پیپلزپارٹی کیوں ہار گئی؟

فرخ سہیل گوئندی
فرخ سہیل گوئندی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

گیارہ مئی 2013ء کو پاکستان میں دسویں بار عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ان انتخابات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال پاکستان میں قائم پچھلی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی گزشتہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا۔ عوام نے ووٹ کے ذریعے دواہم فیصلے کیے، ایک یہ کہ کارکردگی کی بنیاد پر پچھلی حکومتوں کو مسترد کرکے دوسری سیاسی قیادت کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے اور دوسرا یہ کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ایک نئی جماعت (پاکستان تحریک انصاف) کے وجود کی تصدیق کردی۔

اب پاکستان تحریک انصاف، ایک طرف پنجاب میں دوسری بڑی جماعت کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں داخل ہو گئی ہے اور دوسری طرف صوبہ خیبر پختون خوا میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کی سیٹوں کے حوالے سے ایک بار پھرملک کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی، صوبہ سندھ تک محدود ہوگئی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی حالیہ انتخابات میں دو وجوہات کی بنیاد پر اس سبق آموز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ ایک وجہ تو پی پی پی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور کرپشن کی داستانیں ہیں اور دوسری وجہ پی پی پی کی اقتدار پر براجمان قیادت کا اپنی جماعت، کارکنوں اورووٹرز کے ساتھ عدم رابطہ ہے۔

پارٹی کی قیادت بنیادی طور پر صدرمملکت جناب آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں تھی، انہوں نے صرف اور صرف اقتدار کی سیاست پر انحصار کیا اور ان کی تمام تر کوششوں کا مرکز اپنی حکومت کو قائم و دائم رکھنا اور عوامی مسائل کو حل کیے بغیر اپنی سیاسی تاریخ کے درخشندہ کرداروں کے پراپیگنڈا کے ذریعے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ناکام کوشش تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اقتدار کے ایوانوں سے مستفید ہونے والے کاروباری حضرات تک محدود رکھا اور اپنے اردگرد جمع کرپٹ اور نااہل ساتھیوں کو عملاً اقتدار کے ساتھ پارٹی کے قائدین کے طور پر پیش کیا۔

آصف علی زرداری نے اپنے اردگرد ایسے لوگوں کا ہالہ بنائے رکھاجنہوں نے ان کو پارٹی کی تنظیم، کارکنوں، ووٹرز اور عوام سے دُور کر دیا، یوں پی پی پی جو پاکستان میں سب سے بڑا سیاسی ڈھانچا رکھتی ہے، عوام میں غیرموثر کر دی گئی اور عوامی رابطے کا پُل توڑ دیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد ہی عوامی فلاح کے فلسفے پر تھی، لیکن وہ اس بار عوامی مسائل کو حل کرنے سے دُور ہوگئی۔ پارٹی کے نام پر حکومتوں میں شامل دولت والوں اور مزید دولت اکٹھی کرنے والوں کا راج قائم ہوگیا۔ ملک کو درپیش مسائل میں اضافہ ہوا۔

پی پی پی حکومت آئینی یا دستوری سیاست کے گرداب کو حل کرنے پر یہ یقین کیے بیٹھی تھی کہ عوام آئینی ترامیم کو جمہوریت کا حاصل سمجھتے ہیں حالانکہ عام آدمی کے لیے جمہوریت کی حتمی تعبیر اس کے روزمرہ کے مسائل کا حل ہے جس کی طرف پی پی پی نے پانچ برسوں میں کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اپنی کامیابی کا اہم اور فیصلہ کن ہتھیار سمجھ لیا۔

پی پی پی حکومت نے اقتدار کی سیاست کی شطرنج کھیلتے کھیلتے عوامی سیاست کی شطرنج میں عبرت ناک شکست کا سامنا کیا ہے جس پر پارٹی کا کیڈر ایک عجیب کیفیت کا شکار ہے۔ یہ کیفیت پارٹی کی حالیہ قیادت پر غصے اور ناراضی کی صورت میں ہے کیونکہ پارٹی کی حالیہ قیادت نے تنظیمی ڈھانچے، قومی، صوبائی ، ضلعی اور نچلی سطح پر انحصار کرنے سے مکمل گریز کیا۔ انہوں نے ایوانِ صدر میں کلرک نماحضرات اور وزارتوں میں شامل نااہل اور کرپٹ وزراء کو پارٹی کا Vanguard تسلیم کیا جن کا پارٹی کی Dynamics سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں تھا۔

پیپلزپارٹی کے دونوں وزرائے اعظم اور ان کی کابینہ، عوام سے رابطے اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے سے تقریباً اجتناب برتتے رہے کیوں کہ ’’گلشن کے کاروبار‘‘میں پارٹی کی تنظیم اور کارکنوں کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

’’گلشن کا کاروبار‘‘ کرنے والی حکومتی قیادت اور ایوانِ صدر میں بنے صدارتی ہالے کا پارٹی کے نظریے سے تعلق نعرے کی حد تک ہی تھا۔پی پی پی حکومت اپنے نظریے اور اس پر عمل درآمدسے کوسوں دُور نظر آئی، وہ یہ یقین کیے بیٹھی تھی کہ اقتدار کے تسلسل کے لیے عوام سے زیادہ بڑے بڑے ٹائیکون سے سیاسی خریدوفروخت کی ضرورت ہے۔ عملاً پی پی پی کی حالیہ قیادت ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے کو مسترد کرتے ہوئے سرمائے کی سیاست کی راہ پر گامزن ہوگئی۔ اسی لیے 11مئی کو عوام نے پی پی پی کی حالیہ قیادت کو ایک تاریخی سبق دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

پی پی پی کی حالیہ قیادت اپنی تاریخ کے Glorified باب کے ذریعے بھی عوام کو اپنی طرف مائل کرنے میں ناکام رہی۔

عوام کو بھی یقین ہوا کہ اس شان دار تاریخ کے بیان کے ذریعے جو لوگ دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں، ان کا اس شان دار تاریخ سے اتنا ہی تعلق ہے کہ وہ اس تاریخ کے صرف سوداگر ہیں اور اُن کا اس شان دار تاریخ میں عملاً کوئی کردار نہیں۔ کرپشن کے مقدموں کے نتیجے میں سزائیں بھگتنے والے کبھی اُن کے قائد نہیں ہوسکتے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کو اس عوامی فیصلے کے بعد درحقیقت نئے سرے سے منظم ہونا ہوگا۔ انہیں خود کو عوامی فلسفے اور نظریے سے جوڑنے اور عوامی سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے پارٹی اُن لوگوں کو حوالے کرنی ہوگی جواس پارٹی کے حقیقی وارث ہیں، جو سرمایہ اور دولت اکٹھی کرنے کی بجائے عوامی فلاح پر یقین رکھتے ہیں۔ پارٹی کو اجتماعی قیادت کے ذریعے زندہ رکھنا پارٹی اور وفاقِ پاکستان دونوں کے لیے ضروری ہے۔ عوام نے 11مئی کو ووٹوں کے ذریعے جو فیصلہ کیا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام ہمیشہ درست فیصلے کرتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں