خواب یا حقیقت

شاہین صہبائی
شاہین صہبائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسکائپ پر اپنے ساتھی اکرام ہوتی سے بات کر رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ ایک اور دوست بھی ہماری اس بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے اور وہ صاحب سلام کر کے شام ہو گئے۔ نہ اپنا نام بتایا نہ یہ کہ وہ کیا کام کرتے ہیں، اشاروں میں کہا کہ وہ ایک بہت اہم شخصیت ہیں، بڑے بڑے لوگوں سے ملتے ہیں، بڑے بڑے مشن جو ملک کے اندر اور بیرون ملک ہوتے ہیں ان کو دیئے جاتے ہیں۔ ملکی سیاست اور طاقت کے کھیل میں پوری طرح ملوث ہیں اور بڑی بڑی پیش گوئیاں کرنے سے نہیں کتراتے۔ فرمانے لگے اگلے چند دن اور انتخابات کی تاریخ سے پہلے بہت سی چیزیں طے ہونا باقی ہیں کچھ فیصلے ہو گئے ہیں اور باقی آج کل میں ہو جائیں گے ورنہ بڑی تباہی ہو گی۔ کہنے لگے جو بات چیت امریکہ سے اس کی فوج اور سازوسامان کی واپسی کے حوالے سے ہو رہی ہے وہ انتہائی اہم ہے اور اس کے اس الیکشن پر بھی گہرے اثرات ہوں گے جنرل کیلی نے جان کیری سے جو گھنٹوں باتیں طے کی ہیں وہ فوج کو پوری کرنی ہوں گی اور اس کام کیلئے فوجی اور سیاسی قیادت کا ایک صفحے پر ہونا ضروری ہے۔ یہ بات چیت کوئی گھنٹہ بھر چلتی رہی اور میں اور اکرام ہوتی دونوں ان سے سوالات کرتے رہے۔ لب لباب یہ نکلا کہ ہر ایک کے مفاد میں ہے کہ صدر زرداری کو ایک اور ٹرم کیلئے جتوانا ضروری ہو گا کیونکہ فوجی قیادت اور خاص کر جنرل کیانی اور امریکی قیادت ان سے بہت خوش ہیں خود جنرل کیانی کو بھی کم از کم ایک یا دو سال فوج کا سربراہ رہنا ہو گا تاکہ امریکی اسلحہ اور نازک ترین جنگی زرہ بکتر پاکستان کے راستے بخیروخوبی واپس جاسکے۔ گو سیاسی قیادت کے اہم ستون اس بات سے متفق ہیں کہ امریکہ کو واپسی کا راستہ دینا پاکستان کے مفاد میں ہے مگر نواز شریف، عمران خان اور چیف جسٹس افتخار چوہدری ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں نواز شریف زرداری کو پانچ سال مزید دینے پر تیار نہیں۔ عمران خان ابھی سیاسی اور ڈپلومیسی کے پیچ وخم سے ناواقف ہیں اس لئے انہیں پوری بات کھل کر نہیں بتائی جا سکتی۔

چیف صاحب سے رابطے کئے گئے لیکن زیادہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ زرداری خاموشی سے اور بڑے مطمئن بیٹھے ہیں کہ ان کا کھیل اور ان کے مفادات کو دوسرے لوگ آگے بڑھا رہے ہیں ان سب معاملات کیلئے اب وقت بالکل نہیں رہا کیونکہ الیکشن کی تاریخ سر پر ہے لہٰذا ہر طرف ایک طرح کا Panic پھیل رہا ہے۔ جنرل مشرف کو بھی اس کھچڑی میں اتارا گیا کہ چیف صاحب اور دوسروں پر دباؤ بڑھایا جائے پہلے طاہر القادری کا پتّا کھیلا گیا مگر زرداری اور نواز شریف نے مل کر ان کی تجاویز کو بس کاغذوں کی حد تک اور میڈیا میں شور شرابے تک محدود کر کے رکھ دیا۔ ساری 63/62 کی چھلنیاں بیکار کر دی گئیں کیونکہ فخرو بھائی نے الیکشن کمیشن کو ناکارہ بنا کر وہ کچھ کر دکھایا جس کے لئے دو سال پہلے پلاننگ کی گئی تھی۔ نواز شریف کو خفیہ بات چیت سے اور بیرون ملک دوروں میں کافی حد تک بات سمجھائی گئی مگر پوری طرح ابھی وہ اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ یہی مسئلہ چیف صاحب کا بھی ہے اور وہ بھی باتوں میں آسانی سے نہیں آرہے۔ سو اب کیا کیا جانا چاہئے عمران خان کے نزدیک کچھ لوگ لوپ (Loop) میں ہیں مگر سب ڈرتے ہیں۔ اس بند گلی میں پھنس جانے کے بعد اب کون کون سے آپشن رہ گئے ہیں۔ وہ صاحب فرمانے لگے اس سوموار کو شروع ہونے والا ہفتہ انتہائی اہم ہے اگر معاملات پر بات نہ بنی تو پھر یہ جو چھوٹے چھوٹے دھماکے ہو رہے ہیں اور کہیں پانچ اور کہیں دس گیارہ لوگ مارے جا رہے ہیں یہ فلم کا ٹریلر بن جائے گا اور پھر اصلی کام کرنا پڑے گا یعنی کوئی بڑی خبر بن سکتی ہے ایک آدھ حملہ بینظیر کی طرز کا ہو سکتا ہے اور ٹارگٹ پر تین بڑے ہی ہو سکتے ہیں یعنی میاں نواز شریف، عمران خان یا چیف صاحب۔ جنرل مشرف بھی ایک سائیڈ شو لگا سکتے ہیں اور اس لئے انہیں فوری طور پر شہری علاقے سے نکال کر کسی محفوظ مقام جیسے اٹک یا عمر کوٹ کا قلعے میں لے جانا ضروری ہے اگر معاملات طے پا گئے تو مشرف صاحب کو اپنی والدہ کی عیادت کیلئے جانے کی اجازت مل سکتی ہے اگر الیکشن نہ رکوائے جا سکے تو نتائج کچھ اس طرح کے آئیں گے کہ کوئی بھی ڈرائیونگ سیٹ پر نہ بیٹھ سکے اور ان لوگوں کی ملی بھگت سے حکومت بنائی جائے جو راہ راست پر چلتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا ان توڑ جوڑ کے ماہر صاحب نے کہ فوج اب تک جس خول میں بند تھی وہ خول ٹوٹ چکا ہے اور یہ احکامات بھی دیئے گئے ہیں کہ فوجی افسران اب کسی غیرفوجی نمبر کی کال وصول نہ کریں خاص کر ایک اونچے عہدے سے اوپر کے اعلیٰ افسران۔

یہ ساری کہانیاں اور دعوے اور Fantasy land یعنی تخیل کی اونچی اونچی پروازوں کا احوال سن کر میری کئی دفعہ ہنسی نکل گئی اور بار بار گھما گھما کر پوچھا کہ حضرت جو فوج اور جو ایجنسیاں بقول شیخ رشید صاحب کے ستو پی کر پانچ سال تک اونگھتی یا سوتی رہیں اور لوگ اربوں اور کھربوں کا ملکی مال ومتاع لوٹ کر باہر کے ملکوں میں جمع کر آئے اور اپنی اور اپنے پورے خاندانوں کیلئے گھروں اور کاروبار کا انتظام کر کے اب سائیڈ پر بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں اور چند گھنٹوں یا منٹوں کے نوٹس پر اپنے پرائیویٹ جیٹ جہازوں میں فرار ہو جائینگے۔ وہ فوجی صاحبان چند دنوں میں یعنی11 مئی تک اتنے بڑے بڑے پہاڑ جیسے معرے کیسے سر کر لیں گے وہ تو اپنی بڑی بڑی تنصیبات کو بھی بچانے سے قاصر نظر آتے ہیں اور اتنے بے بس لگتے ہیں جیسے وہ کبھی ملکی اقتدار کے مالک رہے ہی نہ ہوں۔ ان تیز وتند سوالات کے جواب میں یہ حضرت بار بار فرماتے رہے کہ یہ ہفتہ انتہائی اہم ہے اور جو بات چیت ہو رہی ہے وہ کسی نتیجے پر اگر نہ پہنچ سکی تو بہت گڑ بڑ ہو گی یا کھڑی کردی جائے گی کیونکہ اب Stakes بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور حالات کو قابو میں رکھنا اور ملک اور سیاست کی سمت درست رکھنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ جوش خطابت میں یہ بھی فرمایا کہ فوجی افسروں کی آواز اب میڈیا اور بیرکوں سے باہر بھی سنائی دے گی۔ بار بار دہرایا کہ اس ہفتے کو آخری ہفتہ ہی سمجھیں۔

اکرام ہوتی صاحب اسلام آباد میں کچھ بیمار رہتے ہیں مگر خبریں پتے کی لے آتے ہیں ان سے پوچھا کہ بھائی یہ صاحب کون ہیں اور کیا فرماتے ہیں اور کتنا وزن ان کی باتوں میں، بولے میں نے کئی خبریں پہلے دی ہیں اور ان کی انہی صاحب نے تصدیق کی تھی۔ باتوں سے مجھے کوئی چلتا پرزہ لگے مگر زیادہ معلومات نہ مل سکی۔ کئی دفعہ کہا کہ وہ بیرون ملک حکمرانوں سے مل چکے ہیں اور پیغام رسانی بھی کی ہے۔ ان کی باتیں سن کر ایک طرح سکتا سا ہو گیا کہ کیا واقعی ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور کیا معاملات اتنے بھی بگڑ سکتے ہیں۔ کچھ باتیں تو غور طلب ضرور تھیں مثلاً یہ کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کو امریکی انخلاء کیلئے ایک جامع پالیسی تو بنانی پڑے گی اور مل کر ان سب حملوں کو روکنا پڑیگا جو اس انخلا میں رکاوٹ ڈال سکیں مگر یہ تو کوئی خفیہ بات نہیں ہے یہ بھی سمجھ میں آیا کہ اگر جان کیری جنرل کیانی سے معاملات طے کر چکے ہیں اور زرداری صاحب کو کوئی اعتراض نہیں تو امریکہ بہت خوش ہو گا اگر یہ دونوں حضرات ایک دو سال خود موجود رہیں اور امریکی کام ہو جائے۔ مگر پاکستانی قوم نے اگر نواز شریف کو پھر ایک1997ء کی طرح کا مینڈیٹ دے دیا یا اگر عمران خان کی سونامی نے سیاست کا رخ موڑ دیا تو پھر کیا ہو گا۔ یہ بڑے بڑے سوالات کا جواب ابھی ملنا ہی تھا کہ کسی نے میرے کندھے پر زور زور سے ہاتھ مار کر کہا ”کیا دن میں بھی خواب دیکھنا شروع کر دیئے“ اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں