خاندانی آمریت یا عوامی جمہوریت

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

آصف علی زرداری ماشاء اللہ صدر پاکستان ہیں ۔ ان کی بہن فریال تالپور جو اس وقت پی پی پی کی اصل مالک ہیں‘ لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑر ہی ہیں۔ دوسری بہن ڈاکٹرعذرا پیچوہو کونواب شاہ سے قومی اسمبلی کا امیدوار نامز د کیا گیا ہے۔ سگا بھائی کوئی نہیں چنانچہ منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی ٹھٹھہ سے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔ بہنوئی منورتالپور میرپورخاص سے قومی اسمبلی کے امیدوارہیں ۔ سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں جبکہ ان کی بیٹی نفیسہ شاہ کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے ۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے خود تو امیدوار نہیں بن سکتے لیکن ان کے دو صاحبزادے سیدعبدالقادر گیلانی اور سید موسیٰ گیلانی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے سیداحمد مجتبیٰ گیلانی صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں جبکہ بڑے گیلانی صاحب کے بہنوئی سید قطب علی شاہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ اوکاڑہ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب (اُس وقت وہ مسلم لیگ کے وزیراعلیٰ تھے) میاں منظور وٹو خود قومی اسمبلی کے ‘ ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو اور ان کی بیٹی جہاں آرا وٹو پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے ہیں ۔

مخدوم احمد محمود خود تو گورنر پنجاب ہیں جبکہ ان کے دو بیٹے یعنی مخدوم مصطفی محمود اور مخدوم مرتضیٰ محمود پیپلز پارٹی ‘ جس میں انہوں نے گورنر شپ کے حصول کے بعد شمولیت اختیار کی تھی ‘ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ اب آئیے مسلم لیگ (ن) کی طرف ۔ میاں محمد نواز شریف وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ بھائی شہباز شریف بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ میاں نوازشریف کے بھتیجے اور میاں شہباز شریف کے صاحبزادے میاں حمزہ شہباز قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔ بھانجے عابدشیرعلی کو فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے لئے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ عنایت کیا گیا ہے جبکہ بڑے میاں صاحب کے داماد کیپٹن صفدر خیبر پختونخوا کے مانسہرہ سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔اسی طرح چوہدری جعفراقبال کی اہلیہ( بیگم عشرت اشرف) ‘ بیٹی( زیب جعفر)‘بیٹے (عمر جعفر) ‘داماد(فیصل اقبال)اور بھانجی(مائزہ حمید گجر)کو پارٹی ٹکٹوں سے نوازا گیا ہے ۔ سینیٹ کے رکن سردار ذوالفقار کھوسہ کا ایک بیٹا سیف الدین کھوسہ قومی اسمبلی جبکہ دو بیٹے یعنی دوست محمد خان کھوسہ اور حسام الدین کھوسہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ اسی طرح خواجہ سعد رفیق صاحب خودقومی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔ بھائی (خواجہ سلمان رفیق) کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دلوادیا ہے جبکہ اہلیہ غزالہ سعد رفیق خواتین کی مخصوص نشستوں پر صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں۔ پختونوں کی علمبردار جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کا معاملہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ محترم اسفندیارولی خان چارسدہ سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ ان کے بھانجے اور سابق وزیراعلیٰ حیدر خان ہوتی مردان سے قومی و صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ اسفندیار کے بہنوئی ( حیدر ہوتی کے والد) اعظم خان ہوتی سینیٹر اور سمدھی شاہی سید سینیٹر ہیں ۔

غلام احمد بلور کے ایک بھائی (بشیر احمد بلور ) سیاست و اقتدار کی کشمکش میں اللہ کوپیار ے ہوگئے۔ان کے دوسرے بھائی الیاس احمد بلور سینیٹر ہیں ۔ایک بھتیجے ہارون بلور (فرزند بشیر احمد بلور) صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے اور دوسرے بھتیجے غضنفر بلور (فرزند الیاس احمد بلور) صوبائی اسمبلی کے دوسرے حلقے سے امیدوار ہیں ۔ مسلم لیگ(ق) کے چوہدری برادران بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں ۔چوہدری شجاعت حسین خود قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔ دوبھائی یعنی چوہدری وجاہت حسین اور چوہدری شفاعت حسین بھی قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ کزن چوہدری پرویز الٰہی بھی اس مرتبہ قومی اسمبلی کے لئے قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ شجاعت کے بھانجے اور پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔ چوہدری شفاعت حسین کی بیٹی تنزیلہ چیمہ صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں جبکہ ایک۔اسی طرح دو اور قریبی عزیزوں یعنی چوہدری انور چیمہ اور ساجد چٹھہ کو بھی قومی اسمبلی کے ٹکٹ دلوائے گئے ہیں ۔ علاوہ ازیں چوہدری وجاہت حسین کے برادر نسبتی عامر حیات روکڑی میانوالی سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ امریکہ کو للکارنے والے ”اصولی“ سیاست کے علمبردار مولانا فضل الرحمن صاحب بھی الحمد للہ اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ وہ خود قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔ ان کے بھائی اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا عطاء الرحمن بھی میدان ہیں ۔ جبکہ دو بھائی یعنی مولانا لطف الرحمن اور مولانا عبیدالرحمن صوبائی اسمبلی کے لئے میدان میں ہیں ۔ علاوہ ازیں سمدھی (حاجی غلام علی) جو پہلے سے سنیٹر ہیں‘پشاور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ لیکن یہ خاندانی سیاست کا ایک رخ ہے ۔

اب ایک اور رخ ملاحظہ کیجئے ۔وہ یہ کہ انور سیف اللہ خان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ہیں اور خود بنوں سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں ۔ ان کے دوسرے اور سگے بھائی سلیم سیف اللہ خان مسلم لیگ (ہم خیال) کے صوبائی صدرہیں اور آبائی حلقے لکی مروت سے مسلم لیگ(ن) کی حمایت سے قومی اسمبلی کیلئے انتخاب لڑرہے ہیں ۔ ان کے تیسرے بھائی ہمایوں سیف اللہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں اور آخری اطلاعات آنے تک ان کا تعلق مسلم لیگ(ق) سے ہے ۔ گویا چار پارٹیاں (پی پی پی‘ مسلم لیگ ن ‘ ق اور ہم خیال ) ایک گھر میں جمع ہوگئی ہیں ۔ واضح رہے کہ ان تینوں بھائیوں کے تعلقات خراب نہیں بلکہ مثالی ہیں اور یہ سب کچھ باقاعدہ مشاورت کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔

بہاولپور میں مخدوم علی حسن گیلانی نون لیگ کے جبکہ ان کے بھائی مخدوم سمیع اللہ حسن گیلانی بہاولپور نیشنل پارٹی کے امیدوار برائے قومی اسمبلی ہیں ۔ سید فخر امام خانیوال سے نون لیگ کی جبکہ ان کے بیٹے سید عابدامام جھنگ سے قومی اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ تہمینہ دولتانہ خانیوال سے قومی اسمبلی کے لئے مسلم لیگ (ن) کی جبکہ ان کی بھتیجی نتاشہ دولتانہ پیپلز پارٹی کی امیدوار ہیں ۔ چوہدری طارق بشیر چیمہ بھاولپور سے مسلم لیگ(ق) اور ان کے بھائی طاہر بشیر چیمہ بہاولنگر سے مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ کے ساتھ قومی اسمبلی کی نشست کیلئے میدان میں ہیں ۔

سمیرا ملک صاحبہ خوشاب سے قومی اسمبلی کیلئے میاں نوازشریف کی جبکہ ان کی بہن عائلہ ملک خصوصی نشستوں پر عمران خان کی امیدوار ہیں ۔ ملک غلام مصطفی کھر مظفر گڑھ سے قومی اسمبلی کیلئے آزاد امیدوار کی حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں ۔ ان کے بھائی نور ربانی کھر قومی اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے دوسرے بھائی ملک فاروق کھر کو مسلم لیگ(ن) نے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے ۔ تیسرے بھائی ملک مرتضیٰ کھر بھی آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں جبکہ مصطفیٰ کھر صاحب کے بیٹے ملک بلال کھر صوبائی اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار ہیں ۔

نوابزادہ غضنفر علی گل گجرات سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کیلئے قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ ان کے بھائی نوابزادہ مظہر علی خان کو مسلم لیگ(ن) نے قومی اسمبلی کیلئے ٹکٹ عنایت کیا ہے جبکہ بیٹے نوابزادہ حیدر علی بھی صوبائی اسمبلی کے لئے نون لیگ کے امیدوار ہیں ۔ وہاڑی کے نذیر جٹ صاحب کا معاملہ سب سے منفرد اور نہایت دلچسپ ہے ۔ ان کی دوبیٹیاں (عائشہ نذیر جٹ اور عارفہ نذیر جٹ ) آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہی ہیں جبکہ ان کی ایک بیوی (عابدہ حبیب ) قومی اسمبلی کی اور دوسری بیوی (حاجرہ نذیر جٹ) صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں۔ مانسہرہ میں اعظم خان سواتی صاحب تحریک انصاف کی ٹکٹ کے ساتھ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں جبکہ ان کے بھائی لائق محمد خان ایک اور حلقے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ٹکٹ کے ساتھ قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔

حیران ہوں پاکستانی سیاسی نظام کو کیا نام دوں ۔ خاندانی آمریت یا پھر عوامی جمہوریت ؟۔ فیصلہ آپ کریں ۔ گیارہ مئی کو۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں