افغانستان میں رقوم کی تقسیم

حسن اقبال
حسن اقبال
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ میں چھپنے والے معتبر اخبار کی رپورٹ کے مطابق پچھلی ایک دہائی کے دوران امریکہ کی خفیہ ایجنسی افغانستان میں ڈالروں سے بھرے سوٹ کیس، بیگ، پلاسٹک کے پیکٹ ایوان صدر میں پہنچاتی رہی ہے۔ اس رقم کا مقصد طالبان کے خلاف جنگ کرنے والے سرداروں کی مدد کرنا تھا۔ دوسرے افغان عوام میں یہ رقوم تقسیم کر کے ان کی ہمدردیاں حاصل کرنی تھیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جیتنا تھا۔ اگرچہ امریکی حکومت نے سرکاری طور پر ابھی تک رقوم کی تقسیم کے سلسلے کو تسلیم نہیں کیا لیکن صدر حامد کرزئی کی آمد اور تقسیم کی تصدیق کی ہے۔ بعض حلقوں کی طرف سے خود صدر حامد کرزئی کے بھی اس رقم کی وصولی کی تصدیق کے اشارے ملے ہیں۔ بعض امریکیوں کا خیال ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پہنچائی جانے والی رقوم نے امریکہ کے لیے کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں کیا بلکہ اس سے ہمیشہ نہ صرف منفی تاثر ملا ہے اور امریکی ایجنسیوں کے مطابق ان رقوم سے امریکی عوام اور حکومت کے بارے میں افغانستان کے عوام میں مثبت جذبات پیدا کرنے کے مقاصد بھی بری طرح ناکام ہوئے ہیں بلکہ ان رقوم سے پورے افغانستان میں چور بازاری، رشوت اور دہشت گردی بڑھی ہے۔ جن سرداروں کو یہ رقوم دی گئی۔ انہوں نے اپنی طاقت بڑھائی اور افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے کی بجائے ذاتی مقاصد پورے کیے۔ یہ رقوم بدعنوانی کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اسی وجہ سے آج افغانستان میں بدعنوانی اور رشوت ستانی عروج پر ہے۔ ان رقوم کی وجہ سے امریکہ کے خلاف لڑنے والے لوگ مضبوط ہوئے اور آج امریکہ جب افغانستان سے نکلنے کا سوچ رہا ہے۔ اپنی رقوم کے بل بوتے پر طاقت حاصل کرنے والے اس امریکی پروگرام کے بارے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

افغانستان میں اس قسم کی رقوم تقسیم کرنے والا امریکہ پہلا اور اکیلا ملک نہیں ہے بلکہ حامد کرزئی کے مطابق ایران کی طرف سے بھی ایسی ہی رقوم کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔ بعض امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کی طرف سے بھیجی جانے والی یہ رقوم امریکہ کے خلاف افغانستان میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔ ان رقوم کی بدولت ایران نے اپنا مؤثر رابطہ صدر حامد کرزئی کے قریبی اور اعلیٰ عہدیداروں سے رکھا اور مقامی سرداروں تک بھی رابطے برھائے۔ یہ ایک ایسا منفی راستہ تھا جس سے ایران نے افغانستان کی حکومت اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کو امریکہ کے خلاف بھڑکایا اور امریکی اہداف پورے ہونے سے روکا۔

لیکن بعض امریکیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایران نے اتنی رقوم خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں وہ مقاصد حاصل نہیں کیے۔ خاص طور پر ایران نہیں چاہتا تھا کہ افغانستان امریکہ کے ساتھ دس سالہ دفاعی معاہدہ کرے لیکن ایران کی مخالفت کے باوجود افغانستان نے امریکہ سے 10 سالہ دفاعی معاہدہ 2014ء سے2024ء تک کیا اور ان کی شرائط امریکہ کی خواہش کے مطابق تھیں۔ جہاں تک ان رقوم کی ادائیگی کا تعلق ہے یہ سلسلہ امریکہ نے 2001ء میں شروع کیا۔ بنیادی طور پر وہ چند سردار تھے جن کی خدمات لی گئیں تا کہ وہ طالبان سے لڑائی جاری رکھیں اور امریکہ حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی بنا سکے۔ ان میں محمد قاسم فہیم جو کہ موجودہ نائب صدر ہیں، بھی شامل تھے۔ صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی احمد ولی کرزئی بھی رقم لینے والوں میں شامل تھے جنہوں نے قندھار میں ایک لشکر ترتیب دیا تھا تا کہ انہیں جنگجوؤں کے خلاف لڑایا جا سکے۔

امریکی ایجنسیوں کے لیے اس قسم کی رقوم کی تقسیم کوئی نیا کام نہیں بلکہ دنیا بھر کی ایجنسیاں معلومات کے حصول کے لیے رقم لگاتی ہیں اور بعض نے مستقل طور پر ایسے ایجنٹ رکھے ہوتے ہیں جو انہیں براہ راست یا بالواسطہ اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ ایجنسیاں مختلف ممالک کے اداروں میں اپنے نیٹ ورک بناتی ہیں اور ایک منظم طریقے سے معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ایجنسیاں مقامی ایجنٹوں سے اس ملک کے خلاف ایسے کام بھی کرواتی ہیں جو اس ملک کے اندرونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بعض اوقات متحارب گروہوں کو بھی رقم دے کر ایک دوسرے سے لڑایا جاتا ہے۔

امریکی جب افغانستان میں وارد ہوئے تو اس وقت بیشتر افغان گروہ ایک خانہ جنگی کی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ امریکی ایجنسیوں نے ان میں سے بعض گروہوں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے مخالف گروہوں سے لڑا کر مخالفین کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن امریکی ایجنسیاں اس امر کا اندازہ نہ لگا سکیں کہ افغانستان کا معاشرہ قبائلی طرز کا ہے اور ان کے قبائل ہی متحارب گروہوں کی شکل میں موجود ہیں۔ ان کی لڑائیاں وقتی نہیں ہوتیں بلکہ پشت در پشت چلتی ہیں۔ یہ گروہ ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکتے۔ اگر وقتی طور پر ایک گروہ کمزور بھی ہو جائے تو اسے پھر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ پھر ابھر آ تا ہے۔ یہ گروہ اس وقت تک ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے ہیں جب تک کہ ان کی آپس میں صلح نہ ہو جائے۔

دراصل امریکہ نے صلح جوئی کی طرف قدم نہیں بڑھایا اور طاقت کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ اگرچہ رقم کا استعمال ہمیشہ سے افغانستان میں جاری رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صلح جوئی کی پالیسی کامیاب ہوئی ہے۔ ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو تاج برطانیہ نے اِن قبائلیوں کے معاملات میں کبھی دخل اندازی نہیں کی بلکہ ان کو اپنے معاملات کود جرگوں کے ذریعے طے کرنے کی پالیسی اپنائی۔ ان پر رقوم ضرور خرچ کیں لیکن اس وقت تک جب تک ان سے کوئی کام درکار تھا۔ ان کے اندرونی معاملات کو ہرگز نہیں چھیڑا۔ امریکہ نے نعض بنیادی معاملات کو چھیڑا اور خاص طور پر ایسی حکومت کو مسلط کرنے کی کوشش جاری رکھی جو کہ لا تعداد افغانیوں کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے ان کے اندرونی اختلافات روز بروز بڑھتے رہے۔ صلح کی پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے سے بھی قبائل کی دشمنیاں خطرناک رخ اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے حالات میں امریکہ نے اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ ترقیاتی کام کرنے سے لے کر، تربیت تعلیم اور صحت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس کے ساتھ کیش دینے کے باوجود حالات میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آ سکی۔

افغانستان کے حالات دنیا سے مختلف ہیں۔ پچھلے تیس سال سے زائد عرصہ میں یہاں پر جنگ جاری ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے بچے بارود کی بو سونگھتے ہوئے جواں ہوئے ہیں۔ یہاں جوان اپنے ہاتھوں سے لاشیں اٹھاتے ہوئے بوڑھے ہو چکے ہیں۔ بندوقیں اور گولیاں ان کا اوڑھنا بچھونا ہیں۔ ان کی زندگی موت سے زیادہ سخت ہے۔ یہاں مرنے والا انسان زندہ انسان سے زیادہ کارآمد ہے کہ ہر مرنے والے کے عوض کہیں نہ کہیں سے رقم آتی ہے۔ یہاں سے ہجرت کرنے والے کو دوسرے ممالک میں کھانا تعلیم اور صحت مفت میسر آتا ہے۔ ان کا مذہب یہاں ایک غیر ملکی کو مارنے والے کو غازی کا لقب دیتا ہے اور مرنے والے کو شہید۔ ان حقائق کے ساتھ کون اس قوم سے لڑ سکتا ہے۔ اگر ان کو رقم ملنی شروع ہو جائے تو سونے پر سہاگہ۔ یہی امریکیوں نے کیا اور آج اس کو بھگت رہے ہیں۔ آج امریکہ واپسی کی تیاری میں ہے۔ لیکن حالات بدستور پرانی ڈگر پر ہیں۔ اگر امریکہ صلح جوئی اور قبائل میں امن و آشتی کی پالیسی اپناتا تو شاید دس سالوں میں حالات بہتر ہوتے۔ جن قبائل کو دس تک آپس میں رقوم دے کر لڑایا گیا وہ اب کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو کر امن قائم کریں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں