میں کسے ووٹ دوں؟

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ہمارے فیصلہ کن الیکشن بس چند دنوں کی بات ہیں، اگر ہم ان کے نتیجے میں بھلی بری حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے اور صدر اور وزیر اعظم قسم کے عہدوں کو پر کر لیا تو پھر دنیا کو چار وناچار ماننا پڑے گا کہ پاکستان نام کا ایک ملک موجود ہے جہاں رسم دنیا کے مطابق ایک حکومت قائم ہے، یہ کیسی ہے اس کا فیصلہ تو اس کے قیام کے بعد ہو گا۔ ہم تو اسے ایک اچھی حکومت کہیں گے کیونکہ ہمیں ان حکمرانوں کو خوش رکھ کر زندگی بسر کرنی ہو گی۔ ان کو برا کہیں گے تو ہمارے ساتھ بری ہو گی، اچھا کہیں گے تو شاہی مراعات سے بہرہ مند ہوں گے۔

آپ نے حال ہی میں کسی خفیہ فنڈ کی خبر بھی پڑھی ہو گی جس کی صرف ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی ہے جو ہمارے جیسے صحافیوں کے لیے محض ایک وارننگ ہے۔ تعجب ہوا کہ اس نامکمل سی فہرست میں میرا نام نہیں ہے جب کہ میں نے حکمرانوں کے ہمراہ دنیا بھر کے سفر کیے ہیں اور اعلیٰ درجہ کے ہوٹلوں میں ہی نہیں، شاہی محلوں میں بھی رہے ہیں۔ پیرس میں شانز ے لیز ے کے قریب ایک شاہی محل میں وزیر اعظم پاکستان کا قیام تھا اور قیام کیا تھا فرانس کے کسی شاہ کی رہائش گاہ تھی جس کے اندر کا انتظام اور اہتمام شاہانہ تھا، صبح ناشتے کے وقت ناشتے کی اشیاء خورد ونوش کی ایک فہرست دکھائی گئی جس کی ایک سطر بھی ہمارے پلے نہیں پڑی۔

میرا خیال ہے ہمارے وزیر اعظم کے پلے بھی کچھ نہ پڑا ہو گا۔ بہرکیف دو چار دن ایسے شاہی ماحول میں گزرے اور عام سفر اور عام اعلیٰ درجہ کی سہولتوں والے سفر تو ہمیشہ ہوتے ہی رہے جن کے اخراجات حکومت پاکستان نے ادا کیے مگر حیرت ہے کہ سرکاری سیکرٹ فنڈ سے جن لوگوں نے چائے کافی پی ان کے نام تو سامنے آ گئے مگر ان کے نہیں آئے جنھوں نے شاہی محلات میں شب وروز بسر کیے۔ اسی سے اس لغو قسم کی فہرست اور مراعات کی تفصیل کا اندازہ کر لیں۔ ہماری تو خواہش ہے کہ آئندہ جو حکومت بھی بنے وہ ایسی ہی فراخدل حکومت ہو جو اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں اور موقع ملے تو شاہی محلوں میں ہمیں آرام کرنے کا موقع دے۔

امید ہے کہ جو حکومت بھی بنے گی وہ ایسی ہی ہو گی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو جو لوگ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور بے پناہ خرچ کر رہے ہیں وہ کل کے حکمران ہوں گے جس کا ماٹو ہوتا ہے کہ خود بھی کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ کیونکہ اکیلے کھانے کا زمانہ گزر گیا ہے، مل جل کر کھایا پیا جاتا ہے اور اسی میں سہولت رہتی ہے۔ کسی بیرون ملک کا سفر تو بڑی بات ہے، کراچی سے لاہور یا لاہور سے اسلام آباد تک کا سفر بھی متعلقہ سیکرٹ فنڈ والے محکمے کے لیے چھوٹی بڑی نعمت بن جاتا ہے کیونکہ مل جل کر کھانے کا اصول ہر جگہ چلتا ہے اور خدا کرے چلتا رہے۔

ان دنوں اس پاکستان کی حکومت کے لیے جدوجہد جاری ہے جو سابقہ حکمرانوں کے ہاتھوں لٹ پٹ چکا ہے اور ا لیکشنی لیڈروں کو اس کا ہم آپ سے زیادہ علم ہے لیکن وہ پھر بھی اس اجڑے کھیت کو قابو کرنے کی کوشش میں نہ جانے کتنا خرچ کر رہے ہیں۔ آپ نوٹ کر لیں کہ یہی لوگ ہوں گے جو کل قوم کے نام ہدایات جاری کر رہے ہوں گے اور اسے کسی نئے پاکستان یا پرانے خوشحال پاکستان کی تصویر دکھا رہے ہوں گے۔ ڈاکٹر قدیر خان کے کچھ ساتھی اور جماعت اسلامی بذات خود اس الیکشن میں حصہ لے رہی ہے لیکن پنجابی کی ایک مشہور مثل یاد آئی ہے کہ ’’پلے نئی او دھیلہ تے کردی میلہ میلہ‘‘ جیب میں تو ایک دھیلہ پیسہ تک نہیں مگر میلہ میلہ کرتی پھرتی ہے۔

اب آپ جانیں کہ جماعت کے پاس نہ تو نقد سرمایہ ہے نہ انتخابی حکمت عملی ہے اور ڈاکٹر صاحب کے بارے میں تو میرے ایک دیہاتی ڈرائیور نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ وہ ڈاکٹر قدیر خان کو ووٹ دے گا۔ میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس غریب پاکستانی کو ملک کی سلامتی عزیز ہے، میری طرح دیس دیس کے قیمتی دورے عزیز نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی وجہ سے ملک سلامت ہے، شاید ہو گا لیکن ملک جن کا ہے اور جن کے پاس رہے گا ان کی وجہ سے سلامت ہے، ایک غریب پاکستانی اس ملک کی سلامتی کو کیا کرے گا۔ نہ اس سے پیاس بجھتی ہے نہ پیٹ کی آگ۔ میرے ڈرائیور کا باپ بیمار ہے اور مقامی اسپتال سے گردوں کی صفائی کراتا ہے، بس یہی اس کا پاکستان ہے جس کی سلامتی کے لیے شکریے میں وہ ڈاکٹر قدیر خان کے کسی عقیدت مند کو ووٹ دے گا۔

الیکشن کے موضوع اور اس سے پیدا ہونے والے ذہنی آلام سے بچنے کے لیے میں کوشش کرتا ہوں کہ کچھ اور لکھوں لیکن جدھر بھی دیکھتا ہوں، ادھر الیکشن ہی دکھائی دیتا ہے اور ایسے امیدوار جو گزشتہ نصف صدی سے ہم اپنے حکومتی ایوانوں میں سیٹیاں بجاتے دیکھ رہے ہیں، ایسے بدقسمت ہیں کہ کسی بلٹ پروف گاڑی کے بغیر سفر نہیں کر سکتے یعنی زندگی عذاب ہی ہے، حکومت سے حفاظتی عملہ مانگتے ہیں، گھر کے نوکروں سے بھی پریشان رہتے ہیں بلکہ مشکوک سرمائے کی کثرت کی وجہ سے ہر وقت پوچھتے ہیں کہ اسے کہاں محفوظ کر سکتے ہیں۔ یہ تفصیلات بہت طویل ہیں اور یہ زندگی قدرت کا ایک عذاب ہے جو دولت مندوں اور حکمرانوں پر نازل ہوتا ہے۔

کتنا اچھا ہے کہ آپ صرف ووٹر ہیں نہ ہارنے کی فکر نہ جیتنے کی خوشی۔ میں نے ایک ووٹر سے پوچھا کہ کس کو ووٹ دو گے۔ جواب ملا شکر ہے آپ مل گئے ہیں، میری مدد کریں کہ کس کو ووٹ دوں کون اس امانت کا مستحق ہے‘ میں نے عرض کیا کہ اسے ووٹ دیں جو آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے مطابق زندہ ہے۔ وہ تو کوئی نہیں اس نے مایوسی سے کہا تو پھر میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔ آپ کے آئین میں یہی لکھا ہے اور آئین کی خلاف ورزی کس پرویز مشرف کو بچا سکتی ہے‘ اس ووٹر نے اعلان کیا کہ میں تو صرف کسی عام سے نیک آدمی کو ووٹ دوں گا اور اس کی یہی بات میں نے بھی پلے باندھ لی ہے جس کا فیصلہ بہرحال 11مئی کو ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں