.

نالہٴ خام ... شورش ِدل

ادریس بختیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شکست… مگرکس کی؟ سیاسی جماعت کی؟ نہیں۔جمہوری نظام میں سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں،کبھی اقتدار میں کبھی اقتدار سے باہر۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔انتخابات ہوتے ہیں،عوام اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور کسی ایک جماعت کو منتخب کر لیتے ہیں۔ باری باری ایسا ہوتا رہتاہے۔ برسر اقتدار جماعت کو ووٹ نہیں ملتے،کسی دوسری جماعت کو مل جاتے ہیں پھر کسی اور جماعت کو۔ جہاں دو جماعتی نظام مضبوط ہو گیا ہے وہاں یہ جمہوری نظام کا خاصا ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ شکست مگر ہوئی ہے۔سیاسی جماعت کی نہیں، تجزیہ کاروں کی۔ان میں سے بیشتر کے اندازے بالکل غلط ثابت ہوئے ہیں۔ ثابت ہوا تو بس یہ کہ ہمارے تجزیہ کاروں، دانشوروں کو زمینی حقائق سے ذرا کم ہی آگہی ہے۔ جب سے انتخابات کی گہما گہمی شروع ہوئی بلکہ اس سے ذرا پہلے سے،اخبارات کے کالموں میں ہر روز ہی، ایک سے زیادہ تجزیئے شائع ہوتے تھے۔ ایک تجزیہ ایک جماعت کے حق میں،دوسرا ،دوسری کے حق میں۔ تجزیہ کاروں کی اکژیت حقائق سے باخبر نہیں تھی۔ اب اگر پرانے کالم دوبارہ پڑھے جائیں تواندازہ ہو جائے گا یہ کالم، یہ تجزیہ، یہ دانشورانہ اظہارغیر جانبدار نہیں تھے۔ لکھنے والوں کی اپنی خواہشات، پسند نا پسند ان میں سے اکثر تحریروں میں صاف نظر آتے ہیں۔

کسی جماعت کو پسند نا پسند کرنا ہر شخص کا حق ہے اور یہ شاید ممکن بھی نہیں کہ ایک ذی شعور کسی رائے کا حامل نہ ہو، یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے مگر اپنی رائے،اپنے تک رکھیں۔ اپنی تحریر کو اس سے متاثر نہ ہونے دیں۔آپ کے ذاتی خیالات آپ کے تجزیوں کو حقائق سے دور کر دیتے ہیں۔یہی ہوا، صبح سے شام تک،اپنی پسند کی سیاسی جماعت کے حق میں، بڑے طمطراق کے ساتھ، اپنی رائے کا اظہار کیا جاتا رہا،یوں جیسے ساری قوم کے خیالات سے یہ سب دانشور آگاہ ہیں۔ مگر ہوا کیا؟ ان میں سے بیشتر کے، بھاری اکثریت کے تجزےئے عوام نے مسترد کر دیئے۔ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اپنے آرام دہ ڈرائنگ روم میں ایئرکنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھے،ان میں سے اکثر کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ باہر شدید گرمی میں روزی کماتی قوم کی اکثر یت کیا سوچ رہی تھی، بس ان کی ذاتی پسند نا پسند تھی اور بس، اسی پر سارے تجزیوں کا انحصار تھا۔

اور یہ وہ تجزیہ کار اور دانشور ہیں کہ انہیں جب بھی موقع ملے، ملک اور عوام کو درپیش مشکلات ،ان کے مسائل پر گھنٹوں گفتگو کر سکتے ہیں، کرتے ہیں اور ان کے حل بھی بتاتے ہیں۔ مسئلہ کوئی بھی ہو،انہیں اس کی وجوہات کا اتنی گہرائی سے پتہ ہوتا ہے… ان کے اظہار سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلے سے دوچار آدمی یا گروہ کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا اور جب یہ اس کا حل بتاتے ہیں تو وہ جو مسئلے کو سمجھتے ہیں، مسائل حل کر سکتے ہیں،پیشہ ور ہوتے ہیں،دانتوں میں انگلیاں دبا لیتے ہیں،مذاق بھی اڑاتے ہوں گے،اڑانا بھی چاہئے۔ایک عام آدمی کے سامنے تو آپ اپنے مبلغ علم کا رعب جما سکتے ہیں،وہ بے چارہ اس خاص معاملے سے واقفیت نہیں رکھتا لیکن جو جانتے ہیں،ہنستے ہوں گے۔

دفاع کا معاملہ ہو،کوئلے سے بجلی بنانے کا، تعلیم ہو یا صحت، کسی بھی شعبے کا کوئی بھی مسئلہ ہو، ان کی رائے حتمی ہوگی۔وہ پیش ہی اس طرح کرتے ہیں کہ پڑھنے سننے والے کو حتمی لگے… اور خود انہیں تو یقین ہوتا ہے کہ تمام مسائل کا صرف وہ حل قابل عمل ہے جو وہ پیش کرتے ہیں۔اس کا اصل مسئلے سے اور اس کے شکار عوام سے کتنا تعلق ہے،اس کا اندازہ گیارہ مئی کو ہو گیا۔ عوام کیا سوچ رہے تھے، تجزیہ کاروں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ کسی کو کسی کا پُرجوش جلسہ تبدیلی کا نقیب لگتا۔”آپ کو اندازہ نہیں ہے ،وہ بھاری اکثریت حاصل کر لے گا“ ایک دانشور دوست بضد تھے۔ ووٹ پڑنے شروع ہو گئے تھے مگر نتائج آنے میں ابھی بہت وقت تھا۔ فلاں شہر کی (وہ اس شہر میں رہتے ہیں) آدھی سے زیادہ نشستیں اسے ملیں گی باقی فلاں کو اور باقی فلاں کو۔ شام گئے مگر وہ ٹھنڈے پڑ چکے تھے،کئی اور بھی۔ ان سب کے تجزےئے بالکل غلط ثابت ہوئے ، بالکل ہی غلط۔ وجہ؟یہ کہ ان کی رائے زمینی حقائق کے صحیح تجزےئے پر مبنی نہیں تھی ، کبھی نہیں ہوتی۔ ذاتی رائے کو تجزیہ بنا کر پیش کریں تو نتائج ایسے ہی سامنے آتے ہیں۔ آپ کی پسند سب کی پسند نہیں ہوتی۔

اندازہ ہوا، اس ملک کے مسائل کیوں حل نہیں ہوتے؟ حقائق سے نا آشنا لوگ،اپنی ذاتی رائے کو حقائق پر ترجیح دیتے ہیں۔ مسئلے کا وہ رخ پیش کرتے ہیں جو انہیں پسند ہو، حل بھی ایسا ہی ، یکطرفہ۔ نتیجہ یہ کہ مسائل اپنی جگہ نہ صرف موجود رہتے ہیں بلکہ گمبھیر ہوتے جاتے ہیں۔ یہ کسی کی سنتے تو نہیں مگر کہنے میں کیا حرج ہے کہ اپنی رائے، اپنی پسند نا پسند، اپنے تک رکھیں۔ تحریر دیانتداری کا تقاضا کرتی ہے،وہ آپ کی نہیں عوام کی ملکیت ہے۔ دیانتداری اختیار کریں۔آپ کی ثقاہت، آپ کی معتبری کے لئے،عوام کی بھلائی کے لئے۔

نالہ ہے بلبلِ شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.