ساؤتھ ایشیا اسٹرٹیجک لیڈرشپ سمٹ

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گزشتہ دنوں کراچی میں”نٹ شیل فورم“ اور انڈیا پاکستان چیمبر کے تعاون سے دو روزہ ”ساؤتھ ایشیاء اسٹریٹجک لیڈرشپ کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں جنوبی ایشیاء کے ممتاز کارپوریٹ رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کا عنوان ”تبدیلی کیلئے تعاون“ تھا۔ کانفرنس کے 8 مختلف اجلاسوں میں جنوبی ایشیاء کے معروف معیشت دانوں، کارپوریٹ اداروں کے سربراہوں اور ماہرین نے جنوبی ایشیاء میں سیاسی، سفارتی، ثقافتی، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مجھے اس کانفرنس میں ”علاقائی تجارت کو درپیش چیلنج اور مواقع“ کے موضوع پر بطور مقرر مدعو کیا گیا تھا۔ میرے علاوہ دیگر مقررین میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، سائنس و ٹیکنالوجی کے سابق وزیر ڈاکٹر عطاء الرحمن، انڈیا پاکستان چیمبر کے صدر ایس ایم منیر، اے پی این ایس کے صدر اور جنگ گروپ کے ڈائریکٹر سرمد علی، ایف بی آر کے سینئر ممبر اسرار رؤف، جاوید جبار، شمس لاکھا، آصف جمہ، محمد علی ٹبا، طاہر خان، شبر زیدی، عارف حبیب، سراج الدین عزیز، شاہ رخ حسن، امین ہاشوانی، بھارت میں پاکستان کے اکنامک منسٹر نعیم انور، انڈیا کے معروف گروپ مہاندرا مہاندرا کے صدر راجیو دوبے، ہاورڈ بزنس اسکول کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجلی ریانا، وطین کے اسد رضوی، سیمنز کے سربراہ گونتر ژوکی، شرمین عبید چنائے، طاہر اے خان، مسعود ہاشمی، ڈاکٹر ادیب رضوی، زلاف منیر، چیئرمین امریتس اروند اندا اور ورلڈ بینک کے انرجی اسپیشلسٹ زید الاحداد جیسی معروف شخصیات شامل تھیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کے تجارتی و صنعتی ادارے، سرکاری محکموں اور کارپوریشنوں سے زیادہ قابل اعتباراورفعال ہیں اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔توانائی کے بحران نے تجارت و صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے، بجلی اور گیس کی قلت سے ملکی معیشت کی افزائش 2% سالانہ کم رہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہائیڈل بجلی کی پیداوار 31% فیصد، گیس سے 21% اور فرنس آئل سے 45% ہے جس سے کئی مسائل نے جنم لیا ہے۔ جامع اور موثر منصوبہ بندی کے فقدان ، لائن لاسز اور کرپشن نے صورتحال کوخراب بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں ہائیڈرو اور متبادل انرجی سے بجلی کے حصول کے منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں 19سال سے کم عمر نوجوانوں کی تعداد10 کروڑ سے زیادہ ہے جو ہمارا اصل اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف اعلیٰ تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ ہی کی بدولت ترقی کر سکتا ہے۔

راجیو دوبے نے چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے اس خطے میں قائدانہ صلاحیتوں کے مالک افراد کی ضرورت اور ناکامیوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انکے مطابق قیادت ایسی ہو جو معمول کے کام کرنے کے بجائے اصلاحات اور تبدیلیاں لا سکے۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی خوشگوار تعلقات اور تجارت کے فروغ سے جنوبی ایشیاء میں استحکام آئے گا۔ جاوید جبار کے مطابق جنوبی ایشیا کا اہم مسئلہ کرپشن، دہشت گردی اور بدامنی ہے۔ اظفر احسن نے بتایا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مثبت سے زیادہ منفی رجحان مثلاً غربت میں اضافہ، آلودگی اور غیر محفوظ زندگی قابل غور اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماحول میں ملک کے کاروباری طبقے کا کردار بہت اہم ہے۔ ایف بی آر کے سینئر ممبر اسرار رؤف نے بتایا کہ ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہوگا اور غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل میں لانا ہوگا تاکہ ہمیں قرضوں سے نجات مل سکے۔ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 9.5% ہے جسے آئندہ چند سالوں میں بڑھاکر 15% تک لانے کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جنوبی ایشیاء میں دنیا میں سب سے زیادہ غربت پائی جاتی ہے اور یہاں 500 ملین سے زیادہ افراد کی صرف 1.25 ڈالر یومیہ آمدنی ہے لیکن اس خطے نے گزشتہ 20 سالوں کے دوران اچھی معاشی گروتھ اوسطاً 6% سالانہ حاصل کی جس کی وجہ سے خطے میں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے اور مڈل کلاس طبقہ اوپر آیا ہے۔

میں نے شرکاء کو بتایا کہ دنیا کا سب سے کامیاب تجارتی ماڈل علاقائی تجارت ہے، نافٹا کے رکن ممالک کے مابین تجارت 60%، یورپی یونین ممالک میں53% اور آسیان ممالک کے مابین تجارت 26%فیصد ہے جبکہ ہمارے جنوب ایشیائی بلاک سارک ممالک کے مابین تجارت صرف 5%ہے جس کی اہم وجہ خطے کے دو اہم ممالک بھارت اور پاکستان میں سیاسی اور سفارتی تنازعات ہیں جس کے باعث سارک ممالک کے خطے کی باہمی تجارت دنیا کے دیگر خطوں کی تجارت کے مقابلے میں فروغ نہیں پاسکی،ہمیں سارک ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مابین حائل رکاوٹوں اور NTBs کو ختم کرکے خطے کی علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہوگا جس کا اس خطے میں بے انتہا پوٹینشل موجود ہے۔

میں نے کانفرنس کے شرکاء کو انڈیا اور پاکستان میں آزاد تجارت کے فروغ کیلئے دونوں ممالک کی حکومتوں اور پرائیویٹ سیکٹر کی کوششوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ امریکی سرمایہ کاروں کی چین میں خطیر سرمایہ کاری کے دباؤ کے پیش نظر امریکی حکومت چین کے خلاف کوئی جارحانہ پالیسی اختیار نہیں کرسکتی۔ اسی طرح جب بھارت اور پاکستان میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھے گی تو دونوں ممالک اپنے اسٹیک ہولڈرز کے مفاد میں اپنے تنازعات باہمی رضامندی سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں نے کانفرنس میں شریک جنوبی ایشیاء کے ممتاز کارپوریٹ رہنماؤں کو بتایا کہ ہمیں ایک دوسرے کو مدمقابل سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرکے اپنی تجارت کو فروغ دینا ہوگا جس کیلئے میں نے جوائنٹ مارکیٹنگ نیٹ ورک کے ماڈل کی مثال دی۔ میں نے اس حوالے سے انہیں بتایا کہ ماضی میں چین کاٹن یارن میں پاکستان کا سب سے بڑا مدمقابل تھا لیکن آج چین پاکستان سے کاٹن یارن کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اب چین اپنی گارمنٹس بنانے کیلئے پاکستان سے ڈینم اور گرے فیبرک خرید رہا ہے۔

چین اپنی پیداواری لاگت بالخصوص اجرتوں میں 20% سالانہ اضافے کے باعث آئندہ 4 سے 5 سالوں میں غیر مقابلاتی ہوجائے گا جس سے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کو چین کی 200 بلین ڈالر سے زائد ٹیکسٹائل مارکیٹ کا حصہ مل سکتا ہے۔ جاپان اور کوریا بھی ماضی میں دنیا میں ٹیکسٹائل کے بڑے ایکسپورٹروں میں شمار کئے جاتے تھے لیکن اجرتوں میں اضافے اور پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے ان کی ٹیکسٹائل صنعت آہستہ آہستہ ختم ہوگئی اور اب یہ ممالک ہائی ٹیکنالوجی انڈسٹریز میں دنیا کے ممتاز ایکسپورٹر شمار کئے جاتے ہیں۔ میں نے خطے کے ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو مشورہ دیا کہ وہ چائنا کی برآمدی مارکیٹ کے حصول کیلئے اپنی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آزادانہ تجارت میں مقامی صنعت کے تحفظات محض فوبیا ہیں کیونکہ اگر کسی اشیاء کی درآمد سے مقامی صنعت پر منفی اثر پڑتا ہے تو سافٹا معاہدے کے تحت حکومت کو ان اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کا اختیار حاصل ہے جیسے حال ہی میں ہمارے برادر اسلامی ملک ترکی نے اپنی مقامی صنعت کو تحفظ دینے کیلئے پاکستان کے فیبرک کی امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی 6% سے بڑھاکر 24% کردی ہے۔ میں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ بھارت اور چین میں تجارت کھولنے پر بھارت کی مقامی صنعت کو بے انتہا تحفظات تھے لیکن آج بھارت اور چین میں باہمی تجارت 65 بلین ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے اور اس کی وجہ سے بھارت میں کوئی صنعت بند نہیں ہوئی لہٰذاہمیں اپنی صنعتوں کو مقابلاتی بناکر اور سرحدوں کو کھول کر علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہوگا جو آنے والے وقت کا تقاضا ہے۔ میں نے اپنی تقریر کے آخر میں انڈیا پاکستان چیمبر کے صدر ایس ایم منیر کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ ”جنگ تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دیتی جسے امن اور محبت سے شکست دی جاسکتی ہے“۔ مستقبل میں وہی ممالک ترقی کریں گے جن کی اولین ترجیح معیشت ہوگی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں