سیاق و سباق اور صاف و شفاف

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گزشتہ روز اخبارات نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ بھائی الطاف حسین سے منسوب یہ بیان، مشورہ یا تجویز نمایاں طور پر شائع کی کہ ”اگر کراچی کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو اسے (کراچی کو) پاکستان سے الگ کر دیا جائے۔ بھائی الطاف حسین نے دوسرے روز ایک بیان جاری کیا کہ انہوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں۔ ان پر اس مطالبے کا الزام عائد کرنے والوں کو ان کے ٹیلی فونک خطاب کو سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھنا چاہئے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اردو اور انگریزی کے اتنے بہت سارے ذمہ دار اخبار نویسوں سے یہ کوتاہی کیسے ہو گئی کہ وہ بھائی الطاف حسین جیسے اہم سیاستدان کے بیان کو ”سیاق و سباق“ سے اس قدر باہر لے گئے کہ سارا مضمون ہی الٹ گیا۔ اعتراف کرتا ہوں کہ بھائی الطاف حسین کا یہ خطاب میں نے بھی سنا اور میری سمجھ میں بھی وہی کچھ آیا جو دیگر اخبار نویسوں نے سمجھا اور اس میں ”سیاق و سباق“ کا بھی کچھ زیادہ الجھاؤ نہیں تھا۔ یہ خطاب سننے کے بعد یہ خیال ضرور آیا کہ بھائی الطاف حسین اپنے اس خطاب کی وضاحت ضرور فرمائیں گے کیونکہ کچھ بیانات اگر واجب ِ تردید نہیں ہوتے تو واجب ِ وضاحت ضرور ہوتے ہیں اور یہ بیان بھی ان کے کچھ ایسے ہی بیانات میں شامل ہے۔

اس بیان کے حوالے سے کچھ اور شکایات بھی دولت مشترکہ کے سربراہ برطانیہ کے حکمرانوں تک پہنچی ہیں جن کا سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ انہیں بھی شاید اس بیان یا ایسے بیانات کو سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھنے کا مشورہ دیا گیا ہو گا اور بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ کے حکام ان بیانات کو ان کے ”سیاق و سباق“ میں رکھ کر دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی سیاسی پناہ میں آئے ہوئے کسی پناہ گیر کو کسی بیرونی ملک کے خلاف بغاوت کرنے یا انتشار برپا کرنے کے مشورے دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ایک بہت ہی محتاط اندازے کے مطابق فیلڈ مارشل ایوب خاں کے دور حکومت میں اتنی بار ”بنیادی جمہوریت“ کا ذکر نہیں ہوا ہو گا اور جنرل ضیاء الحق کے دور حکمرانی میں اتنی بار ”اسلامائزیشن“ کا تذکرہ نہیں ہوا ہو گا جتنا زیادہ ذکر ”صاف شفاف انتخابات“ کا موجودہ نگران حکومت اور پاکستان الیکشن کمیشن کے اختیارات کے دوران ہوا ہے لیکن 2013ء کے عام انتخابات کے بارے میں اگر اجتماعی یا مجموعی تاثرات جمع کئے جائیں تو صاف اور شفاف انتخابات کچھ زیادہ صاف اور شفاف دکھائی نہیں دیں گے بلکہ بعض دھاندلیاں بالکل شفاف (آر پار دکھائی دینے والی بھی ) ہوں گی۔

اسفند یار ولی کا یہ کہنا بالکل بے بنیاد نہیں ہو گا کہ 2013ء کے عام انتخابات الیکشن کمیشن پاکستان کی نگرانی کی بجائے طالبان کی نگرانی میں منعقد کرائے گئے ہیں۔ ایک معتبر غیر ملکی نگران ادارے نے 2013ء کے عام انتخابات کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے نتائج بعض علاقوں میں اور کچھ انتخابی حلقوں میں سو فیصد ووٹروں سے بھی زیادہ تھے جو کہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ میرے ایک عزیز فرماتے ہیں کہ اگر بھائی الطاف حسین کے خطابات کو ”سیاق و سباق“ کے اندر رکھ کر دیکھا جائے تو کوئی پریشانی اور کسی قسم کی حیرت نہیں ہو گی۔ بے شک آزمالیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size