سے روٹی چرائی ہے یا آپ سائیکل چور ہیں تو آپ پر پاکستان کی تمام تعزیرات کا پورا اطلاق ہو جائے گا اور آپ اگر سابق آرمی چیف ہیں اور آپ نے خواہ پورے ملک کا آئین یا قانون توڑ دیا۔

آپ نے پورے ملک کو ایسی جنگ میں جھونک دیا جس کے نتیجے میں ملک کے 50 ہزار لوگ شہید ہو گئے‘ آپ نے خواہ سپریم جوڈیشری کو معطل کر دیا‘ ججز کو گھروں میں قید کر دیا اور آپ نے ایمرجنسی لگا کر خواہ پورا آئین معطل کر دیا اور خواہ آپ کو سپریم کورٹ نے غاصب ڈکلیئر کر دیا ہو‘ آپ عدالتی فیصلے کے باوجود سرکاری سیلوٹوں اور سرکاری رائفلوں کے ساتھ عدالت سے نکل جائیں گے اور کوئی ادارہ آپ کا راستہ نہیں روکے گا۔

ہم آج کے پاکستان کو نیا پاکستان کہتے ہیں‘ یہ درست ہے سپریم کورٹ ماضی سے دس ہزار گنا زیادہ ایکٹو ہے‘ آزاد میڈیا نے کوئی گریبان سلامت نہیں رہنے دیا اور سوشل میڈیا ہر شخص‘ ہر ادارے کا گند عام کر رہا ہے مگر جہاں تک آمروں اور غاصبوں کا معاملہ ہے ہم آج بھی 1960ء‘ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم نے کل بھی یحییٰ خان کو سلامی دے کر اور پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا تھا‘ جنرل ضیاء الحق کو شہید پاکستان ڈکلیئر کیا تھا‘ ہم نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا اور ہم آج بھی جنرل پرویز مشرف کو سرکاری سیکیورٹی میں عدالت سے فرار کرا دیتے ہیں‘ ہم آج بھی غاصبوں اور آمروں کے معاملے میں پرانے پاکستان میں زندہ ہیں اور ہر آنے والے والا دن ہمیں یہ پیغام دے جاتا ہے۔

ہم شاید پاکستان کے اس سیاہ پہلو کو کبھی روشن نہ بنا سکیں اور یہ معاملہ صرف فوجی ڈکٹیٹروں اور آمروں تک محدود نہیں بلکہ اس ملک کی پوری اشرافیہ اس دائرے میں آتی ہے‘ آپ غلام ملک کے غلام ریٹرننگ آفیسرز کو دیکھ لیجیے‘ یہ دعائے قنوت نہ سنانے‘ نماز جنازہ نہ آنے‘ بیویوں کی تعداد معلوم نہ ہونے اور چھ کلمے نہ سنانے پر امیدواروں کو ڈس کوالی فائی کرتے رہے مگر انھوں نے قرضے معاف کرانے والے کسی امیدوار کا راستہ نہیں روکا‘ انھوں نے حج‘ ایفی ڈرین اور این آئی سی ایل میں محبوس کسی ملزم کو الیکشن لڑنے سے نہیں روکا‘ ہماری سابق حکومتوں کی بیڈ گورننس‘ کرپشن‘ بے ایمانی اور نااہلی نے پورا ملک برباد کر دیا‘ ہمارے کرپٹ وزراء کی مہربانی سے آج اسٹیل مل‘ پی آئی اے‘ ریلوے‘ لاء اینڈ آرڈر اور انڈسٹری تباہ ہو چکی ہے‘ ہمارے ملک کی حالت یہ ہے امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے حلقے میں آتے ہیں تو خودکش حملوں میں مارے جاتے ہیں۔

ثناء اللہ زہری جیسا مضبوط سردار حملے میں اپنا بھائی‘ بیٹا اور بھتیجا گنوا بیٹھا‘ بلور خاندان کے ساتھ کیا نہیں ہوا‘ یہ خیبر پختونخواہ کا معزز ترین سیاسی خاندان ہے لیکن یہ خاندان بشیر بلور جیسا شخص کھو بیٹھا‘ 16 اپریل کو حاجی غلام احمد بلور جیسے نفیس اور ہمدرد شخص پر حملہ ہوا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سہم کر بم پروف تہہ خانوں میں چھپی ہے جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت جانتی ہے یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد دہشت گردوں کا اگلا ٹارگٹ ہے مگر ریٹرننگ آفیسروں نے ملک کو اس حد تک پہنچانے والے کسی سیاستدان‘ کسی لیڈر کو الیکشن سے نہیں روکا‘ یہ پورا ملک برباد کرنے کے باوجود صادق اور امین ہیں مگر دعائے قنوت نہ سنانے والے‘ نماز جنازہ کے بارے میں پوری معلومات نہ رکھنے والے اور دوسری بیوی کے حقوق نہ بتانے والے الیکشن کے لیے نااہل ہو چکے ہیں‘ ہمارا الیکشن کمیشن بکریوں کے دانت گنتا رہ گیا جب کہ ہاتھی پوری فصل اجاڑ کر جنگل کی طرف نکل گئے۔

آپ سسٹم کا کمال دیکھئے ملک کی ایک عدالت فیصل صالح حیات‘ عابد امام‘ ایاز امیر اور جمشید دستی کے کاغذات مسترد کر دیتی ہے جب کہ دوسری عدالت ان تمام لوگوں کو بے گناہ‘ معصوم اور صادق و امین قرار دے دیتی ہے‘ آپ شیخ وقاص اکرم کی مثال بھی لے لیجیے‘ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ان کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیا‘ ریٹرننگ آفیسر نے اس بنا پر ان کے کاغذات مسترد کر دیے مگر دو دن قبل الیکشن ٹریبونل نے ان کو دوبارہ صادق و امین اور معصوم قرار دے دیا اور یوں انھیں الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی‘ ہمارے ملک میں سیاسی اشرافیہ آنکھ ایک پارٹی میں کھولتی ہے‘ اقتدار کے دوران دوسری پارٹی میں جمپ لگاتی ہے۔

اپوزیشن تیسری پارٹی کے ساتھ گزارتی ہے اور الیکشن کے قریب پہنچ کر پہلی‘ دوسری یا تیسری پارٹی میں چھلانگ لگا دیتی ہے مگر یہ اس کے باوجود صادق اور امین بھی رہتی ہے اور ملک کا کوئی ادارہ‘ کوئی قانون ان کی صداقت اور امانت کا راستہ نہیں روک سکتا‘ یہ لوگ خواہ جنرل ہوں‘ سیاستدان ہوں یا پھر سیاستدانوں کے رشتے دار بیورو کریٹس‘ یہ وہ بڑے چور ہیں جن کے لیے آج تک قانون کا کوئی تالہ ایجاد نہیں ہوا‘ یہ پورے کا پورا آئین توڑنے کے بعد بھی سرکاری مہمان ہوتے ہیں یا پھر سرکار کی مہربانی سے سعودی عرب‘ لندن اور نیویارک کے مہمان اور اگر بدقسمتی انھیں ملک میں لے آئے تو یہ عدالتی احکامات کے باوجودہائوس اریسٹ میں چلے جاتے ہیں جہاں انھیں وہ تمام سہولتیں حاصل رہتی ہیں عوام جن کے سائے تک کے لیے ترستے رہتے ہیں‘ اس ملک میں انصاف بڑوں کے لیے ہے اور قانون چھوٹوں کے لیے اور ہمارا یہ رویہ ہمیں قبر تک لے آیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.