.

بات نکلی ہے تو اب دور تلک لے جاؤ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ تین دن سے جنوبی کوریا میں ہوں۔ پلڈاٹ کے زیراہتمام اس نورکنی وفد کا حصہ ہوں جوڈکٹیٹرشپ سے جمہوریت اور ترقی کی جانب جنوبی کوریا کے سفر کا مطالعہ کرنے یہاں کے دورے پر ہے ۔ ہمارے وفد میں دو ریٹائرڈ جرنیل، دو سابق گورنرز ، دو سینیٹرز اور دو صحافی (غازی صلاح الدین اور میں) شامل ہیں۔ جنرل (ر) معین الدین حیدر کے اشعار اور طنز بھرے جبکہ غازی صلاح الدین کے ادبی اور فلسفیانہ مزاح کی وجہ سے سفر کا مزہ دوبالا ہوگیا ہے ۔ ہمہ وقت تینوں طبقات (سیاستدان، جرنیل اور جرنلسٹس ) کا ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جنرل معین الدین حیدر اور جنرل ہمایوں بنگش کے مقابلے میں چونکہ ہم صحافیوں اور سیاستدانوں کا غیراعلانیہ اتحاد تھا ، اس لئے عموماً توپوں کا رخ فوج ہی کی طرف ہوتاتھا لیکن گزشتہ روز جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کی بلڈنگ سے نکل کر جب ہم ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے تو آسیہ ریاض صاحبہ کو ٹویٹر پر ایک ایسی خبر موصول ہوئی جس کی وجہ سے توپوں کا رخ میڈیا کی طرف ہوگیا اور پہلی مرتبہ میڈیا کے خلاف جرنیل ، سیاستدان اور دانشور یک جان تین قالب نظر آئے۔ خبر تھی کہ سپریم کورٹ میں وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ کی تفصیلات عام کردی گئی ہیں ۔ ہمیں تو مبارک باد دی گئی کہ فہرست میں میرا اور غازی صلاح الدین کا نام نہیں ہے لیکن اس میں بعض ناموں نے ہمارے وفدکے دیگر ارکان کو حیران اور مجھے پریشان کردیا۔ بلاشبہ وہاں چند ننگ صحافت قسم کے لوگوں کے بھی نام تھے لیکن حیرت انگیز طور پر وہاں سہیل وڑائچ، روف کلاسرا، نصرت جاوید اور فریحہ ادریس جیسے وہ لوگ جن پر صحافت بجا طور پر فخر کرسکتی ہے کے نام بھی اسی فہرست میں شامل کردیئے گئے تھے ۔

باقی لوگ تو فہرست میں درج نمایاں نام دیکھ کر محظوظ ہونے کے بعد معمول کی مصروفیات میں مصروف ہوگئے لیکن اپنا تو سر شرم سے جھک گیا اور سیدھا تفصیل معلوم کرنے ہوٹل کے کمرے میں چلا گیا۔ انٹرنیٹ پر تفصیل دیکھی تو معلوم ہوا کہ سہیل وڑائچ کا نام اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ وہ کسی پروگرام کے لئے اسلام آباد مدعو کئے گئے تھے اور ہوٹل کا ایک رات کا خرچہ حکومت نے اسی فنڈ سے ادا کیا تھا۔ باقی تینوں کے نام وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے ساتھ لندن کے ایک دورے کے ضمن میں ڈالے گئے ہیں ۔ یہ وہ دورہ تھا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گیلانی صاحب کررہے تھے ۔ جس میں مجھے بھی دعوت دی گئی تھی اور جس کا حصہ بننے سے میں نے معذرت کی تھی اور مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ نصرت جاوید اور فریحہ ادریس نے بھی جانے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ جو لوگ گئے انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اس وقت بھی یہ دورہ ٹی وی ٹاک شوز کا موضوع بن گیا۔ میں چونکہ انکار کرنے والوں میں شامل تھا اس لئے کم وبیش ہر ٹاک شو میں مجھے بھی بولنا پڑا اور ہر جگہ یہ موقف اختیار کرتا رہا کہ میں نے خود نہ جانے کا فیصلہ کیا لیکن جو لوگ گئے ہیں انہوں نے کوئی جرم نہیں کی۔


اب سوال یہ ہے کہ ان چار بڑے اور نامور صحافیوں کو جس طرح بدنام کیا گیا اور جس طرح ان کے نام بھی ضمیر فروشوں کی فہرست میں شامل کئے گئے تو اس کی تلافی کون اور کیسے کرے گا؟ یہ کہاں کا نظام انصاف ہے کہ جس میں کروڑوں اور لاکھوں روپے ضمیرفروشی کے عوض وصول کرنے والوں کی فہرست میں یہ چار نام بھی شامل ہوگئے حالانکہ وہ(اللہ نہ کرے) بکنا چاہتے تو ان کی قیمت کروڑوں میں لگ سکتی تھی ۔ اب جبکہ الیکشن کا دور ہے اور ہونا یہ چاہئے تھا کہ اہل صحافت اس کے ایک ایک مرحلے کی خبر دیتے ، لیتے اور اس پر تبصرہ کرتے، بے چارے اپنی صفائیاں پیش کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کاش یہ پنڈورا باکس الیکشن سے قبل یا اس کے بعد کھل جاتا لیکن بات نکلی ہے تو اب دور تلک جانی چاہئے ۔ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا چاہئے ۔ اب اہل صحافت میں کھوٹے اور کھرے کی تقسیم واضح ہوجانی چاہئے ۔ اب ہر قسم کے خفیہ فنڈز کا سراغ لگاکر معلوم کرنا چاہئے کہ کس کس میڈیا گروپ اور کس کس فرد میں وہ کس طرح تقسیم ہوتے ہیں ۔ یہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان کا امتحان ہے ۔ اب اگر یہ معاملہ منطقی انجام تک نہ پہنچا تو سہیل وڑائچ،روف کلاسرا، نصرت جاوید اور فریحہ ادریس جیسوں کے ساتھ ظلم ہوگا اور اس ظلم میں وہ ادارہ بھی شریک تصور ہوگا جو دادرسی کے لئے مظلوموں کی آخری امید ہے۔ سوال یہ ہے کہ صرف ایک سال کا حساب کیوں سامنے لایاگیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پرویز مشرف اور میاں نوازشریف کے ادوار کے سیکرٹ فنڈز کا حساب بھی سامنے رکھ دیا جائے لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم پیپلزپارٹی کے پورے پانچ سال کا حساب تو سامنے لاکر رکھ دیا جائے۔ خفیہ فنڈز سب سے زیادہ خفیہ اداروں کے پاس ہوتے ہیں، ان طاقتور اداروں سے بھی حساب لیا جائے کہ پچھلے سالوں میں کس کس ادارے اورصحافی کو خفیہ اداروں کے خفیہ فنڈز سے نوازا گیا اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوگی کہ اگر سیکرٹ فنڈز کے اصل مراکز سے باز پرس ممکن نہیں تھی تو پھر اس پنڈورا باکس کو کھول کر مرنے والے صحافیوں کی غریب بیواؤں کو ذلیل کرنے کا کیا جواز تھا؟ معاملہ صرف بکنے کا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کس حیثیت کا آدمی بکا ہے۔

ظاہر ہے ایک عام رپورٹر کے بکنے اور ایک اینکر یا قومی سطح کے کالم نگار کے بکنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے پھر ان کے اور مالکان کے مابین زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ایک رپورٹر بیچارہ بک کر بھی کسی کا کیا بگاڑسکتا ہے ۔ وہ رپورٹر جو زندگی کو داؤ پر لگا کر کام کررہا ہے اور جس کو چند ہزار ماہانہ تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی ، اگر سرکار کے خرچے پر ہوٹل میں ٹھہرا یا کسی جگہ دورے پر گیا تو اس نے کونسا جرم کیا؟ ہم جیسے ان لوگوں کا جرم اس عام رپورٹر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سنگین ہے جو لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں پھر ہمارے مقابلے میں ان مالکان کا جرم کئی گنا زیادہ سنگین ہے جو اربوں کے مالک ہیں اور کروڑوں میں کمارہے ہیں۔ مالک بک جائے تو پورا اخبار یا چینل بک جاتا ہے لیکن رپورٹر یا اینکر بک جانے کے بعد بھی واردات کے لئے مالک اور ایڈیٹر کا محتاج ہوتا ہے۔ یوں اس بڑی سطح پر تحقیق اور کرید کی ضرورت ہے ۔ خصوصی گرانٹوں کا معاملہ ایک طرف ہے، اس وقت تو سب سے بڑی رشوت اشتہار ہے چنانچہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس کو کتنا اشتہار اس کے استحقاق سے زیادہ ملا ہے ۔ اسی طرح میڈیا کے بعض لوگوں نے مال کمانے اور مقتدر طبقات نے انہیں نوازنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرلئے ہیں ۔ کوئی سائیڈ بزنس کررہا ہے تو کسی نے کوئی دوسرا دھندہ شروع کررکھا ہے ۔ میڈیا سے ہٹ کر چلنے والے اس کاروبار یا دھندے کو حکومت یا ایجنسیاں سپورٹ کرتی ہیں اور یوں یہ لین دین جاری رہتا ہے۔ یوں ان اصل معاملات کو بھی طشت ازبام کرنا ضروری ہے ۔ یہ اتنے گمبھیر معاملات ہیں کہ شاید تحقیق میں کئی سال لگ جائیں ۔ اس لئے ایک آسان طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر مالک، ہر ایڈیٹر، ہر کالم نگار ،ہر اینکرپرسن اور معروف رپورٹروں کے اثاثوں کی تفصیل نیب سے حاصل کی جائے ۔ اگر اثاثے آمدن سے موافق ہیں تو ٹھیک، نہیں تو اس کو دھر لیا جائے۔ ہم سب کی تنخواہیں بینک کے ذریعے آتی ہیں۔ جس نے جس ادارے کے ساتھ کام کیا ہے یا کررہا ہے ان سے اس کی تفصیل معلوم کی جاسکتی ہے۔ اب جس کی آمدن ان معلوم ذرائع سے تجاوز کرگئی ہے اس سے خودبخود ثابت ہوجائے گا کہ وہ کسی دو نمبری میں ملوث ہے ۔

ہماری عدالتوں میں بیٹھے ہوئے منصفوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ان کا کام تحقیقاتی ایجنسی اور میڈیا سے مختلف ہے ۔ وہ صرف رپورٹیں شائع کرکے بری الذمہ نہیں ہوجاتے ۔ ان کا کام سزا اور جزا کا فیصلہ کرنا ہے ۔ اس لئے اب اس معاملے میں لینے والے اور دینے والے دونوں کی سزا کا تعین بھی ہونا چاہئے تاکہ ہر صحافی کو لوگ ضمیر فروش نہ سمجھیں اور اس پیشے کا وقار بحال ہو سکے۔بات نکلی ہے تو اللہ کے واسطے اب اسے دور تلک لے ہی جاؤ۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.