.

مگر یہ بات کہاں سمجھ میں آتی ہے

وسعت اللہ خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چلیے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ نواز شریف اگر پرویز مشرف کے بارے میں کوئی اچھی بری بات کریں تو اس کا ٹھوس جواز ہے۔ پیپلز پارٹی والے بھی اگر بے نظیر قتل کیس میں ان کے ملوث ہونے کا شک رکھتے ہیں تو پرویز مشرف پر ان کے تبصرے بھی ہضم ہوسکتے ہیں۔ لیکن جن پر پرویز مشرف کے احسانات ہیں انھیں کیا ہوگیا۔

مثلاً ق لیگ کو لے لیں۔2002 کے انتخابات سے قبل اس جماعت کو میجر جنرل ریٹائرڈ احتشام ضمیر کے بقول ایک منصوبے کے تحت وجود میں لایا گیا۔جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کا روزمرہ چوہدری برادران کو سونپ دیا۔پرویز الہی2007 کے صدارتی ریفرنڈم کی مہم میں ہر جلسے میں کہتے تھے کہ مشرف کو ایک بار نہیں بیس بار وردی میں منتخب کرائیں گے۔وزیرِ اعظم چوہدری شجاعت حسین کہتے تھے کہ آخر صدر صاحب وردی کیوں اتاریں ؟ کیا انھوں نے انڈین آرمی کی وردی پہن رکھی ہے جو اتاریں۔ چنانچہ ایسی عاشقی دکھانے کے بعد کم ازکم پرویز مشرف کا اتنا حق تو بنتا تھا کہ ان کی پاکستان آمد کے بعد چوہدری برادران اپنے سابق محسن سے سیاسی نہیں تو سماجی اخلاقیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کم ازکم ایک رسمی ملاقات کرلیتے۔

شیخ رشید احمد بطور وزیرِ اطلاعات مشرف حکومت کے باقاعدہ ترجمان تھے۔ مشرف حکومت نے شیخ رشید کے انتخابی حلقے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مہیا کئے۔ شیخ صاحب آج بھی پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرتے ہیں لیکن جب سے مشرف صاحب پاکستان آئے ہیں شیخ صاحب چک شہزاد کے راستے سے بچ بچا کر آتے جاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے فیصل صالح حیات ہوں کہ مشرف حکومت کی خارجہ پالیسوں کے وکیل وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری ، کہ وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ۔یہ سب جنرل صاحب کا نام لیے بغیر لقمہ نہیں توڑتے تھے۔اگر آج ان سے پوچھا جائے کہ پرویز مشرف ؟؟ تو وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ نام تو سنا ہے۔شائد ایک آدھ اتفاقاً ملاقات بھی ہوئی ہو۔اصل میں انتخابی مہم میں اتنا مصروف ہوں کہ کون آیا کون گیا کچھ یاد نہیں رہتا۔۔۔۔۔

جانے جسٹس ریٹائرڈ عبدالحمید ڈوگر کا دل بھی کیوں نہیں چاہتا کہ وہ اور کچھ نہیں تو چک شہزاد کے فارم ہاؤس کے دروازے پر پھول ہی رکھ آئیں۔

اور ہاں ! ایم کیو ایم کہاں ہے۔ جس نے پرویز مشرف کی آمد پر ان کے ساتھ دبے دبے الفاظ میں کچھ ہمدردی ظاہر کی مگر اس کے بعد سے لندن سے کراچی تک خاموشی چھا گئی۔ حالانکہ ستاروں کی گردش کے مارے جنرل صاحب نے ان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔وفاق اور سندھ میں بھرپور ، مسلسل ، موثر اور با اختیار نمائندگی ، بلدیاتی اداروں کی دامے درمے سخنے بھرپور مدد۔کم ازکم ایم کیو ایم کا ایک وفد تو پرانی یادوں کے تعلق سے چک شہزاد کے دروازے تک جا ہی سکتا تھا۔چلیے مان لیا کہ سیاسی و قانونی موسم سازگار نہیں۔لیکن ایک آدھ ایسا بیان دینے میں کیا حرج ہے کہ جس سے گرداب میں پھنسے پرانے دوست کی کچھ ہمت ہی بندھ جائے۔

اور یہ مولانا فضل الرحمان کو کیا ہوگیا۔کیا یہ ممکن تھا کہ اگر پرویز مشرف حکومت نا ہوتی تو متحدہ مجلسِ عمل2002 کے انتخابات میں اتنی اکثریت لے لیتی کہ خیبر پختون خواہ پر پانچ برس حکومت کرسکے۔یہاں میں یہ تذکرہ نہیں کروں گا کہ آئی ایس آئی کے سابق میجر جنرل احتشام ضمیر نے متحدہ مجلسِ عمل کی انتخابی کامیابی کے اسباب کا کیا تجزیہ کیا تھا۔

لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ دینی جماعتوں نے ازخود اتحاد کا فیصلہ کرکے اپنی انتخابی حکمتِ عملی بھی ازخود ترتیب دی تھی تو میں اس دعویٰ کو بھی چیلنج نہیں کروں گا۔ پھر بھی یہ سوال کرنے کا تو بہرحال حق ہر ایک کو ہے کہ آج جب پرویز مشرف دور کو گزرے پانچ برس سے زائد ہوچکے دینی جماعتیں ایک متحدہ انتخابی اتحاد کیوں تشکیل نا دے پائیں۔ جب کہ سیکولر جماعتوں کے برعکس دینی جماعتوں کی انتخابی مہم کے لیے حالات پہلے سے زیادہ سازگار ہیں۔کیا مولانا کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ سینیٹر طلحہ محمود کے فارم ہاؤس کی طرف جاتے ہوئے مشرف ہاؤس کے سامنے سے ہی گذر جائیں۔

نا تو یہ شکایت ہے نا کوئی طنز اور نا ہی کسی بندھے ہوئے شخص سے ہمدردی۔عرض کرنے کا مقصد بس یہ ہے کہ کوئی بھی غیر سیاسی شخص جو سیاست کو اپنا کیریئر بنانے کا شوقین ہو اسے یہ بات ہر وقت دھیان میں رکھنی چاہیے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ اسے اس کہاوت کا مطلب بھی کسی دانشمند سے پوچھ لینا چاہیے کہ اندھیرے میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔اسے یہ بات لکھوا کر تعویذ بنا لینا چاہیے کہ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔اسے سیاست میں سنجیدہ ہونے سے پہلے دن کی روشنی میں کسی اجڑے ہوئے کوٹھے کا بھی ایک آدھ بار ایسے ہی مطالعاتی چکر لگا لینا چاہیے تاکہ مشاہدہ ہو سکے کہ چند گھنٹے پہلے رنگ و نور کی جھنکاروں کے درمیان ناچتی زندگی کی عمر کتنی عارضی ہوتی ہے اور ہر تماشائی اس خیال کے نشے میں چور کیسے لٹتا چلا جاتا ہے کہ یہ خوبصورت شب کبھی بھی تپتے سورج کے ہاتھوں ریپ نہیں ہوگی۔

بے شک آنکھ والے کے لیے ہی عبرت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.