سابق اتحادی عوام کو بیوقوف نہ بنائیں

انصار عباسی
انصار عباسی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کاش پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی اس بھائی چارہ کا اظہار گزشتہ پانچ سالہ حکمرانی کے دوران کرتے تو کراچی میں ہزاروں بے گناہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار نہ ہوتے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان تینوں جماعتوں کی مخلوط حکومت کے جانے کے ساتھ ہی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رک سا گیا ہے ورنہ ان کے دور حکومت میں کراچی کے بیچارے شہریوں کو آئے روز 15-20 لاشیں اٹھانا پڑتی تھیں مگر ان سیاسی جماعتوں یا ان کی حکومت نے اس قتل و غارت کو روکنے میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ عورتیں بیوہ ہوتی رہیں، بچے یتیم ہوتے رہے، بوڑھے ماں باپ اپنی جواں اولاد کی لاشیں وصول کرتے رہے مگراس سب کے باوجودیہ تینوں سیاسی جماعتیں ایک ہی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔

یہ سب صرف الزام تراشی تک ہی محدود نہ تھا بلکہ یہ جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے ثبوت بھی میڈیا کے سامنے پیش کرتی رہیں۔ مگر اب جب صورت حال بدلی، الیکشن کا وقت قریب آیا، حکومتی سیکورٹی اور پروٹوکول بھی وہ نہ رہا جو پہلے تھا اور اوپر سے تحریک طالبان پاکستان نے باقاعدہ اعلان کر کے ان تینوں جماعتوں کے انتخابی عمل کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کیا تو تینوں متحد ہو گئے۔ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے روز پریس کانفرنسیں کی جا رہی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت بھی مسلسل رابطہ میں ہے۔ تینوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس دہشگردی کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ بلاشبہ ان جماعتوں پر جو آج گزر رہی ہے، وہ قابل مذمت ہے۔ حکومتی اداروں کوچاہیے کہ وہ پاکستان میں رہنے والے ہر شخص چاہے اُس کا کسی بھی سوچ سے تعلق ہو اور چاہے اُس نے ماضی میں کوئی کوتاہی اور جرم ہی کیوں نہ کیا ہو، اُس کی جان و مال کو محفوظ بنایا جائے۔ دوسروں کی طرح ان تینوں سیاسی جماعتوں کو بھی بغیر خوف و خطر الیکشن لڑنے کا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔

مگر میرا سوال ان سیاسی جماعتوں سے یہ ہے کہ جس اتحاد، جس عزم، جس فکر اور جس یکسوئی کا اظہار وہ اپنی موجودہ سیاسی کارروائیوں اور اپنے انتخابی امیدواروں کو دہشتگردی کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے کر رہے ہیں، اس سب کا اظہار اُس وقت کیوں نہ کیا گیا جب پاکستان کی حکومت اُن کے ہاتھ میں تھی اور ہر گلی محلے میں دشتگردی کی وجہ سے بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہہ رہا تھا۔ یہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پریس کانفرنسیں کرنا ہمیں ماضی میں کیوں نظر نہ آیا۔ جب عام عوام مر رہی تھی تو اُس وقت ایوان اقتدار میں بیٹھے ہونے کے باوجود ان تینوں جماعتوں کی اعلیٰ ترین قیادت کا آپس میں اس طرح رابطہ نظر کیوں نہ آیا۔ جب تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں تھے تو اُس وقت کیوں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگے رہے ۔ جب لوگ مر رہے تھے تو بجائے اس کے کہ اُن کی جان و مال کا تحفظ کیا جاتا، یہ تینوں جماعتیں آپ ہی کے ماضی کے بیانات کے مطابق اپنے اپنے جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کی پشت پناہی میں مصروف رہیں۔

اگر ایک متحدہ کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہراتا اور ٹارگٹ کلرز کی لسٹ کو میڈیا میں پیش کرتا تھا تو دوسراپیپلز امن کمیٹی، لیاری گینگ، کٹی پہاڑی اور قصبہ کالونی میں موجود دہشتگردوں کا حوالہ دیتا تھا۔سندھ حکومت میں ہوتے ہوئے جو کچھ ان تینوں جماعتوں نے سندھ اور کراچی کے امن کے لیے کیا وہ سب پر عیاں ہے اور یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جتنی خون ریزی کراچی میں ہوئی، اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وفاقی حکومت میں بھی یہ تینوں پارٹیاں مخلوط حکومت کا حصہ تھیں۔ آج ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اس عظم کا اظہار کرنے والے کہ وہ دہشتگردوں کا مل کر مقابلہ کریں گے، اپنے پانچ سالہ دور میں اس سنگین مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے کیوں سوئے رہے، جب خود حکومت کے مزے لُوٹ رہے تھے اور فول پروف سیکیورٹی بھی مکمل طور پر حاصل تھی، اُس وقت اس عزم کا اظہار کیوں نہ کیا۔ پارلیمنٹ نے تین متفقہ قراردادیں پاس کیں اور دہشتگردی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت کو باقاعدہ تجاویز دیں مگر ان سب تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والے آج کس منہ سے دوسروں پر تمام تر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ آج مل کر دہشتگری کے خلاف لڑنے کا عزم کرنیوالے کل کیوں تمام اختیارات کے ہوتے ہوئے بھی اپنے قومی فریضہ سے پہلو تہی کرتے رہے۔

یہ کیسی سیاست ہے جس میں اپنی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور سرد مہری پر شرمندگی کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ یہ کیسی سیاست ہے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ دوسروں کے سر پر ڈالنے کو کوشش ہو رہی ہے ۔ اگر اس سب کا مقصد محض عوام کی ہمدردیاں سمیٹ کر الیکشن کے موقع پع ووٹ لینا ہے تو برائے مہربانی اس مذاق کو بند کریں۔ سیاست کو تو یہاں جھوٹ ، فریب اور فراڈسے جوڑ دیا گیا ہے۔ سچ بول کر، اپنی غلطی تسلیم کر کے سب مل کر عوامی مسائل بشمول دہشتگردی کے حل کے لیے کام کریں، اس سے سیاست اور سیاستدان دونوں کی عزّت ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں