کیا پاکستان میں بھی ایسا ممکن ہوسکے گا؟.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ترکی سرعت سے ترقی کے تمام مراحل مکمل کرتے ہوئے ایک فلاحی مملکت کا روپ اختیار کرتا جا رہا ہے جس کا اس سے قبل تصور بھی نہ تھا۔ ترکی کی ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی اب اپنے آخری سانسوں پر ہے اور ہمیشہ کے لئے دفن ہوتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کا یہ مرحلہ سری لنکا میں اپنے انجام کو پہنچنے والی دہشت گردی کے برعکس بڑے امن و سکون سے انجام پا رہا ہے۔

میں نے اس سے قبل 16 جنوری کے کالم میں ایردوان حکومت اور دہشت گرد تنظیم کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے جلد ہی نتیجہ خیز ثابت ہونے کی امید ظاہر کی تھی اور تین سال قبل لکھے جانے والے ایک دیگر کالم میں بھی اپنے قارئین کو آگاہ کیا تھا کہ ترکی میں دہشت گردی کو اگر کوئی جماعت ختم کر سکتی ہے تو وہ بھاری مینڈیٹ رکھنے والی صرف اور صرف ایردوان حکومت ہی ہے۔ (میں نے اپنے ان خیالات سے صدر عبداللہ گل کو اپنے دورہ پاکستان سے قبل بریفنگ دینے کے دوران اور وزیراعظم ایردوان کو ان کے مترجم کے طور پر فرائض ادا کرنے کے دوران آگاہ بھی کیا تھا)۔

ستّر کی دہائی میں شروع ہونے والی دہشت گردی نے اس وقت زور پکڑ لیا تھا جب جنرل کنعان ایورن کی قیادت میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر دہشت گردی نے ترکی پر ایسے پنجے گاڑے کہ اس سے کبھی بھی چھٹکارا نہ پایا جا سکا۔ دراصل دہشت گردی پر قابو پانے کی اس وقت نہ کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی اور نہ ہی ترکی میں اتنی سکت تھی کہ وہ دہشت گردی پر تنہا قابو پالے۔اگرچہ طاقت کے بل بوتے پر اس کو دبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں لیکن کبھی بھی اس پر مکمل طور پر قابو نہ پایا جاسکا۔

P KK ( پارٹی کارکرئین کردستان یا کردستان لیبر پارٹی) کو جس طرح طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش کی جاتی اس سے دہشت گردی کو مزید ہوا ملتی رہی۔ کئی ایک سیاسی جماعتیں دہشت گردی ہی کے زیر سایہ پھلتی اور پھولتی رہی ہیں اور انہوں نے دہشت گردی سے فائدہ اٹھانے کو اپنا وتیرہ بنائے رکھا جس کی وجہ سے ملک کی سیاست، دہشت گردی کے گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ ان جماعتوں میں سے ایک جماعت ترک قومیت پسندی کو ہوا دیتی رہی ہے تو دوسری جماعت دہشت گردی ہی کی آڑ میں کرد قومیت پسندی کا پرچار کرتی رہی ہے اور اس طرح ان دونوں جماعتوں نے عوام کو تقسیم کرنے کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رکھا۔ چار دہائیوں سے جاری رہنے والی دہشت گردی کے نتیجے میں چالیس سے پینتالیس ہزار باشندے ہلاک ہو گئے اور ملک کا مشرقی اور جنوب مشرقی حصہ دیگر حصوں کے مقابلے میں پسماندہ رہ گیا۔

اگرچہ اس دوران مرحوم وزیراعظم اور صدر ترگت اوزال اور مرحوم وزیراعظم نجم الدین ایربکان کی جانب سے دہشت گردی کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن ان کوششوں کو مذاکرات پر یقین نہ رکھنے والی قوتوں کی جانب سے سبوتاژ کیا جاتا رہا اور طاقت ہی کے بل بوتے پر دہشت گردی کو ختم کرنے کا واویلا مچایا جاتا رہا جو دہشت گردی کو مزید ہوا دینے کا وسیلہ بنتا رہا۔ایردوان حکومت نے ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا کیونکہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ جب تک ملک مضبوط بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو جاتا مغربی ممالک اس دہشت گردی کی پشت پناہی کو جاری رکھیں گے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ترکی میں دہشت گردی کے پیچھے کئی ایک مغربی ممالک کا ہاتھ بھی رہا ہے اور مالی طور پر ان ممالک کی جانب سے دہشت گرد تنظیم کی معاونت بھی کی جاتی رہی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ملک کو پسماندگی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور مغربی ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرأت حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم ایردوان نے دہشت گرد تنظیم کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی مغربی ملک کو اس دہشت گرد تنظیم کی پشت پناہی کرنے کی ہمت نہ ہوسکے۔

ترک سیاست اور عالمی سیاست میں ایک چیز بہت مختلف ہے۔ دنیا میں عام طور پر سوشل ڈیموکریٹس انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کا پرچار اور قومیت پسندی اور نسل پرستی کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ ترکی میں سوشل ڈیموکریٹس محدود پیمانے کی جمہوریت اور محدود انسانی حقوق کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ البتہ ایک دور میں سوشل ڈیموکریٹس کی پارٹی SHP نے کرد نمائندوں کو اپنی پارٹی میں جگہ دیتے ہوئے کردوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے ان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس موقع پر کرد نمائندوں نے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارتے ہوئے یعنی پارلیمینٹ میں کردی زبان میں حلف اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور اس کے بعد کسی بھی جماعت نے کردوں کے نمائندوں کو اپنی جماعت میں جگہ دینے کی کوشش نہ کی۔ کرد نمائندے جن کی راہ میں کل ووٹوں کا دس فیصد حاصل کرنے کی شرط یا بیراج حائل تھا نے اس صورتحال سے نکلنے اور پارلیمینٹ کی نشستیں حاصل کرنے کے لئے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور پھر بیس اراکین جنہیں دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی حمایت حاصل تھی نے پارلیمینٹ پہنچنے کے بعد نئے نام پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی BDP کے نام سے جماعت تشکیل دی۔ وزیر اعظم ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی نے مشرقی اور جنوب مشرقی اناطولیہ میں بڑی تعداد میں کرد باشندوں ہی کو منتخب کروا کر اپنی پارٹی میں کردوں کی جماعتBDP سے بھی زیادہ تعداد میں رکن پارلیمینٹ منتخب کرواکر اپنی پوزیشن کو مشرقی اور جنوب مشرقی اناطولیہ میں بے حد مضبوط کر لیا۔ اپنی پشت پر کرد نمائندوں کی حمایت کو محسوس کرنے پر ہی ایردوان حکومت نے دہشت گرد تنظیم PKKکے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور ان مذاکرات کے دوران ایردوان حکومت کو نہ صرف سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی CHPاور قوم پرستوں کی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی MHP کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایردوان اور ان کی پارٹی پر ملک سے غداری کرنے اور شہداء کے خون کا سودا کرنے کے الزامات عائد کئے گئے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ترکی میں دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کی اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ ہے تو وہ بلاشبہ وزیراعظم ایردوان ہی ہیں کیونکہ ایردوان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی کرد باشندوں کے دل جیتنے کے لئے کئی ایک اقدامات کئے تھے جن میں سب سے اہم کردی زبان میں گانا گانے کی اجازت، کردی زبان میں ٹیلی ویژن نشریات کرنے، اخبارات اور جرائد شائع کرنے، یونیورسٹیوں میں کردی زبان کے شعبوں کے قیام کی اجازت اور سب سے بڑھ کر جیلوں میں کرد قیدیوں کو بغیر ترجمان کے اپنے کرد عزیز و اقارب سے کردی زبان میں بات کرنے کا حق دیا جانا ہے جس کے نتیجے میں کرد باشندوں کو اس بات کا پختہ یقین ہو گیا کہ جسٹس اینڈ ڈیولپمینٹ پارٹی، کردوں کے مسائل حل کرنے کے بارے میں کافی حد تک سنجیدہ ہے اور ٹھوس اقدامات کرنے کے لئے تیار ہے۔

ترکی کی خفیہ سروس MITاور دہشت گرد تنظیم پی کے کے،کے درمیان براہ راست شروع ہونے والے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور آخر کار حکومت اور پارلیمینٹ میں کرد باشندوں کی جماعت BDP کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے دہشت گرد تنظیم پی کے کے ان تمام دہشت گردوں کو جو کہ ترکی کی حدود کے اندر موجود تھے کو آٹھ مئی یعنی آج کے روز سے ترکی کی حدود کے اندر سے شمالی عراق جہاں کردوں کی اکثریت ہے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس دوران ایردوان نے ملک کے تمام علاقوں میں دانشوروں کے وفود بھیج کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاکہ ملک میں بھائی چارگی کی فضا کو فروغ دیا جا سکے۔ ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر جمیل چیچک نے ملک کے نئے دور میں داخل ہونے اور آج یعنی 8 مئی کو تمام دہشت گردوں کے ملک کو ترک کرنے کی کارروائی کا آغاز ہونے سے آگاہ کیا ہے۔ ایردوان نے اس موقع پر چار نکات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں صبر، ثابت قدمی، صداقت اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے“۔

ترکی میں چالیس سال سے بھی طویل عرصے جاری رہنے والی دہشت گردی آخر کار اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ کیا پاکستان میں بھی اسی طرح دہشت گردی اپنے انجام کو پہنچ پائے گی؟ کیا پاکستان میں انتخابات کے بعد ایردوان کی طرح کوئی بھی جماعت مضبوط بنیادوں پر حکومت تشکیل دے پائے گی، ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر پائے گی اور عوام کی مکمل حمایت کو اپنی پشت پر محسوس کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور دہشت گردوں کو ملک سے نکال باہر کرے گی؟

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں