نیا پاکستان

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

حاجی غلام احمد بلور پشاور کی بلور فیملی کے معتبر بزرگ ہیں، پاکستان کا پہلا انتخابی حلقہ این اے ون بلور فیملی کا مرکز ہے، یہ لوگ برسوں سے اس علاقے میں آباد ہیں اور یہ حلقے کے ایک ایک خاندان، ایک ایک بزرگ اور ایک ایک بچے کو جانتے ہیں، یہ منکسرالمزاج اور خاندانی لوگ ہیں چنانچہ پشاور کے عوام ان کا احترام کرتے ہیں مگر حاجی غلام احمد بلور پانچ سال کی بیڈگورننس، پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی سنگت اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوتی فیملی کی کرپشن کی وجہ سے الیکشن ہار گئے، این اے ون ہمیشہ بلوروں کا حلقہ رہا، حاجی غلام احمد بلور نے 1993ء میں اسی حلقے سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہرایا لیکن یہ اس بار اپنے حلقے سے ہار گئے، حاجی صاحب کے پاس ہارنے کے بعد دو آپشن تھے، یہ مولانا فضل الرحمن کی طرح دھاندلی کا الزام لگا دیتے، نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے اور کارکنوں کو سڑکیں بلاک کرنے کی ذمے داری سونپ دیتے یا پھر یہ کھلے دل سے اپنی شکست مان لیتے۔

حاجی صاحب نے دوسرا آپشن چنا، انھوں نے اپنی شکست مان لی اور عمران خان کو مبارک باد پیش کر دی یوں حاجی صاحب الیکشن2013ء میں ہار ماننے اور کامیاب امیدوار کو مبارکباد پیش کرنے والے پہلے سیاستدان ثابت ہوئے اور اس عظیم جمہوری اور سیاسی ظرف پر حاجی صاحب کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی، سیاسی ظرف کا دوسرا مظاہرہ میاں نواز شریف نے کیا، الیکشن سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لفظوں کی خوفناک جنگ جاری تھی، عمران خان میاں برادران کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے رہے اور میاں برادران انھیں کھلاڑی، مداری اور زرداری کہتے رہے مگر الیکشن کے تین دن بعد میاں نواز شریف نے عمران خان کی عیادت کے لیے شوکت خانم اسپتال جا کر سیاست کی نئی بنیاد رکھ دی، عمران خان نے بھی غصہ تھوک کر مفاہمت کا سلسلہ آگے بڑھا دیا، یہ رویہ اب آگے بڑھنا چاہیے۔

میاں نواز شریف کو اب الطاف حسین کو فون کر کے ان کی خیریت بھی معلوم کرنی چاہیے، انھیں صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کرنی چاہیے، مخدوم یوسف رضا گیلانی کا صاحبزادہ اغواء ہو چکا ہے، میاں صاحب کو ان سے بھی اظہار ہمدردی کرنا چاہیے اور میاں نواز شریف کو چوہدری شجاعت حسین، مولانا فضل الرحمن اور منور حسن سے بھی ملاقات کرنی چاہیے تاکہ حکومت بننے سے قبل ماضی کے تمام گلے شکوے دفن ہو جائیں اور ملک آگے بڑھ سکے، ہم نے سیاست کے گندے پوتڑے دھوتے دھوتے پانچ قیمتی سال برباد کر دیے ، ملک کے اگلے پانچ سال اس سیاسی منافرت کی نذر نہیں ہونے چاہئیں، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا، ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں اور اگر حکومت ان پر توجہ دینے کے بجائے پچھلی حکومت کی طرح بیان بازی، میڈیا کے ساتھ جنگ، عدلیہ سے لڑائی اور سیاسی جماعتوں سے پنجہ آزمائی میں الجھ گئی تو پھر حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ ملک کا بیڑا بھی غرق ہو جائے گا۔

ہم نئے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں اور ہمیں نئے پاکستان کی تبدیلیوں کا اعتراف کرنا ہوگا، نئے پاکستان کی پہلی تبدیلی عوامی مینڈیٹ ہے، ہمیں ماننا ہو گا پاکستان مسلم لیگ ن سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے، اس کامیابی کا اسی فیصد کریڈٹ میاں شہباز شریف کو جاتا ہے، اگر میاں شہباز شریف دن رات ایک نہ کرتے اور یہ پنجاب میں گڈ گورننس کی مثال قائم نہ کرتے تو شاید آج میاں نواز شریف وفاق میں حکومت نہ بنا رہے ہوتے، مجھے کل پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر قائد بتا رہے تھے ،،ہمارے پاس اگر ایک میاں شہباز شریف ہوتا تو ہم دیکھتے کون مائی کا لال ہمیں الیکشن میں شکست دیتا ہے،، میاں شہباز شریف کو پنجاب دوبارہ مل چکا ہے، یہ اب مزید پانچ سال اس صوبے کی خدمت کر سکتے ہیں، انھوں نے اگر ان پانچ برسوں میں پنجاب کے ہر شہر کو لاہور بنا دیا تو پاکستان مسلم لیگ ن کا سیاسی سفر جاری رہے گا ورنہ دوسری صورت میں یہ ان کا آخری الیکشن ثابت ہو گا اور یہ 2018ء میں اسی انجام سے دوچار ہو جائیں گے جس کا شکار آج پاکستان پیپلز پارٹی ہوئی۔

نئے پاکستان کی دوسری تبدیلی پاکستان تحریک انصاف ہے، پاکستان تحریک انصاف نئی سیاسی قوت بن کر ابھر چکی ہے، عمران خان نے الیکشن میں حیران کن کامیابی حاصل کی، کروڑوں ووٹروں نے انھیں ووٹ دیے، یہ الیکشن میں زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر سکے مگر یہ حقیقت ہے ملک کے نوے فیصد حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار دوسرے نمبر پر آئے، پی ٹی آئی کے 25 امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں سے چند سو یا چند ہزار ووٹ پیچھے تھے اور اگر عمران خان الیکشن سے تین دن قبل زخمی نہ ہوتے تو یہ مارجن بھی ختم ہو جاتا اور یوں پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ ن کا فاصلہ مزید کم ہو جاتا لیکن اس کے باوجود عوام نے ملک کا مشکل ترین صوبہ عمران خان کے حوالے کر دیا، عمران خان صوبہ خیبرپختونخوا میں اپنا ویژن، اپنی اہلیت ثابت کر سکتے ہیں، یہ وہاں اپنی حکومت بنائیں، اپنے تبدیلی رضا کاروں کو موبلائز کریں اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حالت بدل دیں، مجھے یقین ہے اگر عمران خان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کرا دیے، لاء اینڈ آرڈر مثالی بنا دیا، دہشت گردی ختم کرا دی، ڈرون حملے رکوا دیے اورطالبان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا تو صوبے کی صورتحال آئیڈیل ہو جائے گی، یہ آئیڈیل صورتحال عمران خان کی سیاست کو پورے ملک تک پھیلا دے گی اور میاں نواز شریف کی ہر غلطی عمران خان کو مضبوط بنائے گی اور یوں پانچ سال بعد ملک عمران خان کا ہو گا، نئے پاکستان کی تیسری تبدیلی پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا مینڈیٹ ہے، عوام نے دونوں جماعتوں کو آخری موقع دے دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی مگر پانچ سال کی بیڈگورننس اور کرپشن نے قومی پارٹی کو صوبائی پارٹی بنا دیا، ایم کیو ایم الیکشن سے قبل کراچی اور حیدر آباد کی واحد سیاسی قوت تھی مگر ان الیکشنز میں پاکستان تحریک انصاف بھی کراچی کی شیئر ہولڈر بن گئی، پی ٹی آئی کے کارکن پچھلے چار دنوں سے تین تلوار پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں اور یہ دھرنا ہر گزرتے لمحے ایم کیو ایم کی طاقت کو للکار رہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے پاس خود کو ثابت کرنے کا آخری موقع ہے، یہ لوگ ماہر، ایماندار اور ویژنری لوگوں کو سامنے لائیں، مصطفی کمال جیسے لوگوں کو اقتدار دیں، سندھ میں گورننس کا شہباز شریف سے بہتر ماڈل متعارف کروائیں اور ملک گیر جماعت بن جائیں، ہم اویس ٹپی پر سو اعتراض کر سکتے ہیں مگر ان میں سندھ کا شہباز شریف بننے کی اہلیت موجود ہے، اگر پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے سندھ کو بدل دیا تو میاں نواز شریف اور عمران خان کی سیاسی غلطیاں انھیں توانا کرتی جائیں گی اور یوں یہ ایک بار پھر وفاق تک پہنچ جائیں گی بصورت دیگر اگلا الیکشن ان دونوں پارٹیوں کا آخری الیکشن ثابت ہو گا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر بلوچستان کی مدد کرنا ہو گی، بلوچستان کے مسائل سنجیدہ بھی ہیں اور گھمبیر بھی، ہمیں بلوچوں کی آواز پر توجہ دینا ہوگی، پاکستان کا ،،ستان،، بلوچستان سے لیا گیا تھا اور ہم نے اگر خدانخواستہ بلوچستان کھو دیا تو پھر ہم صرف ،، پاک،، رہ جائیں گے اور یہ بنگلہ دیش کے بعد ملک کے دوسرے بازو کی قربانی ہو گی اور یہ حقیقت ہے آپ کی ٹانگیں خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں یہ آپ کا بازو نہیں بن سکتیں اور بلوچستان ہمارا بازو ہے۔

میاں نواز شریف کے پاس بہت اچھے لوگ ہیں، مجھے یقین ہے اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اسحاق ڈار، چوہدری نثار علی خان، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، پرویز رشید، شاہد خاقان عباسی اور مہتاب عباسی جیسے لوگ ہوتے تو یہ کبھی اس انجام کا شکار نہ ہوتی، میاں صاحب کے پاس ایسے اچھے لوگوں کی لمبی فہرست ہے، اگر میاں صاحب نے ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں، یہ عاجزی، انکساری، نرمی اور لچک کا مظاہرہ کرتے رہے، یہ عدالت اور میڈیا کے جائز کردار کو تسلیم کرتے رہے، انھوں نے فوج کے ساتھ محاذ آرائی نہ کی، یہ صوبوں کو مرضی کے مطابق کام کرنے کا موقع دیتے رہے، انھوں نے اہل لوگوں کو اہم مناصب پر فائز کیا اور انھوں نے محمود اچکزئی جیسے شخص کو قومی اسمبلی کا اسپیکر اور خیبر پختونخوا یا سندھ کے کسی ایم این اے کو ڈپٹی اسپیکر بنا دیا اور عمران خان کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سونپ دی، وفاقی محکموں میں اہل اور ایماندار لوگ تعینات کر دیے اور ان لوگوں کو کھل کر کام کرنے کا موقع دے دیا تو کمال ہو جائے گا اور پاکستان واقعی نیا پاکستان بن جائے گا ، ورنہ دوسری صورت میں خوشامدی میاں صاحب کو ایک بار پھر خلافت جالندھریہ کی طرف لے جائیں گے اور میاں صاحب اگر ایک بار اس موٹروے پر چڑھ گئے تو پھر ان کی واپسی نہیں ہو سکے گی کیونکہ قدرت ہر بار نرمی نہیں کرتی، یہ ہر بار توبہ کے لیے اپنے دروازے نہیں کھولتی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں