.

مکافات عمل کا گرداب

عرفان صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے وقت کا دیو قامت ”ٹائی ٹینک“ آج مکافات عمل کے گرداب میں بے پتوار کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہا ہے۔ وہ بھول گیا تھا کہ کبریائی فقط کائنات کے خالق و مالک کو زیبا ہے اوراپنی حدوں سے آگے نکل جانے والا کوئی انسان زوال وفنا کے بے مہر موسموں سے نہیں بچ سکتا۔

”اس نے خدا کو بھلا دیا تھا۔ ممکن ہے اب اس کے دل و دماغ کے دریچے ہولے ہولے کھل رہے ہوں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج تک یہ روایت قائم نہیں ہوسکی کہ آئین و قانون سے کھیلنے والے کسی مہم جو کو کٹہرے میں لایا گیا ہو۔ پرویز مشرف پہلا ڈکٹیٹر ہے جس کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ شاید اس لئے کہ اس کی سیاہ کاریوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ تکبر اس کی نس نس میں سما گیا تھا۔ وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ گردش شام و سحر تھم گئی ہے اور کارکنان قضا و قدر بھی مسلم لیگ (ق) کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ اس حکومت یا ریاست کا نہیں، کسی دست غیب کا ہنر ہے۔

نو برس تک پاکستان کو تاخت و تاراج کرنے اور ظلم و ستم کی شرمناک داستانیں رقم کرنے کے بعد وہ گارڈ آف آنر لے کر ملک چھوڑ گیا۔ اس کے آقاؤں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور وہ اقتدار سے محروم ہو کر بھی عیش و عشرت کی زندگی گزارنے لگا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پر مشتمل حکومت کو کوئی دلچسپی نہ تھی کہ مشرف پر کوئی مقدمہ چلے، محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے قتل سے پہلے تحریری طور پر اسے اپنا قاتل نامزد کر گئی تھیں لیکن زرداری صاحب نے اس سے ایک سوال تک نہ پوچھا۔ نواز شریف نے اس خیال سے اسے بھولی بسری کہانی بنا دیا کہ ان کی تکرار سے ذاتی انتقام کی بو نہ آئے۔ عدلیہ نے بھی تمام تر تحرک کے باوجود کوئی ایسا حکم جاری نہ کیا کہ مشرف کو بزور وطن واپس لایا جائے نوع بہ نوع مسائل میں گھری قوم نے بھی اسے قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیا۔ اچھا ہوتا وہ اس صورت حال کو ایک نعمت خیال کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور دبئی کی عشرت گاہوں کا ہی ہو جاتا لیکن نو سالہ اقتدار کے نشے نے اسے چین نہ لینے دیا۔ فیس بک اور انٹر نیٹ کے عشاق نے اس کے دماغ میں یہ زعم باطل بھر دیا کہ پاکستان اس کی راہ دیکھ رہا ہے اور پوری قوم ایک بار پھر اس کی قیادت کی دعائیں مانگ رہی ہے۔ اسے عبرت کی علامت بنانے والا کوئی لمحہ، خناس بن کر اس کے دل میں سما گیا اور وہ قوم کے سینے پہ مونگ دلنے پاکستان آگیا۔ اسے معلوم نہیں کہ پاکستان بدل چکا ہے اور عدالتیں سرگرم ہیں۔

بنیادی معاملات پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ پرویز مشرف کا 3/نومبر 2007ء کا اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ اسے آئین شکن اور غاصب بھی قرار دیا جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ تو یہ بھی کہہ چکی ہے کہ پرویز مشرف نامی شخص کبھی صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہی نہیں رہا۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کیس کے فیصلے میں، پیرا گراف 41 میں کہا گیا ہے کہ
" HOWEVER IT IS NOTEWORTHY THAT THOUGH PRESIDENT TARAR CONTINUED TO FUNCTION UNDER THE EXTRA-CONSTITUTIONAL SETUP, BUT WHEN HE WAS MADE TO QUIT THE PRESIDENCY EARLIER THAN THE COMPLETION OF HIS TERM BY MEANS OF THE PRESIDENT'S SUCCESSION ORDER 2001, HE DID NOT RESIGN FROM HIS OFFICE- THUS, CONTITUTIONALLY AND LEGALLY THE OFFICE OF PRESIDENT HAD NOT FALLEN VACANT SO AS TO ENABLE ANYONE TO ASSUME THE SAME".

تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ صدر تارڑ نے ماورائے آئین بندوبست کے تحت کام جاری رکھا، لیکن جب ”انہیں صدارتی جانشینی آرڈر 2001ء کے ذریعے آئینی میعاد کی تکمیل سے پہلے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا تو انہوں نے منصب صدارت سے استعفیٰ نہیں دیا۔ لہٰذا آئینی و قانونی طور پر صدر کا عہدہ خالی ہی نہیں ہوا تھا کہ کوئی اور شخص اسے پر کرتا۔“

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا ماخذ، آئین کا آرٹیکل 44 ہے جو قرار دیتا ہے کہ منتخب صدر اپنی آئینی معیاد کی تکمیل کے بعد بھی اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا جب تک نیا منتخب صدر یہ منصب سنبھال نہیں لیتا۔ اس فیصلے کا واضح اور غیر مبہم مفہوم یہ ہے کہ صدر تارڑ اس دن تک اپنے عہدے پہ قائم تھے جس دن آصف علی زرداری نے منصب صدارت سنبھالا۔ جناب رفیق تارڑ نے کوئی ایک سال قبل، مارچ 2012ء میں لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تھی کہ پرویز مشرف سے تمام صدارتی مراعات واپس لی جائیں، صدور کی فہرست سے اس کا نام خارج کیا جائے اور تمام سرکاری عمارات سے اس کی تصاویر اور آثار ہٹا دیئے جائیں۔ نہ جانے کیوں اتنی اہم پٹیشن اب تک لاہور ہائی کورٹ کے کسی سرد خانے میں پڑی ہے؟ اگر سپریم کورٹ کے اس قدر اہم فیصلے کی روشنی میں پی پی پی حکومت نے ضروری اقدامات نہیں کئے تو عدلیہ نے بھی زیادہ گرم جوشی نہیں دکھائی۔ تارڑ صاحب کی یہ پٹیشن سن لی جاتی تو آج سینیٹ کے ارکان کو بہ یک زبان یہ مطالبہ نہ کرنا پڑتا کہ تمام مقامات سے مشرف کی تصاویر ہٹا دی جائیں۔ عزت مآب جسٹس عطا محمد بندیال، رجسٹرار سے پوچھیں کہ یہ پٹیشن کون سی کرم خوردہ الماری میں پڑی ہے؟

قانون حرکت میں ہے۔ مشرف نے خود بھی کہا کہ ان کے احتساب سے اداروں میں جنگ ہوسکتی ہے۔ ان کی نام نہاد جماعت نے بھی فوج کو مدد کے لئے پکارا ہے۔ کچھ اور اشارے بھی آ رہے ہیں۔ لیکن قوی امکان ہے کہ آئین، قانون اور جمہوریت کے ساتھ گہری وابستگی کی روایت پر کاربند جنرل کیانی، تاریخ کے اس موڑ پر اپنے دامن کو بے داغ رکھیں گے۔ اگر ایک آمر، فوج کی 33 سالہ آمریت کا کفارہ بننے دیا جائے تو جنرل کیانی کا قد بھی بلند ہوگا اور اس فوج کا بھی جس کی ساکھ کو آمروں نے جنس بازار بنائے رکھا۔

سن 2007ء میں اس نے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس بلا کر دھمکیاں دیں اور معزول کیا تو وہ جمعة المبارک کا دن تھا۔ جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے چوبیس گھنٹے بعد اسے باضابطہ طور پر گرفتار کرکے پولیس لائن ہیڈ کوارٹر پہنچایا گیا تو بھی جمعة المبارک کا دن تھا۔ وہ پہلی شب تھی جو اس نے پولیس لائن کے مہمان خانے میں بستر پہ کروٹیں بدلتے گزاری۔ یہ اس کی پرشکوہ زندگی کی پہلی رات تھی جو اس نے کسی پر آسائش خواب گاہ کے بجائے ایک بے آب و رنگ کمرے میں ایک قیدی کے طور پر کاٹی۔ شاید اسے اپنے عہد رعونت کے روز و شب یاد آئے ہوں۔ شاید اسے نواز شریف کو وزیر اعظم ہاؤس سے اٹھا کر اٹک قلعہ کی کال کوٹھڑی میں ڈالنے، کھڑکیوں کو آہنی چادروں سے بند کردینے، ہتھکڑیاں لگا کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دینے، پہروں بھوکا پیاسا رکھنے اور باپ کی میت کو کندھا دینے سے محروم رکھنے والی باتیں یاد کرلی ہوں۔ شاید اسے اکبر بگٹی نامی بوڑھا بلوچ یاد آیا ہو جسے اس نے اعلان کرکے قتل کیا اور اس کے اہل و عیال کو نماز جنازہ تک نہ پڑھنے دی۔ شاید اسے خیال آیا ہو کہ کس طرح اس کے حکم پر اس کے کارندوں نے سیاسی حریفوں پر انسانیت سوز تشدد کیا۔ شاید اس نے سوچا ہو کہ کس طرح وہ اپنے مفادات کے لئے آئین و قانون سے کھیلتا رہا۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں واقع پولیس لائنز کے عین سامنے، سڑک کے اس پار ایک بڑا قبرستان ہے۔ لال مسجد کے شہدا اسی قبر ستان میں دفن ہیں۔ مشرف کو شاید کسی نے نہیں بتایا ہوگا کہ اس کے پڑوس میں کون سی پاک روحوں کا مسکن ہے اور وہ آپس میں کیا سرگوشیاں کر رہی ہیں۔

اب وہ چار مئی تک جوڈیشل ریمانڈ پر ہے قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ شاید اس کے فارم ہاؤس کو سب جیل قرار دے دیا جائے۔ ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ رات کے طوفان باد و باراں کے باعث اس فارم ہاؤس کی حفاظتی فصیل گر گئی ہے کیا اب بھی کوئی شک ہے کہ سیاہ کار ڈکٹیٹر کس کی گرفت میں آچکا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.