ہمارا ووٹ ہمیں واپس دلایا جائے

بشریٰ اعجاز
بشریٰ اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

قارئین! ہم تیزی سے انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ہماری جمہوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تبدیلی اور امید کا جو امتزاج ہمیں حالیہ انتخابات کے حوالے سے اپنے اردگرد دکھائی دے رہا ہے، وہ اس سے قبل صرف 70ء میں ہی دکھائی دیا تھا، جب جذبہ جوش کی شکل اختیار کر گیا اور جوش، جنون میں ڈھل گیا، جس کا نتیجہ پی پی کی عوامی حکومت کی شکل میں سامنے آیا، جس کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت تھی، جس نے نظریے کی بنیاد پر اسٹیٹس کو کی بنیادیں ہلا دیں، اور نظریے نے ایسی ایسی شخصیات کے ذریعے سیاست کے پرانے بت توڑے، جنہیں اس سے قبل کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ یہ سارے عام گھرانوں کے عام لوگ تھے، جو پڑھے لکھے بھی تھے اور کرداروں کے لحاظ سے درست بھی تھے جن کی پہچان بھٹو کی نوزائیدہ جماعت تھی، جس نے نظریاتی ووٹ کے ذریعے، پرانے سیاسی نظام کے پرخچے اڑا دیئے، جو جاگیرداروں، وڈیروں، تمن داروں اور نوکر شاہی کا بنایا ہوا تھا! اس طرح الیکشن 70ء اس لحاظ سے یادگار ٹھہرے کہ اس کے بعد خود ذوالفقار علی بھٹو بھی قوم میں دوبارہ وہ جذبہ پیدا کرنے سے قاصر رہے اور 77ء آ گیا، جو بھٹو جیسے لازوال لیڈر کے زوال کا پیغام لے کر آیا!

اس کے بعد یہاں جو بھی الیکشن ہوئے انہیں الیکشن نہیں سلیکشن کہیں تو زیادہ بہتر ہے! جن میں غیر جمہوری طریق کار کے ذریعے، جمہوریت کی ’’آبیاری‘‘ ہوتی رہی! پرانے فرسودہ نظام کے ذریعے، بیلٹ بکس ایسی ’’پرچیوں‘‘ سے بھرے جاتے رہے، جن پر برادری، گروہی، مذہبی، دھڑے بند جاگیرداری نظام، قبائلی روایات اور جبر کی مہریں چسپاں کر کے جمہوریت کے پاسبان مختلف ادوار میں آتے رہے اور عوام کے ’’حقِ نمائندگی‘‘ کا دعویٰ کر تے رہے، اس دوران ملک پر کیا گزری اور عوام کا کیا حال ہوا؟ یہ داستان پرانی المیہ کہانیوں سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے، یہی وجہ ہے انتخابات کے ذریعے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کا عام خیال آہستہ آہستہ باطل ٹھہرا اور انتخابات محض اِک تماشہ بن کر رہ گئے، ایسا تماشہ، جسے مسائل میں الجھی قوم چند روز دیکھتی، ہلا گلا، گہما گہمی اور شور شرابا دیکھ کر، کچھ دیر کے لئے اپنے مسائل بھول جاتی، تماشہ ختم ہوتا تو کھیل ختم پیسہ ہضم، کا نعرہ لگاتی، تالیاں پیٹتی، اپنے تاریک مستقبل کی گھمبیر سیاہیوں میں دوبارہ لوٹ جاتی، اِک نیا تماشہ دیکھنے کے لئے، جس کے سارے آئٹم، کردار اور کرداروں کے ڈائیلاگ تک اسے ازبر ہیں، اور پردہ اٹھنے سے گرنے تک کے مراحل کے لمحے لمحے سے وہ بخوبی واقف ہے!یہی وجہ ہے ملک میں اس حوالے سے دو واضح طبقات پیدا ہو گئے، ایک تماشے کا جبری اور روایتی حصہ بننے والا طبقہ، اور دوسرا وہ طبقہ، جسے الیکشن نہیں سلیکشن کے کھیل کی سمجھ آتی گئی اور وہ ووٹ اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے عمل سے مایوس ہو کر، گھر بیٹھ گیا، اس کے لئے الیکشن کا دن ٹی وی دیکھنے، تفریح کرنے اور چھٹی گزارنے کا دن بن کر رہ گیا! ٹرن آؤٹ کبھی 29 فیصد کبھی 32 اور کبھی 38 فیصد کی شرح سے سامنے آتا رہا، جس میں جعلی ووٹوں، انتظامیہ کے ذریعے دھاندلی اور بڑے پیمانے پر رِگنگ کا ہاتھ بھی پوری طرح شامل رہا! اور انتخابی نتائج ہمیشہ اسی طے شدہ فارمولے کے ذریعے سامنے آتے رہے! نہ نمائندے بدلے، نہ ہی ان کے رہنما اور نہ ہی ان کے انتخابی نعرے اور وعدے! یعنی ’’مولا جٹ‘‘ کی یہ ساری کہانی ہمیشہ ’’ناصر ادیب‘‘ ہی لکھتا رہا اور وہ سارے سرکٹ میں ’’کھڑکی توڑ‘‘ رش حاصل کرتی رہی، ایک ہی سکرپٹ، پرانی ٹیم اور پرانے کرداروں کے ساتھ ’’باکس آفس‘‘ پر کامیاب ہوتا رہا!

مگر اس دفعہ ایسا نہیں ہے۔ اگر تبدیلی کسی عظیم الجثہ جانور کا نام نہیں ہے، اور وہ ایک باقاعدہ شعوری احساس ہے، جو نہ صرف فرد بلکہ قوم کی تقدیر بدلنے کی طاقت بھی اپنے اندر رکھتا ہے، تو مان لیں کہ تبدیلی آ چکی! جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس ملک کی وہ بڑی اکثریت، جو انتخابات کو تبدیلی کا ذریعہ نہیں ، محض ’’مولا جٹ‘‘ کا ری میک سمجھتی تھی، وہ پہلی دفعہ اسے تبدیلی کا ذریعہ سمجھ چکی ہے، یہی وجہ ہے انتخابی عمل سے مایوس، اس ملک کا دوسرا بڑا طبقہ، جو اس دن کو محض تفریح اور چھٹی گزارنے کا دن سمجھتا تھا، اب اس دن کی اہمیت کا اندازہ لگا چکا ہے۔۔۔ اور اپنے ووٹ کی قدروقیمت اسے معلوم ہو رہی ہے!

یہ تمام لوگ ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے ہیں مگر اس غر ض سے جب انہوں نے اپنے ’’گم شدہ ووٹ‘‘ کو ڈھونڈنا چاہا تو عجیب و غریب حقائق سامنے آنے لگے! مثلاً لاہور ڈیفنس کے رہائشی گھرانے کے ووٹ خانیوال کے کسی دور دراز گاؤں میں نکل آئے جس کا وہ نام تک نہیں جانتے، اسی طرح میری ایک جاننے والی جو ملتان سے تعلق رکھتی ہیں، ان کا ووٹ ڈیفنس لاہور میں رجسٹرڈ ہے! اس ضمن میں حیران کن صورت حال اس وقت سامنے آئی، جب میری افسانہ نگار دوست نیلم احمد بشیر کا فون مجھے آیا، جو نہایت حیرانی سے مجھے بتا رہی تھیں کہ شدید تلاش کے بعد ان کا ووٹ ساہیوال کے کسی دور افتادہ گاؤں میں پڑا ان کا انتظار کر رہا ہے! نیلم کو حیرت اس بات پر تھی کہ گاؤں تو رہا ایک طرف، وہ تو ساری زندگی میں ساہیوال بھی شاید ایک آدھ دفعہ ہی گئی ہوں گی، جبکہ انکل احمد بشیر (مرحوم) جو صحافت کی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کا آبائی شہر ایمن آباد، گوجرانوالہ تھا۔اگر یہ ووٹ ایمن آباد میں رجسٹرڈ ہوتا، تو پھر بھی اس کی ایک وجہ تھی، مگر ساہیوال سے گم شدہ ووٹ کا ملنا اپنی جگہ اک معمے سے کم نہیں، مزید برآں یہ کہ، مودی آنٹی (نیلم احمد بشیر کی والدہ) نیلم کی بہن اسماء وقاص، اور ان کے سارے بچوں کے ووٹ بھی ڈھونڈنے کے بعد ضلع خانیوال کے کسی گاؤں میں پائے گئے ہیں، جس کا نام تک، وہ نہیں جانتے! اس گھرانے کے بارہ عدد ووٹ ہیں، جنہیں وہ تبدیلی کی کتاب میں نہایت شوق سے لکھنا چاہتے ہیں، مگر ووٹ ان کی دسترس سے باہر دکھائی دے رہے ہیں!جب اس معاملے کی خبر لگی تو میں نے بھی اپنے ووٹ کو سنبھالا۔

مگر قارئین! ایک چھوٹا سا دھچکا مجھے بھی اس وقت لگا، جب معلوم ہوا کہ میرا معصوم ووٹ بھی تحصیل ملکوال میں واقع میرے گاؤں میں میرا منتظر ہے حالانکہ میں پچھلے 35 برس سے لاہور میں قیام پذیر ہوں۔ مزید سنئے! جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے اس ضمن میں اپنی اپنی شکایات مجھ تک پہنچائیں! جنہیں فرداً فرداً اس کالم میں پیش کرنا تو ممکن نہیں، مگر 62، 63 کے ذریعے، آئین کا مذاق اڑانے والے الیکشن کمیشن سے مؤدبانہ درخواست ضرورت ہے، کہ خدارا، ہمارا ووٹ ہمیں واپس دلائیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ساری عمر انتخابی عمل سے بیزار رہے، عمر کا بڑا حصہ تبدیلی کے انتظار میں گزارنے کے بعد، یہ موقع ہاتھ آیا ہے، جسے اس وقت یہ مینڈیٹ چور پرانا نظام، ہم سے چھیننے کے در پے ہے! ہم اس دفعہ اپنا ووٹ ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہتے، یہ ہمارا جمہوری استحقاق ہے۔ اس ضمن میں میری الیکٹرانک میڈیا سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس ایشو کو سامنے لائے، اب وقت بہت کم ہے، ایسا نہ ہو، اس دفعہ بھی ہم دیکھتے رہ جائیں، اور ’’مولا جٹ‘‘ کا ری میک باکس آفس پر بھاری مینڈیٹ لے کر ہمارا منہ چڑاتا، ہمارے سر پر وارد ہو جائے، اور ہم میں تالیاں پیٹنے کی ہمت بھی باقی نہ ہو

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں