.

نواز شریف اور عمران خان کی آزمائش

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان جیسے ممالک میں انتخابات منصفانہ اور شفاف اتنے ہی ہوسکتے تھے جتنے 11مئی کو ہوئے ۔جیسی روح ویسے فرشتے کی ضرب المثل ان انتخابات پر صادق آتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر جیتنے والی چاروں پانچوں پارٹیاں اپنی اپنی وجوہ کی بنا پر دھاندلی کی شکایت کررہی ہیں اور ساتھ ہی مبارکباد وصول کرنے میں مصروف بھی ۔

مسلم لیگ (ن) کی کامیابی میرے لئے تعجب انگیز نہیں، پیپلز پارٹی کی شکست بھی متوقع تھی تاہم کامیابی کا حجم شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی پانچ سالہ کارکردگی، پنجاب میں دوسرے صوبوں کی نسبتاً بہتر طرز حکمرانی،30اکتوبر کے جلسے کے بعد سیاسی فعالیت اور میاں شہباز شریف کی طرف سے نوجوانوں کے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کی کوششوں کے علاوہ ٹکٹوں کی تقسیم میں ز مینی حقائق کو مدنظر رکھنے اور انتخابات کی اہلیت و صلاحیت سے مالامال امیدواروں کی نامزدگی کو دیکھ کر کوئی بھی غیر جانبدار اور سیاسی حرکیات سے واقف شخص بآسانی اندازہ لگا سکتا تھا کہ کامیابی کس کا مقدر بن سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی اور اے این پی نے دوران اقتدار جو بویا11مئی کو وہی کاٹا۔ پاکستان کی تاریخ میں ناقص طرز حکمرانی اور عوامی جذبات و خواہشات کو یکسر نظر انداز کرنے کی اس سے زیادہ بری مثال ڈھونڈے سے نہیں ملے گی جو ان دونوں پارٹیوں نے پیش کی۔ کرپشن اس پر مستزادااس کے باوجود سندھ کے عوام کا حوصلہ ہے کہ انہوں نے پھر بھی ٹیلی ویژن کی سکرین پر ہونے والی نوحہ گری سے متاثر ہو کر مزید پانچ سال تک حکمرانی کا حق ایک ایسی جماعت کو سونپا جو ان کے لئے کچھ نہیں کرسکی۔ار

گیارہ مئی کے انتخابات نے میاں نواز شریف اور عمران خان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔پی ٹی آئی کے پارٹی لیڈر دل کے بہلانے کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے مختصر وقت میں پیپلز پارٹی سے بہتر پرفارم کیا اور دوسری بڑی انتخابی قوت بن گئے، مگر نوجوان مشتعل، مایوس اور دل گرفتہ ہیں وہ برملا ووٹ چرانے اور نتائج بدلنے کی بات کررہے ہیں اگر خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کرکے تحریک انصاف اقتدار کے کھیل کا حصہ بن گئی تو پنجاب، کراچی اور دوسرے مقامات پر نوجوان مایوسی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے جس طرح 30اکتوبر 2011ء کے بعد جھرجھری لی اور سیاسی میدان میں تلافی مافات کی اب مرکز اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت ملنے کے بعد اپنی بہتر کارکردگی ،نوجوانوں کے لئے پرکشش اقدامات اور سیاسی میدان میں فوری رابطے کے ذریعے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو متاثر اور نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرسکتی ہے جبکہ جو لوگ انتخابی کامیابی اور اقتدار میں حصہ داری کے نقطہ نظر سے عمران خان کے ارد گرد جمع ہوئے تھے وہ بھی ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی اپنی راہ لے سکتے ہیں۔1997ء میں یہی ہوا تھا ۔

محض دھاندلی کا شور مچا کر اپنے آپ کو تسلی دینا اور شکست کے اسباب تلاش نہ کرنا تحریک انصاف کی قیادت بالخصوص عمران خان کی غلطی ہوگی۔ انٹرا پارٹی الیکشن میں غیر معمولی طوالت، ٹکٹوں کی تقسیم میں لین دین کے الزامات اور انتخابی کامیابی کے حوالے سے غیر معمولی اعتماد نے اس پرجوش اور پرامید جماعت کو نقصان پہنچایا جبکہ انتخابی مہم کے دوران نچلے طبقے تک پیغام پہنچانے اور غریب آبادیوں میں بسنے والے ووٹروں بالخصوص دیہی ووٹروں سے رابطہ کرنے میں بھی تحریک انصاف ناکام رہی۔کسی بھی جماعت سے اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ بھی ضرررساں ثابت ہوا اور شاید صدر زرداری سے زیادہ شریف برادران کو ٹارگٹ کرنے کی حکمت عملی بھی مفید ثابت نہیں ہوئی۔ عمران خان کو ایک حقیقت پسندرہنما کے طور پر وسیع تر مشاورت کا اہتمام کرکے اپنی غلطیوں اور مسلم لیگ(ن) کی کامیاب حکمت عملی کا جائزہ لینا چاہئے اور مرکز کے علاوہ چاروں صوبوں میں اپوزیشن لیڈرقائدانہ کردارمنتخب کرنا چاہئے ورنہ تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ کلین سویپ کے سنہرے خواب دکھانے والے ساتھیوں کی گوشمالی بھی ضروری ہے۔

میاں نواز شریف کو اقتدار اس وقت مل رہا ہے جب جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں اور پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ ناقص کارگزاری کی وجہ سے ملک آتش فشاں بن چکا ہے ۔دہشتگردی ،لوڈ شیڈنگ، زوال پذیر معیشت اور بے روزگاری کے مسئلہ سے نمٹنا آسان نہیں جبکہ افغانستان سے امریکہ کا فوجی انخلاء بذات خود ایک مسئلہ ہے جو پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اثرانداز ہوگا۔ ڈرون حملے بدستور جاری رہے تو شریف حکومت ذمہ دار قرار پائیگی اور امریکہ نوازی کا طعنہ سننا پڑیگا جبکہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا بھی مجبورہوگی۔ نوٹ چھاپ کر معیشت چلانا شاید اب ممکن نہ ہو اور نمائشی اقدامات سے قوم کو مطمئن کرنے کا زمانہ بھی گزر گیا۔ مقابلے میں اب پیپلز پارٹی کی کنفیوزڈ اور مضمحل قیادت نہیں بلکہ تازہ دم تحریک انصاف ہوگی جس نے تین صوبوں میں اکثر جیتنے والے امیدوارکو ٹف ٹائم دیا اور نوجوانوں کی قوت کا مظاہرہ کیا۔

تین صوبوں میں مخالف حکومتوں کی موجودگی میں وفاق کو بہتر انداز میں چلانا اور میڈیا، عدلیہ، فوج سے بہتر تعلقات کار قائم کرنا تاکہ نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والی رنجشیں اور بدگمانیاں ختم ہوسکیں بہت بڑا چیلنج ہے۔ آزاد عدلیہ اور فعال میڈیا سے گزارا کرنا کسی حکومت کے لئے آسان نہیں ، خاص طور پر اس وقت جب حکمرانوں میں مطلق العنانیت کے جراثیم بھی موجود ہوں۔ میاں صاحب کو امریکہ و بھارت سے تعلقات میں بھی توازن قائم کرنا پڑیگا اور اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ وہ خطے میں امریکی خواہشات کے مطابق حساس نوعیت کے مسائل کو نظرانداز کرکے صرف تجارت کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انسان کو اقتدار انعام کے طور پر ملتا ہے یا امتحان کے لئے ، اگر میاں صاحب اور ان کے برادر خورد نے اسے امتحان سمجھا تو بالآخر انعام ثابت ہوگا لیکن اگر انعام سمجھ کر خوشامدیوں اور حاشیہ نشینوں کی مبارک سلامت میں مگن ہوگئے تو یہ امتحان بن جائیگا۔

آزمائش مگر میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں کی ہے ۔ایک کو بہتر طرز حکمرانی سے اپنے مینڈیٹ کا دفاع کرنا ہے اور دوسرے کو اچھے اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنے نوجوان ساتھیوں کے جذبات و احساسات کی پاسداری تاکہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور گھر میں جابیٹھنے کے بجا ئے میدان میں جو ش و جذبے کے ساتھ موجود رہیں یہی سپورٹس مین سپرٹ ہے اور اسے جمہوری اقدار و روایات کا حسن قرار دیا جاتا ہے۔ دیکھیں کون زیادہ عملیت پسند ثابت ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.