.

امریکہ اور عوامی جمہوریہ کوریا: تنگ آمد بجنگ آمد

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج کل امریکہ عوامی جمہوریہ کوریا سے جنگ کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کے لیے طرح طرح کے بہانے تلاش کر رہا ہے اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ خود کو نوزائیدہ میمنہ اور عوامی جمہوریہ کوریا کو ایک خونخوار بھیڑیے کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے چنانچہ امریکی ذرائع ابلاغ اور ترقی پذیر ممالک میں اس کا زر خرید مقامی میڈیا عوامی جمہوریہ کوریا پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا خود کو اور اپنے ننھے منے حلیف جنو بی کوریا کو عوامی جمہوریہ کوریا کے حملے سے بچاؤ کے لیے جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر اس کی سر زمین پر فوجی مشقیں شروع کر دیں جبکہ 8 مارچ کو جوہری بموں سے لیس امریکہ B-52 بمبار طیارے نے امریکہ کے St. Andrews فوجی اڈے سے اڑان بھر کر عوامی جمہوریہ کوریا سے متصل جنوبی کوریا میں واقع اپنے اڈوں پر اترا اور وہاں جاری فوجی مشقوں میں شامل ہو گیا۔ پینٹا گون کے ترجمان جارج Little (چھوٹے میاں ) نے امریکہ جارحانہ عزائم کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے بلا لگی لپٹی رکھے اعلان کیا کہ عوامی جمہوریہ کوریا پر عوامی جمہوریہ کوریا کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکہ کو اپنے حلیف کے دفاع کے عزم کا اظہار کرنا پڑا۔ یہ بات اس نے 19 مارچ کو کہی جب امریکی اور جنوبی کوریائی افواج عوامی جمہوریہ کوریا سے بہت قریب دنگل سے پہلے اکھاڑے میں اترے ہوئے کسی پہلوان کی طرح ڈنڈ بیٹھک لگا رہی تھی، ساتھ ہی ساتھ عوامی جمہوریہ کوریا کو للکار بھی رہی تھیں۔ اس کے بعد 28 مارچ کو امریکہ کے مزید دو B-52 بمبار طیارے کوریا کے اکھاڑے میں اتار دیے۔ امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے بمبار طیارے ریاست Missour میں واقع اپنے اڈے سے 6500 میل کا فاصلہ طے کر کے کوریا میں جاری فوجی مشق Foaleacle (Eagle) میں شرکت کی غرض سے آئے ہیں اور یہ کسی بھی مقام کو اپنے روایتی یا جوہری بچوں سے ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ سب اس لیے کرنا پڑا کہ عوامی جمہوریہ کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر حملے کی دھمکی دی ہے ۔

یہ بات تو امریکہ ٹھیک کہتا ہے کہ عوامی جمہوریہ کوریا کے صدر کم جیانک ان نے امریکہ پر پیشگی حملے کی دھمکی اس وقت دی تھی جب امریکہ نے اس دسمبر میں تجرباتی خلائی سیارہ اڑانے پر سلامتی کونسل کے ذریعے 13 جنوری کو اس پر مزید پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ عوامی جمہوریہ کوریا کے صدر کا کہنا تھا کہ جب امریکہ چاہتا ہے تو ہر طرح کے تجرباتی دھماکے کرتا ہے اور خلائی سیارے چھوڑتا ہے لیکن جب عوامی جمہوریہ کوریا بھی وہی تجربات کرتا ہے تو اس کے خلاف پابندیاں عائد کر دیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پیشگی حملے اور ڈرون حملے دونوں International Humanitarian Law اور 1977ء کے فاضل پروٹوکول کے منافی ہیں۔ اس لیے عوامی جمہوریہ کوریا اور امریکہ سمیت تمام ریاستوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکہ پیشگی اور ڈرون دونوں حملوں کو نہ صرف جائز قرار دیتا ہے بلکہ انہیں کثرت سے استعمال کرتا ہے۔

