.

انتخابی نتائج جو آ چکے ہیں

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی جمہوریت ناقص ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کبھی عوام کی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ تسلسل سے محروم رہی اور نتیجتا ًپاکستانی عوام ووٹ کی حقیقی قدر سے روشناس نہ ہوسکے۔ تسلسل رہتا تو قوم ووٹ کی قدرومنزلت سے آشنا ہوجاتی اور جس دن ووٹ کی قدر جان کر عوام نے ذات‘ برادری‘ تعصب اور جذبات سے بالاتر ہوکر ووٹ ڈالنا شروع کیا ‘ اس دن جمہوریت بھی وہ ثمرات لے آئے گی جو ترقی یافتہ ممالک میں لارہی ہے۔ قوم نے اگر آج ووٹ ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کی بنیاد پر دیا تو منتخب ہونے والے حکمران بھی ملک و قوم کی بجائے ذاتی مفاد کو مقدم رکھیں گے ۔ ووٹ دیتے وقت قوم جذبات کا شکار ہوئی تو حکمران بھی جذباتی اورعوام کے جذبات سے کھیلنے والے منتخب ہوں گے ۔ قوم نے ووٹ ڈالتے وقت نسلی‘ لسانی‘مسلکی اور مذہبی تعصبات سے کام لیا تو جو حکمران منتخب ہوں گے وہ بھی انہی لعنتوں کے شکار ہوں گے ۔ گویا آج عوام حکمران ہیں ۔ اپنا ہی نہیں قوم کا مستقبل بھی ان کے ہاتھ میں ہے اور جس سمت چاہیں وہ اگلے پانچ سالوں کے لئے پاکستان کو گامزن کرسکتے ہیں ۔ انتخابات کے نتائج کیا آتے ہیں اور کون حکمران بنتا ہے ‘ اس کا فیصلہ آج ہوجائے گا لیکن کچھ نتائج پہلے سے آچکے ہیں توکیوں نہ آج ان نتائج کا ذکر اور ان پر تبصرہ کیا جائے۔
پہلا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت یعنی پیپلز پارٹی تاریخ میں پہلی بار لاوارث ہوگئی ہے ۔ یہ واحد جماعت تھی کہ جو انتخابی مہم کے دوران قیادت سے محروم رہی۔ ایسا ہر گز نہیں کہ پیپلز پارٹی ختم ہوگئی ۔ جو جماعت چالیس سال میں بنتی ہے ‘ ختم ہونے پر آجائے تو بھی اس کے ختم ہونے میں چالیس سال لگیں گے لیکن لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا زوال شروع ہوگیا۔ پہلے اس جماعت کے امیدواروں کو لیڈرشپ کی وجہ سے ووٹ ملتے تھے لیکن اب یہ پارٹی ان چند درجن منتخب لوگوں کی وجہ سے زندہ رہے گی جو ذاتی حیثیت اور کارکردگی کی بنیاد پر آج کے انتخابات میں کامیاب ہوں گے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اپنی جگہ کھڑی رہتی اور اس کا مقابلہ کرنے والی قوتیں بدلتی رہتی تھیں لیکن حالیہ انتخابات میں یہ حیثیت مسلم لیگ (ن) کو حاصل ہوگئی اور پیپلز پارٹی کی جگہ تحریک انصاف نے لے لی۔ گزشتہ چالیس سالوں میں سیاست پرو پیپلز پارٹی (Pro PPP) اور اینٹی پیپلز پارٹی (Anti PPP) میں تقسیم رہی لیکن لگتا ہے کہ اگلے سالوں میں وہ پرو مسلم لیگ اور اینٹی مسلم لیگ کی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔

دوسرا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ تحریک انصاف کی شکل میں پاکستان کے اندر ایک نئی ‘ منفرد اور قومی سیاسی جماعت کا اضافہ ہوگیا۔ مجموعی طور پر ابھی اس کی سیاست پر ناپختگی کا غلبہ ہے لیکن حالیہ انتخابات کے بعد اس میں پختگی بھی آجائے گی ۔ کل تک اس جماعت کے قائد عمران خان ایک جذباتی اورمتحرک انسان تھے لیکن سیاستدان نہیں تھے ۔ انہوں نے جس انداز میں انتخابی مہم چلائی اور پھر جس طریقے سے انہوں نے ہسپتال سے ویڈیو پیغامات بھجوائے‘ اس نے ثابت کردیا کہ وہ اب سیاستدان بن گئے ہیں ۔ اسٹیٹسمین ابھی نہیں بنے لیکن توقع ہے کہ انتخابات کے بعد اس حوالے سے بھی ان کی تربیت شروع ہوجائے گی ۔عمران خان کی سیاست کے ابتدائی دنوں کی طرح ابھی ان کے چاہنے والوں کے ہاں بھی عقل سے زیادہ جذبات کا غلبہ ہے لیکن امید ہے کہ انتخابات کے بعد وہ بھی دھیرے دھیرے عقل کا استعمال شروع کردیں گے ۔ تحریک انصاف کا اس حیثیت میں سیاسی افق پر ابھر جانا ملک اور جمہوریت کے لئے ایک نیک شگون ہے ۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ملک میں لبرل اور مذہبی کی ایک خطرناک تقسیم کا عمل جاری تھا اور تحریک انصاف کا شمار ان جماعتوں میں ہوتا ہے جو اس خطرناک تقسیم کا راستہ روکتی اور دونوں طبقات کا ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہیں ۔ قومی جماعتیں ملکی یکجہتی کی ضامن ہیں اوردیگر قومی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی اب ایک ایسی قومی جماعت بن گئی ہے جس کی تنظیم چترال سے لے کر کراچی تک اور گوادر سے لے کر گلگت تک فعال ہے ۔

تیسرا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ باوجود ہزار خرابیوں کے مجموعی طور پر ہماری سیاست‘ متانت اور سنجیدگی کی طرف گامزن ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑاچھالنے اور ذاتی زندگی کے مناظر کو محفوظ کرنے اور سامنے لانے کے کئی نئے ذرائع سامنے آچکے ہیں ۔ سوشل میڈیا جس کو ان سوشل میڈیا کہنا زیادہ مناسب ہے‘ کا ہتھیار اس کے علاوہ ہے ۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ حالیہ انتخابات میں بدتمیزی ‘ بداخلاقی اور ذاتی زندگیوں سے متعلق گند اچھالنے کے تمام ریکارڈ توڑ دئے جائیں گے لیکن حیرت انگیز طور پر ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں ان انتخابات کے دوران یہ قباحتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے اگرچہ کسی حد تک تجاوز ہوا لیکن نئی جماعت ہونے کے ناتے اس کو رعایت دی جاسکتی ہے ۔ اس مثبت تبدیلی کا شاندار مظاہرہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے لفٹر سے گر جانے کے بعد دیکھنے کو ملا۔ حادثہ کی خبر ملتے ہی ان کے سب سے بڑے مخالف میاں نوازشریف نے اپنے جلسے میں ان کی صحتیابی کے لئے دعا کی۔ اگلے دن کے جلسے منسوخ کئے۔ عمران خان کے سیاسی تضادات پر مبنی جو اشتہار بنایاگیا تھا ‘ وہ ٹی وی چینلز کو جاری کئے جانے کے باوجود اس وقت تک رکوادیا گیا جب تک عمران خان کی صحت کے بارے میں اطمینان نہیں ہوا۔ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین ‘ سید منور حسن اوردیگر سیاسی رہنماؤں حتیٰ کہ آصف علی زرداری نے بھی اس روش کا مظاہرہ کیا۔ سید یوسف رضاگیلانی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے اگلے روز تحریکانصاف کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھے نظر آئے ۔ یہ سب اس مثبت تبدیلی کے مظاہر ہیں۔

حالیہ انتخابات کے دوران ایک اور مثبت نتیجہ ایم کیوایم ‘ اے این پی اور پیپلز پارٹی کی جنگ بندی کی صورت میں سامنے آیا۔ ان تینوں جماعتوں کے تناؤ کی وجہ سے ہر روز کراچی میں کم وبیش دو درجن معصوموں کی لاشیں گرتی تھیں ۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہم لوگ ہزاروں ٹاک شوز اور کالموں کے ذریعے ان جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں لاسکے لیکن انتخابات کی برکت اور تحریک طالبان کی حرکت سے ڈاکٹر فاروق ستار صاحب مردان ہاؤس اور شاہی سیدصاحب نائن زیرو جاپہنچے۔ یہ دوستی حقیقی دوستی میں بدل کر دیرپا ثابت ہوئی تو اس کا کراچی کی اور نتیجتاً پاکستان کی صحت پر نہایت خوشگوار اثر پڑے گا۔

ایک اور نتیجہ جو حالیہ انتخابی مہم کا سامنے آیا اور تجربے کی روشنی میں اس پر مہرتصدیق ثبت ہوئی ‘ وہ یہ ہے کہ قومی معاملات یا ملک چلانے کے حوالے سے صرف نیک اور اصولی ہونا کافی نہیں بلکہ صلاحیت اور استعداد کا ہونا ضروری بلکہ شاید مقدم ہے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومتوں کی کارکردگی نے یہ ثابت کردیا کہ اگر استعداد اور صلاحیت کا فقدان ہو تو کوئی خواہ کتنا ہی غیرمتنازعہ کیوں نہ ہو‘ مثبت تبدیلی نہیں لاسکتا۔ انتخابات میں اگر دھاندلی کا امکان کم ہوگیا تو وہ فخرالدین جی ابراہیم کا نہیں بلکہ ان انتخابی قوانین کا کمال ہے جو اس سے پارلیمنٹ نے بنائے ورنہ تو فخرالدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا کردار ایک تماشائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ ان کے بے داغ ماضی کی وجہ سے جو توقعات ان سے وابستہ کی گئی تھیں‘ ان پر وہ بالکل پورا نہیں اترے۔ جبکہ نگران حکومتوں نے تو نااہلی کے نئے ریکارڈ توڑدئے۔ ہم توقع لگائے بیٹھے تھے کہ نگران دورمیں حالات بہتر اور انتخابات کے لئے سازگار بنادئے جائیں گے لیکن اس دور میں حکومت نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آئی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قومی اور سیاسی معاملات میں پاک صاف ہونا بھی ضروری ہے لیکن اس سے شاید زیادہ ضروری صلاحیت اور اہلیت ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آج کے انتخابات میں جو بھی جیتے ‘ بہرحال ملک اور قوم کے لئے نتیجہ بہتر نکلے گا۔ پچھلے سالوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ ہر چھوٹی بڑی جماعت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہی قوم کی نمائندہ ہے اور اٹھارہ کروڑ عوام اس کے ہمنوا ہیں ۔ یہ پہلا انتخاب ہے کہ جس میں کوئی بڑا انتخابی اتحاد سامنے نہیں اور سب جماعتیں اپنی اپنی قوت کے ساتھ میدان میں ہیں۔ آج پتہ چل جائے گا کہ قوم کس کے ساتھ ہے اور کون کتنے پانی میں ہے۔ اب کے بار چونکہ الیکشن کمیشن بھی سب کے اتفاق سے بنا ہے او رنگران حکومتوں کو بھی کم وبیش سب سند جواز فراہم کرچکے ہیں ‘ اس لئے اگر مگر کی زیادہ گنجائش نہیں ہوگی ۔ یہ بات بھی طے ہے کہ کوئی بھی جماعت تنہا مطلق اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور زیادہ امکان یہی ہے کہ جو حکومت بنے گی ‘ وہ کم وبیش قومی حکومت ہوگی ۔ یوں ہماری قومی حکومت کی آرزو بھی پہلی مرتبہ ایک اور شکل میں پوری ہوجائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.