.

ایسا انتخاب کسی نے دیکھا؟

امتیاز عالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی نے ایسا انتخاب کبھی دیکھا تھا کہ دہشت گرد قومی ایجنڈا طے کریں اور جس کو چاہیں گھروں میں بند کر دیں اور جسے چاہیں کھلا چھوڑ دیں۔ "جمہوری کفر" کے ساتھ طالبان نے کیا غضب ناک ہاتھ کیا ہے۔ بلٹ کے سامنے بیلٹ والے کب ٹھر سکتے ہیں، اس حال میں کہ اسے روکنے والے دعوئوں کے باوجود مصلحت کیش ہوں۔ طالبان نے دو چھوٹے صوبوں اور تین آزاد خیال جمہوری جماعتوں سے تو انتخابی مہم چھینی ہی تھی ، رہی سہی کسر بلوچ مجاہدین نے بلوچستان میں پوری کر کے انتخابی مہم کی عیاشی کو چند پارٹیوں بالخصوص عمران خان اور پنجاب تک محدود کردیا ہے۔ پختون خوا میں انتخابی مہم کا اجازت نامہ بھی صرف مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے پاس ہے اور پنجاب میں انتخابی زور شور دیکھ کر چھوٹے صوبوں میں جوردِ عمل پیدا ہورہا ہے، اس کا کسی کو اندازہ نہیں۔ بظاہر یہ دہشت گردی کی "ناانصافی" ہے اور وہ بھی کافرانہ انتخابی عمل میں شامل ان جماعتوں کے حق میں جو ان کے خلاف جنگ کو پاکستان کی جنگ نہیں سمجھتے چاہے اس میں ہزاروں پاکستانی اور فوجی کیوں نہ مارے جارہے ہوں اور قتلِ عام کا بازار گرم ہو۔ آخر اس کا بونس بھی تو ہمارے مولانا [فضل الرحمان] اور ہردلعزیز کپتان کو مل رہا ہے۔ میاں نواز شریف کا معاملہ دوسرا ہے، ان کے لیے جنرل پرویز مشرف کی چھیڑی ہوئی جنگ میں کودنا ایک کٹھن فیصلہ ہے جو بالآخر انہیں طوعاً کرنا ہی پڑے گا۔ بات چیت کا شوق وہ پورا کر لیں پھر آستینیں تو چڑھانی ہی پڑیں گی۔
یوں لگتا ہے کہ تین چھوٹے صوبوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح اور نتائج پنجاب سے یکسر مختلف ہوں گے، یہ تقسیم آگے کیا رنگ لائے گی، وہ خوفناک بھی ہوسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی پر لگی طالبان کی بندش کے بعد پنجاب میں میدانِ جنگ میاں نواز شریف اور عمران خان کے بیچ لگا دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی ماضی کی شہادتوں کی دہائی دیتے ہوئے ساری اشتہاری مہم اپنے لئے کم ، نواز شریف کے خلاف زادہ چلا رہی ہے اور عمران خان ہیں کہ سارا زور تختِ لاہور شریفوں سے چیننے کے لیے لگا رہے ہیں اور کون سا حربہ ہے جو استعمال نہیں کر رہے۔ نواز لیگ کی شریفانہ مہم کا بنیادی زور پاکستان کے معاشی مستقبل اور مسائل سے چھٹکارا پانے کی یقین دہانیوں پر ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اپنے سیاسی گورکنوں کے ہاتھوں یوں ذلیل نہ ہوتی تو یہ انتخابات اس کے لیے بہترین موقع تھے، جب پہلی باردایاں بازو اتنا منقسم ہے۔ مگر بھٹوز کے بغیر پی پی پی بغیر سر کے دھڑ کی مانند ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک عجیب طرح کا لیکن سمجھ میں آنے والا جگتو فرنٹ نواز شریف کے خلاف بنتا نظر آرہا ہے۔ منتخب دہشت گردی کا نشانہ اگر مسلم لیگ نواز کو بھی بنایا جاتا تو پھر پنجاب میں بھی انتخابی مہم کی معرکہ آرائی کہیں نظر نہ آتی اور انتخابات کا التوا یقینی ہو جاتا۔ سمجھداری یہی تھی کہ پیپلز پارٹی کے ہاتھ باندھ کر مقابلہ عمران خان اور نواز شریف میں کروایا جائے تاکہ پنجاب سے عوامی منشا اس طرح تقسیم کردی جائے کہ ایک معلق اسمبلی میں پھر سے اقتدار کی کرسیوں کے گرد تماشا لگارہے۔
لیکن کیا سارا تماشا نواز شریف سے اقتدار کی ممکنہ "رضائی" چھیننے کے لیے تو نہیں لگایا جارہا؟ بات ایسی سادہ نہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ پاکستان میں گزشتہ چالیس سال سے جاری نظری اور سماجی تقسیم کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ اسی بعد ضدین میں دونوں اطراف کی سیاست کی گرمی سردی برقرار رہی ہے۔ اب یہ شاید کافی ماند پڑ گئی ہے اور بلاول بھٹو آج نہیں کل کے لیڈر ضرور ہوسکتے ہیں۔ جب پیپلز پارٹی میدان ہی میں نہیں اتری یا اسے اترنے نہیں دیا جارہا [ صدر زرداری کے خلاف سیاسی عہدہ نہ رکھنے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ طالبان کی دہشت] تو نئی تقسیم تو وجود میں آنی ہی تھی ، خلا تو ہونے سے رہا۔ ویسے بھی لوگ پرانے ہیرو دیکھتے دیکھتے بور ہوجاتے ہیں اور نئے چہروں کی تلاش جاری رہتی ہے خواہ نئی فلم کتنی ہی پٹ کیوں نہ جائے۔ اب ایک نئی نسل میدان میں اتری ہے جس کا جمہوری تاریخ اور ماضی کی فکری جدوجہد سے دور کا واسطہ بھی نہیں ۔ معذرت کے ساتھ ، بدقسمتی سے یہ نئی نسل فکری و علمی اعتبار سے کافی نابلد اور مواقع نہ ملنے کے باعث ناراض اور ماضی کی جماعتوں سے نالاں ہے اور اسے کسی ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو ان کی تمام تر آشائوں کو پورا کرنے کا یقین دلادے۔ قومی ہیرو بنے تو عمران خان کو کئی دہائیاں ہوچلی ہں اور سیاست میں بھی وہ سترہ سالوں سے ہیں، تو پھر اچانک وہ عوامی مقبولیت کے گھوڑے پر کیسے سوار ہوگئے؟ اس کی صرف تین بڑی وجوہات ہیں: اول یہ کہ عوام دونوں جماعتوں کو کئی بار دیکھ چکے ہیں اور ان کے ساتھ ان کا رومانس کم و بیش ادھورا رہ گیا ہے۔ دوئم یہ کہ دو بڑی جماعتوں میں نئے لوگوں کے لیے جگہ بنانا مشکل تھا کیونکہ قیادت دو تین خاندانوں میں گھومتی رہی ہے۔ اور سوئم یہ کہ جمہوریت میں ایک تیسری گنجائش بڑھ گئی جس کے لیے ہمارے متذبذب نوجوان بےقرار تھے۔ جتنے یہ کنفیوژ تھے، انہیں ویسے ہی نعروں اور وعدوں والا کرکٹ ورلڈ کپ کا ہیرو اور مسیحا بھی مل گیا جو شوکت خانم ہسپتال کے ذریعے پہلے ہی خلعتِ مسیحائے اوڑھ چکا تھا۔
دینے کو تو میاں نواز شریف معاشی طور پر ایک مضبوط پاکستان کا پروگرام دے رہے ہیں اور کافی لوگ ان کی استعداد پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ لیکن عمران خان وعدوں اور نعروں کے جو چو کے چھکے لگا رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر سونامی اور جنون کی جو بے معنی ہلڑ بازی ہورہی ہے اس سے عوامی مزاج کی تماش بین نفسیات میں کافی انگیخت پیدا ہورہی ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ مدنی ریاست ، عدل و انصاف ، کرپشن کا خاتمہ، ڈرون گرانے سے امریکی غلامی سے آزادی کے ساتھ ساتھ بھائی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے تک کونسا تارا ہے جو توڑ کر وہ ان سادہ لوح نوجوانوں کی خیالی جھولی میں ڈال دینا نہیں چاہتے۔ اگر اس وقت کوئی متحرک ترین سیاسی عامل میدان میں ہے تو وہ ہے عمران خان کا نوجوانوں کا ریلا۔ گو، پنجاب حکومت کی کارکردگی ویسی خراب نہ تھی جیسی مرکز میں یوسف رضا گیلانی حکومت تھی ، شہباز شریف ہر وقت کچھ نہ کچھ کر گزرتے نظر آئے اور انہوں نے بطور منتظم اپنی دھاک بٹھائی جبکہ پی پی پی بہت کچھ کرنے کے باوجود خالی ہاتھ رہی۔ عمران خان کے لیے دونوں حکمران جماعتوں کو ایک ہی پلڑے میں ڈالنا کوئی زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ پیپلز پارٹی اور دوسرے پردہ نشین ایک عرصہ سے عمران خان کو نواز شریف کے خلاف کھڑا کرنے کے آرزومند تھے اور عمران خان سبھی کو بمع ہمارے مولانا، ایک ہی بلے میں میدان سے باہر کردینے کے زعم میں مبتلا ہیں ، ایسا شاید نہ ہو۔ جوہونا ہے وہ یہ کہ شاید کوئی پارٹی 100 کے ہندسے سے اوپر نہ جائے اور اگر میاں نواز شریف پنجاب میں 100 سے اوپر نشستیں نہیں لیتے تو وہ کم ازکم ویسے وزیرِ اعظم نہیں بن سکتے جیسا وہ چاہتے ہیں۔ اگر بنیں گے بھی تو عمران خان نے ان کے کافی پر کاٹ دیئے ہوں گے۔ اور اگر عمران خان کے حق میں پنجاب کی لہر ذرا اور بڑھ گئی اور یہ پختون خوا میں دور تک چلی گئی تو وہ سب کو حیران بھی کرسکتے ہیں، لیکن سیٹوں کی سنچری کیے بغیر۔
ایسے میں جب پنجاب میں بڑی تقسیم کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی تو کھیل وہ کھیلے گا جس نے عوامی سیاست کو دھتکار کر جوڑ توڑ کی سیاست میں اپنا "تانبا" منوایا ہے۔ خواہ مخلوط حکومت نواز شریف بنائیں یا پھر عمران خان، سمجھوتہ تو کرنا ہی پڑے گا۔ نواز شریف یہ سمجھوتہ کرسکتے ہیں اور اپنے چھوٹے بھائی کی زبان بندی بھی کر سکتے ہیں۔ متکبر خان کے نوجوان شاید انہیں یہ نہ کرنے دیں اور انہیں حزبِ اختلاف کی ہلڑبازی پر مجبور کر دیں۔ کھیل تو ابھی شروع ہوا ہے۔ اگلی حکومت کو بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ خواہ معاشی میدان میں ہوں یا حکومتی انتظام میں اور ریاست کی اپنے علاقوں پر بالادستی قائم کرنے اور دہشت گردی کو صاف کرنے کے حوالے سے ۔ یہ کام اکیلا آصف زرداری کر سکتا تھا نہ نواز شریف اور عمران خان ، ایک ادارہ نہ اور ادارے۔ ایک بڑے قومی اتفاقِ رائے کی حکومت کی ضرورت ہوگی جس کے لیے کم ازکم اونچی اڑان والے عمران خان کے لیے آمادہ ہونا مشکل ہوگا کہ ان کے نوجوان کہیں بپھر کر انہی پر نہ پلٹ پڑیں۔ پاپولزم کی آندھی چلانا آسان، اس پر قابو پانا مشکل۔ طالبان نے جو پتے کھیلے ہیں، وہ غضب کے ہیں۔ دیکھیے کیا وہ اپنی پسند کے لوگ لانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر وہ ہوگا جس کا اعلان جنرل کیانی نے کیا ہے کہ خواہ کوئی حکومت بنائے۔ ہائے میری جمہوریت، کیا اسی لیے ہم تیرے لیے ساری عمر جوتے کھاتے اور سر پٹختے رہے۔ ایسا انتخاب کسی نے دیکھا؟ بس جمہوریت چلتی رہے، وہ صبح کبھی تو آئے گی۔
بہ شکریہ روزنامہ دنیا

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.