.

پرتشدد انتخابات

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پلڈاٹ کے زیراہتمام جنوبی کوریا کے مطالعاتی دورے سے واپس پاکستان پہنچا۔ ایئرپورٹ سے نکلا اور موبائل فون آن کیا تو پہلا فون تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا آیا۔ میں نے ازراہ مذاق ان سے پوچھا کہ آپ میری جاسوسی تو نہیں کر رہے ہیں۔ کہنے لگے ایئرپورٹ پر ہمارا ایک بندہ موجود تھا‘ اس نے آپ کو دیکھ لیا اور فون کر کے مجھے اطلاع دی کہ سلیم صافی واپس پہنچ گیا یا تو وہ مذاق کر رہے تھے اور یا واقعی ان کے بندے ایئرپورٹوں تک پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ پھر انہوں نے اس دن کی اپنی کارکردگی بیان کی اور اطلاع دی کہ ابھی تھوڑی دیر قبل کراچی میں اے این پی کے رہنما بشیرجان کی کارنر میٹنگ میں ان کے لوگوں نے دھماکہ کیا۔ گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ بشیر جان تو محفوظ رہے لیکن دوسروں کے علاوہ اس دھماکے میں مفتی نظام الدین شامزئی مرحوم کے سگے اور بڑے بھائی بھی لقمہ اجل بن گئے۔

میں نے مفتی شامزئی مرحوم کے صاحبزادے اور اپنے دوست سلیم الدین شامزئی سے فون پر بات کی تو انہوں نے بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ خبر کی تصدیق کی۔ اگلے دن مفتی نظام الدین شامزئی مرحوم کے بڑے صاحبزادے تقی الدین شامزئی کی کال آئی، وہ بتارہے تھے کہ دھماکے کے زخمیوں کا اسپتال میں کوئی پرسان حال نہیں اور حکومت کی طرف سے مفت تو دور کی بات‘ ذاتی خرچے پر بھی ان کا صحیح علاج نہیں ہورہا ۔یہ صرف ایک دھماکے کا حال ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب جب میں یہ کالم تحریر کررہا ہوں‘ تو ملک کے مختلف حصوں میں نصف درجن سے زائد دھماکے ہو چکے ہیں ۔ای میل چیک کی تو دیگر میلز کے علاوہ ایک ای میل افغان طالبان کی طرف سے موصول ہوئی تھی اور ایک پاکستانی طالبان کی طرف سے۔ افغان طالبان کی ای میل میں خالد بن ولید کے نام سے افغانستان میں موسم بہار کے نئے آپریشن کے آغاز کی وعید سنائی گئی ہے جبکہ پاکستانی طالبان کی ای میل میں باجوڑ میں پاکستانی فورسز کے خلاف چند ماہ قبل ہونے والی کارروائی کی ویڈیو بھجوائی گئی ہے۔

اس ویڈیو کے مطابق جب سوات اور باجوڑ کے طالبان کا دو تین درجن افراد پر مشتمل گروہ افغانستان کے کنڑ صوبے کے نامعلوم مقام سے پاکستانی فوج کے خلاف کارروائی کیلئے روانہ ہو رہے ہیں تو شدید بارش ہو رہی ہے۔ اپنے امراء کی طرف سے ہدایات ملنے کے بعد وہ اجتماعی دعا مانگتے ہیں اور دعا مانگتے ہوئے سب گڑگڑا کر روتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اس وقت ریاست پاکستان سے لڑ رہے ہیں ‘ ان کی سوچ کیا ہے اور وہ نظریاتی کمٹمنٹ کے کس مقام پر کھڑے ہیں۔ اِدھر دھماکے بڑھ رہے ہیں اور اُدھر مجھے فون پر فون آ رہے ہیں ۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہو گا؟ لیکن میں حیران ہوں کہ کیا کہوں اور کس سے کہوں؟ دوسروں کی بات سمجھ نہیں پا رہا اور اپنی بات سمجھا نہیں سکتا۔ بہ قول شاعر میری وہی کیفیت ہوگئی ہے کہ:

میں ایسے جمگھٹے میں کھوگیا ہوں
جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

اس موضوع پر کبھی سچی اور دل کی بات کہنے کی کوشش کرو تو جینا حرام کردیا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل اس دن سے جو آج ہمیں دیکھنا پڑرہا ہے‘ متنبہ کرنے کی کوشش کی۔ اپنے تجزیئے اور اندازے کے مطابق یہ تنبیہ کی کہ آنے والے انتخابات نہایت خونی ہوں گے تو ہر طرف سے مجھے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ میاں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن تک نے شکوہ کیا کہ میں لوگوں کو ڈرا کر انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہوں۔ عسکری حلقوں نے اپنے طریقوں سے مجھے باز آنے کا کہا اور مجھ پر قوم اور افواج کے مورال کو گرانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا۔ اپنے صحافتی دوستوں نے بھی طعنوں سے نوازا اور الزام لگاتے رہے کہ میں خفیہ طاقتوں کے اشارے پر طالبان کا خوف دلا کر انتخابات کو ملتوی کرانے کی سازش کر رہا ہوں۔

اللہ گواہ ہے کہ میں یہ دن دیکھ رہا تھا اور اسی سے بچنے کی خاطر طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا لیکن اس موقف کی وجہ سے جس اذیت سے میں گزرا وہ صرف میرا رب جانتا ہے ۔ فوج کا دباؤ اور سیاستدانوں کے طعنے۔ خواجہ سعد رفیق جیسے دوست نے بھی میرے موقف کو اس بنیاد پر تضادات پر مبنی قرار دیا کہ میں ان لوگوں سے مذاکرات کی وکالت کیسے کر رہا ہوں جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے (وہ الگ بات ہے کہ پھر مولانا فضل الرحمن کی ای پی سی میں خود ان کے لیڈر نے بھی مذاکرات کی حمایت کی)۔کچھ صحافتی دوستوں نے مجھے پاگل قرار دیا اور کچھ نے مجھے صحافتی طالبان کے خطابات سے نوازا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مذاکرات کے ذریعے طالبان کو بریدنگ اسپیس (Breathing space) مل جائے گا حالانکہ مذاکرات کی حمایت کی میری سوچ کے پیچھے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ یہ عامل بھی کار فرما تھا کہ میں انتخابات کے دوران فوج اور لبرل جماعتوں کیلئے بریدنگ اسپیس چاہتا تھا۔

آج کوئی ہے جو ان لوگوں سے پوچھے کہ خونی انتخابات اور کیا ہوتے ہیں اور مذاکرات آپ نے نہیں کئے تو کیا کسی اور طریقے سے آپ نے مسئلہ حل کر دیا؟ تاہم مجھے یقین ہے کہ آج بھی ان سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ آج بھی طعنے ہم جیسوں کو ملیں گے۔ اس آگ کی حدت کو صرف وہی لوگ محسوس کرتے ہیں جن کے گھر تک پہنچ جاتی ہے۔ پچھلے دور میں جب آفتاب شیرپاؤ اور امیرمقام جیسے لوگ نشانہ تھے تو اے این پی والے ان کا مذاق اڑا کر کہا کرتے تھے کہ یہ کیسے خودکش دھماکے ہیں جس میں وہ خود بچ جاتے ہیں۔

آج مسلم لیگ (ن)‘ تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی اور جے یو آئی والے ان کا تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ تین صوبوں میں بم دھماکوں کی بھرمار ہے لیکن پنجاب میں سیاست زوروں پر ہے ۔ بم پھٹ رہے ہیں ‘ لوگ مررہے ہیں اور ریاست کہیں نظر نہیں آتی۔ تین صوبوں میں آگ لگی ہوئی ہے لیکن سب سے بڑے صوبے کی قیادت کو صرف پنجاب کا معرکہ سر کرنے کی فکر لاحق ہے۔ میڈیا کو ریٹنگ اور کمائی کے چکر سے فرصت نہیں۔آج بھی رجحان یہ ہے کہ اورکزئی ایجنسی کے ایسے دھماکے کو جس میں نصف درجن لوگ مرجاتے ہیں‘ کی کوریج کو صرف دو منٹ ملتے ہیں جبکہ کراچی اور لاہور کے کریکر دھماکے کو دو گھنٹے لائیو دکھایا جاتا ہے۔ جب تک آگ گھر تک نہیں پہنچتی‘ دوسروں کے گھروں کو جلتے دیکھ کر ہم پاکستانی اس کی حدت کا احساس نہیں کرسکتے۔ جس جس گھر تک آگ پہنچے گی‘ وہ خود بخود اہمیت محسوس کرتا رہے گا۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن میرا اندازہ سن لیجئے کہ اگر سیاستدانوں اور ریاستی اداروں کی یہ روش رہی تو آنے والے دن گزرے ہوئے دنوں سے زیادہ خونی ہوں گے۔ یہ آگ ان تین صوبوں تک محدود نہیں رہے گی اور یہی روش رہی تو پنجاب کو خیبر پختونخوا بننے سے بھی کوئی نہیں روک سکے گا۔

ایک اور نکتہ: سپریم کورٹ میں خفیہ فنڈ سے مبینہ طور پر استفادہ کرنے والے صحافیوں کی فہرست میں نے جنوبی کوریا میں سرسری دیکھی تھی اور گزشتہ کالم اسی تناظر میں لکھا تھا۔ وطن واپس آکر تفصیل سے فہرست دیکھی تو پتہ چلا کہ اس میں افتخار احمد ‘پرویز شوکت ‘ منیزے جہانگیر اور رضارومی جیسے لوگوں کو بھی بدنام کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ الزام یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک رات ہوٹل میں گزارنے کے لئے سیکرٹ فنڈ سے استفادہ کیا۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو ہوٹلوں میں ٹھہرا سکتے ہیں اور اگر بکنا چاہتے تو ان کی قیمت کروڑوں میں لگ سکتی تھی۔ ان جیسے لوگوں کو سرکاری ٹاوٹوں کی فہرست میں شامل کرنا ایسا ہے کہ جیسے جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس رفیق ڈوگر کے ناموں کو ایک کیٹگری میں شامل کر لیا جائے۔ یوں اب سپریم کورٹ کا فرض بنتا ہے کہ اصغر خان کیس اور اسی نوع کے دیگر کیسوں کی طرح اس کیس کو بھی سرد خانے میں نہ ڈالے اور معاملے کو منطقی انجام تک لے جایا جائے تاکہ میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کے چہروں سے بھی نقاب اتر جائے‘ سیاست اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے وہ کردار بھی سامنے آجائیں جو میڈیا کی ان کالی بھیڑوں کو پالتے ہیں اور افتخاراحمد ‘ پرویز شوکت‘ سہیل وڑائچ ‘ روف کلاسرا اور اسی نوع کے دیگر جینوئن صحافیوں کے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے‘ اس کی تلافی بھی ہو سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.