”تجربے “ کا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

عظیم روسی ادیب دوستو وسکی کے ناول ” The Possessed“ کا کردار نیکولائی ایک کپتان سے کہتا ہے…” میں دیکھتا ہوں کہ بیتے ہوئے ان چارسالوں میں تم ذرا بھی نہیں بدلے ہو، کیپٹن…․حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا دوسرا نصف حصہ انہی عادات کے مطابق گزرتا ہے جو اُس نے پہلے نصف میں سیکھی ہوتی ہیں۔“زیادہ تر انتخابی جوش و خروش احمقانہ حد تک بے سروپا ہوتا ہے لیکن موجودہ انتخابی موسم تو ایسی خزاں کی مانند ہے جہاں کسی پرندے کی چہکار سنائی نہ دیتی ہو۔ سیاسی رہنما وہیں ہیں جہاں تھے۔ اگر نواز شریف کی باتیں سنیں تو وہ دعویٰ کریں گے کہ اب وہ جہاندیدہ اور ذی فہم سیاست دان بن چکے ہیں جبکہ اُن کے مقابلے میں عمران خان نو آموز اورناپختہ ہیں۔ وہ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے حاضرین پر زور دیتے ہیں وہ ایک پختہ کار (اشارہ اپنی طرف ) اور دانا قیادت کا انتخاب کریں اور عطائی کھلاڑیوں سے بچیں۔ تاہم ایسا کہتے ہوئے نواز شریف پاکستان کی تاریخ سے صرف ِ نظر کررہے ہوتے ہیں۔

اگر پاکستان کے سیاسی خدوخال کا معروضی انداز میں جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی تجربے کا فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو جنرل (ر) پرویز مشرف کو ساڑھے آٹھ سال حکومت کا تجربہ ہے اور اگر تجربہ اتنا ہی ناگزیر ہے تو پھر کیوں نہ اُن کو واپس لے آیا جائے۔ اس وقت پاکستان مسائل کے جن گرداب میں پھنسا ہوا ہے کیا اُن کی ذمہ داری تجربہ کار لوگوں پر عائد ہوتی ہے یا نا تجربہ کاروں پر ؟نواز شریف دو مرتبہ وزارت ِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں اور اگر اُن کو تیسری مدت کیلئے بھی چن لیا جاتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟اُن سے تبدیلی کی توقع لگانا ایسا ہی ہے جیسے سرحد پار سے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو انقلابی قرار دینا۔ اس لقب پر تو خود ڈاکٹر صاحب کھل کھلا کر ہنس پڑیں گے۔ دوسری طرف عمران خان کا دامن بھی مکمل طور پر صاف نہیں ہے۔ کیا اُنھوں نے مشرف کے ریفرنڈم کی مہم نہیں چلائی تھی؟بہ بطور ایک سیاست دان اُن کے لئے کوئی اچھی یاد نہیں ہوگی لیکن کیا وہ اس پر معذرت خواہ نہیں رہے ہیں؟پاکستان سیاست میں کتنے لوگ اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے قوم سے معذرت طلب کرتے ہیں؟بہرحال اُنھوں نے مشرف کی حمایت کرتے ہوئے خود کو ایک ناپسندیدہ شخص بنا لیا تھا۔

تیس اکتوبر کو لاہور کے جلسے ، جب ایک طرح سے تحریک ِ انصاف نشاة ثانیہ سے گزری…کے دوران وہ اسٹیج پر عوام کے سامنے جائے نماز پر بیٹھ گئے تاکہ اپنے کردار کی سچائی کا یقین دلا سکیں۔ اگر ہم ایسے نمائشی کاموں سے بچ سکیں تو بہتر ہوگا۔ خوش قسمتی سے اُنہوں نے مزید کسی جلسے میں اس ”کارکردگی “ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اُن میں سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ آصف علی زرداری بھی مالیاتی امور میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ اس میدان میں ان کی مسابقت تقریباً ناممکن ہے… غیر ملکی سودوں میں کمیشن، کک بیکس اور بدعنوانی کی دیگر روایتی و غیر روایتی قسموں میں ید ِ طولیٰ رکھتے ہوئے ملکی دولت سمیٹ کر (جیسا کہ ان پر الزامات رہے ہیں) سوئس بنکوں میں رکھنے میں نواب شاہ کے اس نواب کا کوئی حریف نہیں ہے۔ چنانچہ اگر نواز شریف تجربے کی بات کرتے ہیں تو پھر بلاشبہ زرداری صاحب کو مزید پانچ سال کے لئے صدر رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ نواز شریف کا تجربہ کار ہونے کا دعویٰ بھی بے محل ہے کیونکہ اپنے دور میں جب اُن کو اپریل 1999 کو فوجی ہائی کمان نے کارگل پر بریفنگ دی تو وہ جنرل مشرف اور اُن کے قریبی جنرلوں کی طرف سے کی گئی مہم جوئی، جس نے قوم کو تقریباً مہیب جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، کے مضمرات بھانپنے میں ناکام رہے۔ اُنھوں نے زیادہ سے زیادہ یہ کہا کہ پیش کئے گئے سینڈوچ مزیدار تھے اور میٹنگ اختتام پذیرہوئی۔ اس کے بعد کیا کسی نے مشرف سے جواب طلبی کی ؟ جنرل جہانگیر کرامت ایک انتہائی تعلیم یافتہ ،باوقار اور پیشہ ور سپاہی تھے اور کسی جمہوری حکومت کو شاید اُن سے زیادہ غیر جانبدار آرمی چیف نہیں ملا ہو گا، لیکن نواز شریف، جن کو بھاری بھرکم مینڈیٹ کا زعم تھا،نے اُن کو بھی چلتا کیا۔ اس کارروائی نے شاید قسمت کو بھی تاؤ دلا دیا ورنہ جنرل کرامت کے جانشین کارپس کمانڈر منگلا پرویز مشرف نامی ایک جنرل، جن کو علی قلی خان اور ایک سینئر جنرل پر فوقیت دی گئی، کیسے ہو سکتے تھے؟ باقی تاریخ ہے۔ پی ایم ایل (ن) کے چوہدری نثار ، جومسٹر بین کی طرح ایسی چالیں چلنے میں مہارت رکھتے ہیں، کا بھی اُس واقعے میں بہت بڑا ہاتھ تھا۔ وہ لوگ جو ضرورت سے زیادہ چالاک بننے کی کوشش کرتے ہیں ، کو ہوشیاری دکھاتے ہوئے یہ علم نہیں ہوتا کہ واقعات کیا رخ اختیا ر کریں گے۔ نواز حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مسٹر بین کو اُن کے فیض آباد کے وسیع وعریض گھرپر ہی نظر بند کر دیا گیا۔ یہ نظر بندی یقیناً نرم اور آرام دہ ماحول میں تھی کیونکہ مشرف نے اُن کو کسی ”خدمت “ کا صلہ دیا تھا۔

ایک مرتبہ چکوال سے ہی تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”ایم این ایس“ کو محمد نواز شریف کے نام کا نہیں سمجھتے بلکہ اسے ”موٹر وے، نیوکلیئر طاقت اور شریف سیاست “ کا مخفف سمجھتے ہیں۔ نواز شریف کا چہرہ یہ سن کر کھل اٹھا۔ جب بھی میں اس واقعے کو یاد کرتا ہوں، میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ ایسی باتوں کا زیادہ ذکر نہیں کرتا مبادا اسے ”انگور کھٹے ہیں “ کے مترادف سمجھا جائے، لیکن پی ایم ایل (ن) میں خوشامد اورچاپلوسی کرنا ایک فن کی شکل اختیا ر کر چکا ہے۔ اس میں رہنے کے لئے اس صنف میں طبع آزمائی ضروری ہے۔ بہرحال اس جماعت میں مذکورہ جنرل صاحب کی کارکردگی کافی اچھی رہی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دومرتبہ حکومت سازی کا موقع ملا ۔ یہ بات درست ہے کہ اُن کا اقتدار دفاعی اداروں کو نہیں بھاتا تھا ، بلکہ دوسری مرتبہ تو اُن کو صدر فاروق لغاری ، جن کو اُنھوں نے خود چنا تھا، نے چلتا کیا، لیکن وہ بھی خود کو پیش آنے والے مسائل کی بڑی حد تک خود ہی ذمہ دار تھیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو صاف ستھری سیدھی راہ نہیں بھاتی ہے۔کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ اُن کا ایک پاؤں اگر سڑک پر ہے تو دوسرا کسی کھائی میں ہونا چاہیے۔ مسٹر زرداری کے سامنے کوئی ڈیل آئے اوراس میں ان کا حصہ نکل رہا ہو تو کیا وہ انکار کریں گے ؟بہرحال نواز شریف صاحب کے لئے بھاری مینڈیٹ ویسی ہی تباہی لایا جیسی کوئی طالبان بمبار لاسکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسے تجربے کو ایک مرتبہ پھر اقتدار کے مسند پر لے آئیں؟ بہتر تو یہ ہے کہ تجربے کو فراموش کر کے قدم آگے بڑھایا جائے ۔ جب نواز شریف صاحب پہلی مرتبہ وزیر ِ اعظم بنے تو وہ ہر روز سرکاری ہیلی کاپٹر پر دور دراز کے دیہاتوں میں مظلومین، اکثر آبروریزی کا شکار خواتین ، کی داد رسی کے لئے جاتے تھے۔ اس دوران وہ نہایت اداس دکھائی دیتے ہوئے اُ ن کے سر پر ہاتھ رکھتے اور اُن کو لفافے میں کچھ رقم پیش کی جاتی۔ اس شام سرکاری ٹیلی ویژن یہ سب کارروائی ہر خبری نشرئیے میں پیش کرتا(اُس وقت نجی ٹی وی چینل نہیں تھے)۔ میاں صاحب اس تمام کارروائی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو تے رہتے کیونکہ اُن کو یہی ون مین شو بھاتا تھا۔ سرکاری محکموں کی کارکردگی اُن کی ترجیح نہ تھی۔ اسی طرح کی حماقت اس ملک پر حکومت کرتی رہی ہے۔ کیا گورنر پنجاب نواب امیرمحمد خان اس طرح کے دکھاوے کو پسند کرتا؟ ہر گز نہیں، وہ پولیس والوں سے پوچھتا کہ کیا اُن کو خدا کا خوف ہے یا نہیں۔ یقیناً ہرحکمران کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ہر جگہ خود مصروف ہو جائے جبکہ تمام محکموں کا عمل مفلوج ہو کر رہ جائے۔ جب نواز شریف دوسری مدت کے لئے وزیر ِ اعظم بنے تو وہ یا تو صدر لغاری، چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور جنرل جہانگیرکرامت کے ساتھ محاذآرائی میں مصروف رہے یا پھر لاہور اسلام آباد موٹروے کے بنفس ِ نفیس معائنے کے لئے جاتے۔ مذاق کی بات نہیں، بالکل جس طرح وہ آبرو ریزی کی شکار خواتین کے ساتھ اظہار ِ ہمدردی کے لئے جاتے، اسی طرح وہ موٹر وے کا معائنہ کرتے۔ اس کے علاوہ اُن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہ تھا… یہاں تک کہ جنرل مشرف ہاتھ دکھا گئے۔ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ان باتوں کا احساس نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ کھلے بندوں اس کا اعتراف کرنے کی جرأت نہیں کرتے کہ دراصل جنرل مشرف کا شب خون اُن کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے عوامی حمایت سے محروم ہوچکے تھے۔ فوج کی طرف سے تختہ الٹنے نے ان دونوں کو راتوں رات جمہوریت کا چیمپئن بنا دیا۔ 2008 میں دونوں جماعتیں ایک مرتبہ پھر قومی افق پر نمودار ہو گئیں ۔ اس پر اُنہیں مشرف کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اب موجودہ انتخابات میں نواز شریف صاحب سمجھتے ہیں کہ اُن کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ چونکہ ہمارے ملک میں عجیب و غریب واقعات پیش آتے رہتے ہیں، اس لئے کون کہہ سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ میں کوئی نجومی یا جوتشی نہیں ہوں لیکن ان انتخابات کا جو بھی نتیجہ آئے ، امیدکرنی چاہیے کہ پرانے تجربات نہیں دہرائے جائیں گے، بلکہ قوم کسی نئی سمت کی طرف دیکھے گی۔

پس ِ تحریر نمبر ۱: پرویز مشرف کو تاحیات انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج حضرات نے کہا…” ایسا شخص خود آئین کے آرٹیکلز باسٹھ اور تریسٹھ پر کیسے پورا اترسکتا ہے جس نے خود آئین کا احترام نہ کیا ہو۔“ کیا کوئی صاحب مہربانی فرما کر آسان اور عام فہم زبان میں اس بات کی وضاحت کردیں گے تاکہ عام لوگ بھی سمجھ جائیں۔“پس تحریر نمبر 2: کیا کوئی جنرل کیانی صاحب کو یہ بات سمجھاسکتا ہے کہ وہ جمہوریت پر لیکچر نہ دیاکریں؟ ٹھیک ہے کہ وہ اپنے خطبات میں اسلام کا ذکر کرتے رہتے ہیں، لیکن اگر جمہوریت کے بارے میں پندو نصائح اُن کے منصب کی طرف سے نہ ہی آئیں تو اچھا ہے۔ اے این پی ، پی پی پی اور ایم کیو ایم ملک کی سیاسی جماعتیں ہیں اور تمام تر دہشت گردی کے باوجود وہ جمہوریت کے راستے پر کاربند ہیں۔ کیا پاکستانی عوام کے جذبے پر کسی کوشک ہے ؟آخر میں، عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا تھا۔ وہ درست کہتے ہیں، اس کی ذمہ داری پرویز مشرف پر ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں