انسانی حقوق کی پامالی پر امریکہ اور روس میں تکرار

پروفیسر شمیم اختر
پروفیسر شمیم اختر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

بارہ اپریل کو محکمہ خزانہ نے ایک فہرست میں 16 روسی اور 3 شیشانی حکام کے نام درج تھے جن پر روس میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل Sergei magnitsky کو قیدخانے میں تشدد کر کے قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا امریکہ نے 2012ء میں Magnitsky Act نامی خاتون کے ذریعے 37 سالہ سر گئی کے قتل میں ملوث روسی اہلکاروں کے امریکہ میں بینک کھاتے ضبط اور ان کی امریکہ آمد پر پابندی عائد کر دی۔ نیز امریکہ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اس کے پاس ایسے دیگر روسی افسروں کے ناموں کی فہرست ہے جو انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ دار ہیں اور اسے کسی وقت بھی شائع کیا جا سکتا ہے۔ 12 اپریل کو اس فہرست کے شائع ہوتے ہی روس نے دوسرے ہی دن 18 امریکی حکام کی فہرست شائع کر دی جن پر گوانتاناموبے میں زیرحراست افراد پر دوران تفتیش تشدد کی اجازت سے متعلق مسودہ قانون تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس میں سابق امریکی نائب صدر Dick Cheney کے دفتر کے سربراہ Spears Addington کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی جج Jed Rakoff محکمہ استغاثہ Prosecution کے عمل کے علاوہ FBI ایجنٹ Gregory Cdeman کے نام بھی درج تھے۔ امریکہ کی طرح روس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس کے پاس بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث کئی امریکیوں کا ریکارڈ ہے جن کا نہ صرف نام شائع کیا جائے گا بلکہ ان کو ان کے کئے کی سزا بھی دی جائے گی۔

ان دونوں طاقتوں نے ایک دوسرے پر انسانی حقوق اور قانون انسانیت International Humanitarian Law کی خلاف ورزیوں کے جو الزامات لگائے ہیں وہ بالکل درست ہیں لیکن جب گوانتاناموبے، ابوغریب اور بگرام کے امریکی عقوبت خانوں میں بے گناہ قیدیوں پر کسی عدالت میں فرد جرم عائد کر کے مقدمہ چلائے بغیر جسمانی، ذہنی، جنسی اذیت پہنچائی جا رہی تھی افغانستان پر ڈیزی کٹر اور فاسفورس بم گرائے جا رہے تھے، وزیرستان پر ڈرون حملے کئے جا رہے تھے، مساجد، مدارس، پانی کے ذخائر، کھڑی فصلوں اور سرسبز باغات پر میزائل داغے جا رہے تھے تو روس اس گھناؤنے جرائم کی مذمت تو کجا امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی جنگ کی بھرپور حمایت کر رہا تھا اور اپنی سرزمین سے افغانستان پر قابض نیٹو اور امریکی افواج کو سامانِ حرب اور ایندھن لے جانے والے قافلوں کو راہداری کی سہولیات فراہم کر رہا تھا۔ ابھی بوسٹن میں نامعلوم افراد کی جانب سے کئے گئے دھماکے میں تین اموات کیا واقع ہوئیں کہ پیوٹن امریکہ کے جرائم بھلا کر اوباما کے ساتھ کھڑا ’’دہشت گردی‘‘ کا مقابلہ کرنے کا عہد کر رہا ہے۔ کیا اس نے کبھی امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے مرد، عورتوں اور بچوں پر رسمی تاسف بھی کبھی کیا؟ روس اور چین نے 2001ء میں جو شنگھائی تنظیم برائے تعاون قائم کی تھی اس کا اصل مقصد تونجبانگ، تبت اور شیشان کی عوامی تحریکوں کو کچلنا تھا۔

بھلا ان ریاستوں کی مقامی آبادی کا علاقائی خودمختاری کے مطالبے کو کیسے دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے؟ تونجیانگ ترک نژاد قوم کا آبائی وطن ہے لیکن کمیونسٹوں کے اقتدار میں آتے ہی ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ وہاں ترقی و تعمیر کے منصوبوں کی آڑ میں جنوبی اور مشرقی چین سے HAN نسل کے چینیوں کو بسایا جاتا رہا جس کے باعث اب زنجبانگ کے فرزندان زمین اقلیت بن گئے ہیں۔ اس طرح تبت کے لکھوکھ ہاباشندے اپنا وطن ترک کر کے دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پھر بھلا زنجبانگ کے ترک نژاد مسلمانوں اور تبت کے بدھوں کو چین کے حکمرانوں سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ جب انہوں نے 1989ء میں بیجنگ، ٹی چوک Tiananmen Squire میں دھرنا دیئے چینیوں کو ٹینکوں نے کچل ڈالا جبکہ 1993ء میں روس کے آمر بورس یلسن نے 1993ء میں روسی پارلیمان (Duma) کی عمارت سمیت اس میں موجود ارکان پارلیمان کو توپوں سے اڑا دیا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ صدر یلسن کے آمرانہ طرز حکمرانی پر نکتہ چینی کرتے تھے۔ کیا زار روس نے کبھی Duma پر گولے باری کرائی تھی؟ پیوٹن نے روس کی صدارت سنبھالتے ہی شیشان کی حکومت سے کئے گئے اپنے پیشرو کے معاہدے کو چاک کر کے اس بارہ لاکھ والی مسلم آبادی پر فوج کشی کر دی، گروزنی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ملک کو کھنڈر بنا دیا اور ان پر روسی پٹھو قدیروف کو مسلط کر دیا۔

کیا کبھی روس اور چین نے فلسطین پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے پر اس کے خلاف پابندیاں عائد کیں؟ کیا کبھی اسرائیل کے ایٹمی اسلحہ کے بارے چین اور روس نے اس پر پابندی عائد کیں؟ البتہ ایران اور عوامی جمہوریہ کوریا کے جوہری منصوبے پر سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف سخت ترین سیاسی، مالی اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق امریکی قراردادوں کی بھرپور حمایت کی جبکہ اسرائیل کے برعکس یہ دونوں ریاستیں جوہری اسلحے کے عدم پھیلاؤ معاہدہ NPT پر نہ صرف دستخط کر چکی ہیں بلکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے اپنی جوہری تنصیبات کا بار بار معائنہ کرتی رہی ہیں، ترقی پذیر ممالک کی خودمختاری اور اقتصادی ترقی کی حمایت کا بار بار اعلان کرنے کے باوجود روس اور چین، ایران اور عوامی جمہوریہ کوریا کے پرامن جوہری منصوبوں کی مخالفت کرتے رہے۔ کہاں گئے ان کے وہ بلندبانگ دعوے کہ وہ یک قطبی نظام کی بجائے کثیرالقبطی Multi-Polar نظام کے لئے کوشاں ہیں۔

ابھی زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے جب 22 مارچ کو چین کے نومنتخب صدر Xijinping اور ولادی میر پیوٹن نے ماسکو میں بین الاقوامی قانون پر مبنی منصفانہ عالمی نظام کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ہی الماتی میں چین اور روس نے مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایران کو 20 فیصد یورینیم کی افزودگی بند کرنے کی ہدایت کی۔ کیا کبھی چین اور روس نے اسرائیل سے اس کے جوہری اسلحہ ساز کارخانوں کا معائنہ کرنے کا مطالبہ کیا، امریکہ تو برملا کہتا ہے کہ اسے ایران کے جوہری اسلحہ ساز منصوبے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اسی لئے اس نے پولینڈ اور چیک جمہوریہ میں میزائل شکن ڈھال اور ریڈار نصب کر دیا ہے۔ کیا واقعی روس ایسا سمجھتا ہے کہ 1975ء میں امریکہ اور سوویت یونین کے مابین توازن رکھنے کے لئے جو ڈھال نصب کی گئی تھی اس کے علاوہ امریکہ نے یورپ میں ایک فاضل میزائل شکن نظام قائم کر کے اپنی مزید تنصیبات کو ممکنہ میزائل حملوں سے محفوظ کر لیا ہے جبکہ روس نے اپنے دیگر علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے اس نظام میں کوئی توسیع نہیں کی لہٰذا اب امریکہ کو اس پر عسکری حیثیت سے برتری حاصل ہو گئی ہے جس کے بل بوتے پر وہ روس سے اپنے تزویراتی مطالبات منوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب واضح طور پر امریکہ کو روس پر برتری ہو گئی ہے جبکہ روس شاید اپنے لئے مزید میزائل شکن تنصیبات کے لئے وسائل نہیں رکھتا۔

صدر پیوٹن امریکہ یہ چال سمجھ گیا اس لئے اس نے امریکہ کے مقابلے میں توازن طاقت برقرار رکھنے کے لئے عوامی جمہوریہ چین سے مل کر 2001ء میں شنگھائی تعاون تنظیم بنائی جسے امریکی مبصرین مشرقی معاہدہ وارسا سے تعبیر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں روس وسط ایشیائی ریاستوں یو کرین بائلو روس Bylorussia کے مساعی ایشیائی یورپی اتحاد Eurasian Bloc بنانا چاہتا ہے، جسے یورپی یونین اپنا حریف تصور کرتی ہے۔ ان معاہدوں سے امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کو کچھ دھچکا تو ضرور لگا ہے لیکن جب تک روس اور چین کو افرایشیائی ریاستوں کی حمایت نہیں حاصل ہوتی محض شنگھائی اور یوریشین بلاک توازن طاقت میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہیں عمل میں لا سکتے۔

ابھی یک قطبی نظام ٹوٹا نہیں اس میں چند دراڑیں ضرور پڑ گئی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اب جنوب کی ریاستیں اقتصادی اور فنی امداد کے لئے چین سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک کو مالی امداد فراہم کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ اگر چین اور روس ان کے بیش بہا قدرتی وسائل تک رسائی چاہتے ہیں تو انہیں ان ممالک پر مسلط امریکی اجارہ داری کو توڑنے کے لئے وہاں کی محب وطن قوتوں کو مغرب کے نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنے کے لئے روس اور چین کو ان کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت کرنی پڑے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ روس اور چین کو امریکہ کی حمایت کی بجائے کیوبا، وینزویلا، نگاراگوا، عوامی جمہوریہ کوریا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح کی امداد کرنی پڑے گی۔ جب یہ ریاستیں امریکی جارحیت کے خطرے سے خود کو محفوظ سمجھنے لگیں گی تو عالمی سیاست میں اپنا بھرپور وزن کثیرالقطبی کے پلڑے میں ڈالیں گی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں