.

ایک اور 9/11۔۔۔۔!

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک تازہ خبر کے مطابق امریکا کے ایک ٹاﺅن میں فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ایک اپارٹمنٹ میں دو افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ،پولیس کے پہنچنے تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔زخمیوں میں خاتون بھی شامل تھی۔ 1970سے اب تک امریکا میں دہشت گردی کے واقعات میں 3,000 لوگ مارے گئے جبکہ 1980 سے اب تک فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 900,000 تک پہنچ چکی ہے۔امریکا میںدہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آ جائے، ردعمل میںکئی ملک تباہ کر دئیے جاتے ہیں۔ اب تک فائرنگ کے لاکھوں واقعات پیش آچکے ہیں مگرگن کنٹرول کا بِل منظور ہوسکا اور نہ ہی امریکا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر قابو پایا جا سکا۔غیر مسلم خواہ درجنوں انسان قتل کر دے،کرائم کہلاتا ہے اور مسلمان خواہ ایک بندہ ماردے،سنگین دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے ۔ بے گناہوں کو مارنے والے کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا ۔ان جنونیوں کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔

بوسٹن میں دھماکوں میں نام نہاد مسلمان ملوث پائے گئے لہذا امریکا کی سرزمین پر ایک سنگین واقعہ قرار پایا جبکہ انہی دنوں امریکا کی جنوبی ریاست ٹیکساس میں کھاد کی ایک فیکٹری میں آتشزدگی کا ہولناک سانحہ بھی پیش آیا ۔آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک، 160 سے زائد افراد زخمی اور 80 مکانات تباہ ہو گئے جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ انہیں ملبے سے مزید لاشیں برآمد ہونے کا ندیشہ ہے لیکن بوسٹن واقعہ کی وجہ سے آتشزدگی کے ہولناک واقعہ کو کوریج نہ مل سکی۔ بوسٹن دھماکوں کے دو رز بعد آتشزدگی کا یہ المناک واقعہ پیش آیا مگر امریکی میڈیا نے اس واقعہ کو پس پشت ڈال دیا ۔آتشزدگی کا واقعہ بوسٹن دھماکوں میں دب کر رہ گیا۔حالیہ فائرنگ میں مارے جانے والے پانچ افراد کا واقعہ بھی منظر عام پر نہیں لایا گیا کیوں کہ ملک بھر کے میڈیا اور انتظامیہ کی تمام تر توجہ ہسپتال میں پڑا وہ لڑکا ہے جس پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

انیس سالہ جوہر سرنایئو پر گزشتہ ہفتے بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث ہونے کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اگر جرم ثابت ہو گیا تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ ملزم پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ملزم زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا جبکہ اس کا بڑا بھائی پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے۔بوسٹن بم دھماکوں کا واقعہ امریکا کی تاریخ کا اور ایک نائن الیون تصور کیا جا رہاہے۔ ملزمان دو سگے بھائی ہیں جن کا تعلق چیچنیا سے ہے۔امریکا جیسی محفوظ سپر پاور میں آئے روز بم دھماکے اور فائرنگ تشویشناک صورتحال اختیار کرچکی ہے۔

امریکا کے خفیہ ادارے اورسکیورٹی انتظامات عوام کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ صدر اوباما نے بوسٹن بم دھماکوں کو امریکی سرزمین پر بدترین دھماکہ قرار دیا کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر منعقد کئے جانے والا ہزاروں انسانوں کا جشن چیخ وپکار اور آہ و بکا میں تبدیل ہو گیا۔دو نوجوان لڑکوں نے پورے شہر کی سکیورٹی کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔ہفتہ بھر جاری رہنے والی اس سنسنی خیز فلم کا اختتام انیس سالہ نوجوان کی گرفتاری کے ساتھ ہوا۔امریکا کو ایک اور نائن الیون کا سامنا گیارہ سال بعد کرنا پڑا جبکہ اس کی انتہاءپسند پالیسوں کی وجہ سے پوری دنیا نائن الیون کی لپیٹ میں ہے۔بوسٹن حملوں سے امریکا میں مقیم آٹھ ملین مسلمان ایک بار پھر تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ہیٹ کرائمز کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

اپریل کا مہینہ امریکا کے لئے المیوں کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے۔19اپریل 1993کو ٹیکساس میں ایک مذہبی کمپاﺅنڈ کا محاصرہ کیا گیا اور اس کے نتیجے میںلگنے والی آگ سے ایک انتہاءپسند مذہبی فرقے کے اسّی افراد ہلاک ہوگئے۔19اپریل 1995 میںایک تباہ کن ٹرک اوکلا ہوما شہر میں ایک وفاقی عمارت سے جا ٹکرایا۔دہشت گردی کے اس واقعہ میں 168افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔سابق امریکی سپاہی ٹِمتی کو اس حملے کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے 2001 میں سزائے موت دی گئی۔ انیس اپریل کا دن تھا جب 1775 میں امریکی انقلاب کے لئے پہلی بار گولیاں چلائی گئیں۔اپریل میں ہی ریاست کولو ریڈو کے ہائی سکول میں گولیاں چلائی گئیں اور اب اپریل2013 میں بوسٹن میں میراتھن مقابلہ کے شرکاء پر دھماکے ہوئے۔ بوسٹن دھماکوں کی وجہ سے ایک بار پھر امریکا میں دہشت گردی کے امکانات اور خطرات کے بارے میں سوالات و خدشات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔بوسٹن میں ہونے والے دھماکوں کے پس پشت وجوہات سامنے نہیں آسکیں ۔بظاہر واقعہ تعصبانہ رویہ کا ردعمل معلوم ہوتا ہے۔

دونوں بھائیوں کی تعلیمی سر گرمیوں پر نظر ڈالی جائے توبہترین سپورٹس مین تھے اور دھماکے بھی اس مقام پر کئے گئے جہاں کھیل کا میدان سجا ہوا تھا۔ بوسٹن تعلیمی اداروں کا مرکز ہے اوراس شہر میں غیر ملکی سٹوڈنٹس کی اکثریت مقیم ہے۔ کھیل اور تعلیم کے میدان میں حسد اور تعصبانہ رویہ کبھی کبھار انتقام کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کے پس پشت بھی غم و غصہ کا عنصر معلوم ہوتا ہے ۔مگر لگتا یہی ہے کہ امریکا کے خفیہ ادارے اس واقعہ کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسوب کر دیں گے۔ اس واقعہ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.