اس وقت عوامی جمہوریہ کوریا شمشیر برہنہ ہے اور اس کی دھار امریکی جارحیت نے صیقل کر دی ہے۔ سچ پوچھیے تو امریکہ اس بحران کا ذمہ دار ہے۔ عوامی جمہوریہ کوریا نے تو جوہری اسلحہ کے عدم پھیلاؤ (NPT) کے معاہدے پرنہ صرف دستخط کیے بلکہ اس کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی IAEA سے اپنی جوہری تنصیبات کا باقاعدہ معائنہ کرتا رہا۔ اس طرح ایران بھی امن معاہدے پر دستخط کے بعد اپنے جوہری کارخانوں کا برابر معائنہ کراتا رہا ہے جبکہ معائنہ کاروں کے بھیس میں امریکی جاسوس ایران کے عسکری راز کا سراغ لگانا چاہتے تھے۔ عوامی جمہوریہ کوریا نے تو 1994ء میں اپنے جوہری اسلحہ ساز منصوبے کو اس شرط پر ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا کہ اس کے بدلے امریکہ اسے تیل اور جوہری بجلی گھر کے فراہم کرے گا لیکن جب امریکہ اپنے وعدے سے پھر گیا تو مجبوراً عوامی جمہوریہ کوریا کو NPT میں اپنی رکنیت معطل کرنی پڑی اور اس نے 2006ء، 2009 اور22 فروری 2013ء میں تجرباتی دھماکے شروع کر دیے۔ اس کے برعکس امریکہ کے لیے اسرائیل کو جوہری بم سازی کی پوری چھوٹ دی ہوئی ہے جس کا فائدہ اٹھانے والے اسرائیل نے امریکی سی آئی اے کے اندازے کے مطابق چار سوبم طیار کر لیے وہ آئے دن ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے اور اسے ایسا کہنے سے باز رکھنے کی بجائے امریکہ بھی ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتا ہے اور جب ایران ان دونوں دہشت گرد ریاستوں پر جوابی حملہ کرنے کا انتباہ کرتا ہے تو یہود و نصاریٰ کی پروپیگنڈہ میشن ان کو مظلوم قرار دینے کا ڈھونگ رچاتی ہے۔

اگر کینیڈ ا یا میکسیکو کی سر زمین پر عوامی جمہوریہ چین یا روس کی ہزاروں کی تعداد میں فوج مستقلاً تعینات رہیں تو امریکہ اسے برداشت کرے گا؟ اس نے تو 1962ء میں کیوبا کی سر زمین پر سوویت یونین کے نصب کردہ درمیانی مار کرنے والے میزائل کی تنصیب پر اس جزیرے کی بحری ناکہ بندی کر دی تھی۔ اور کیا وہ سوویت یونین کو وہ میزائل کیوبا سے واپس اپنے ملک لے جانے پر مجبور نہیں کر رہا تھا؟ کیا امریکہ کے پڑوس میں کسی ریاست کی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو ایٹمی ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے ان کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرتا؟ اسی طرح اڑھائی کروڑ آبادی والی چھوٹی ریاست عوامی جمہوری کوریا سرحد پار جنوبی کوریا، جاپان اور شمالی بحر الکاہل میں جوہری میزائل سے لیس امریکی افواج اور آبدوزوں کی موجودگی سے خطرہ نہیں محسوس کرتا؟ اور جب اس کے بار بار کہنے پر بھی امریکہ اپنی فوج واپس نہیں بلا لیتا تو کیا عوامی جمہوریہ کوریا اپنے دفاع کے لیے جوہری بم نہیں بنا سکتا؟ ہیروشیما کے ادارے Hiroshima Peace Research Institute کے جریدے Hiroshima Research News جلد 15 نمبر 2، نومبر 2012ء نے صفحہ 2 پر انکشاف کیا ہے کہ جاپان کا جوہری Reactor اتنی مقدار میں پلوٹونیم افزودہ کر چکا ہے کہ جس سے وہ 9 اگست 1945ء میں ناگا ساکی پر گرائے جانے والے ، جیسے پانچ ہزار ایٹم بم بنا سکتا ہے۔

امریکہ نے جاپان کو اس لیے ایٹم بم بنانے کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دے دی ہے تا کہ وہ انہیں عوامی جمہوریہ چین پر استعمال کرے جس کے خلاف امریکہ نے اسے متنازع جزیرے ڈامے یویا سنکاکو پر چین کے خلاف ڈٹ جانے پر اپنی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

ایک اور اعتراض جو مغربی ذرائع عوامی جمہوری کوریا کے خلاف کر رہے ہیں وہ اس کا یہ اعلان ہے کہ دونوں ریاستیں حالت جنگ میں ہیں۔ عوامی جمہوریہ کوریا کا مؤقف بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے کہ عبوری معاہدہ Armistice Agraement سے حالت جنگ برقرار رہتی ہے جبکہ جنگ کا خاتمہ حقیقی صلح نامے کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ یاد رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین صلح نامہ نہیں صرف جنگ بندی کا معاہدہ Armistice ہوا تھا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.